حمد باری تعالیٰ

یہ شادی نہیں ہو سکتی:شفیق زادہ


خبری نےبتایا کہ سلمان خان کی والدہ کترینہ کو بہو بنانے کی خواہش مند ہیں ۔ وطن عزیز میں بھی ہر ماں اور بہن کا یہی خواب ہے ۔ خود ہم بھی طویل عرصہ تک یہی ارمان اور کترینہ کو دل میں بسائے رہے کہ امّاں کی دلہن بنائیں گے تو کترینہ کو ورنہ ، نہ نہ اور نہ ۔ وہ تو بھلا ہو ا کہ دن میں کئی مرتبہ آئینہ دیکھتے دیکھتے اور پھر اس کی تصویر دیکھ دیکھ کر ہمیں سمجھ آنے لگی کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔ بھلا کبھی مخمل میں بھی ٹاٹ کا پیوند لگ سکتا ہے ۔ ارے صاحب کہاں ہم راجہ بھوج اورکہاں وہ گنگو تیلی۔ اُس کی تو کوئ بھی چیز ہم سے میل نہیں کھاتی، نہ رنگ نہ روپ، نہ بال نہ کھال،نہ چال و ڈھال نہ ناز و نخرہ۔ اور تو اور اس کا سوشل اسٹیٹس بھی ہمارے سوشل اسٹیٹس سے میچ نہیں کرتا۔ اب یہی دیکھ لیجئیے کہ ہمیں چھ ارب لوگوں کی اس بھری پری دنیا میں بہت ہی چُنیدہ اور خاص الخاص ایک سو تیس معززین فالو کرتے ہیں، اور اُس کے پیچھے کروڑوں سوشیو پیتھ ٹائپ کے فارغ البال َکھسکے قسم کے ’ لنٹھ ‘ لوگ جنہیں لگتا ہے دنیا میں کوئی اور کام ہی نہیں سوائے اُس کی مدح سرائ کرنے کے ۔ پیارے میاں نے بھی اشاروں کنایوں میں باورکرایا تھا کہ ہم اس کے ساتھ گھر بسانے کے خیال سے باز رہیں، ورنہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں ہمارے جوڑے کو ’ پہلوئے حور میں لنگور ‘ سے تشبیہہ دی جائے گی۔ ویسے تو ’ رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ ‘ کے مِصداق ہمیں اپنی ٹرولنگ و تماشے کی کبھی کوئی پروا نہیں رہی ، ہم یہ طعنے تشنیع ہینڈل کرتے رہے ہیں ، مگر کوئی ہماری کیٹ کو ’ لنگور ‘ بولے ، ہم سے برداشت نہ ہوگا۔ اس کے رد عمل میں ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، کچھ ،بھی ، انٹر نیٹ پیکیج منقطع کر سکتے ہیں ،فیس بک ، انسٹا گرام کا ٹُنٹنا بند کر سکتے ہیں، رو رو کر آنکھیں لال کر سکتے ہیں، گہری گہری سانس بھر کے اپنا مردانہ سینہ بھی بلیک اینڈ وہائیٹ فلموں کی شرمیلی ہیروئن کی طرح پُھلا پچکا سکتے ہیں، یعنی کچھ بھی کر سکتے ہیں، کچھ بھی مطلب کچھ بھی ۔ ہم تو ویسے بھی نسلاً جنگجو ہیںمحبت اور جنگ میں سب جائز ہے ، ہار نا بھی اور شکست ماننا بھی ۔ حالا نکہ مجھے بھی ادارے روکتے ہیں پیش قدمی سے ، تمہارے ساتھ بھی گئی گزری فلموں کے سائے ہیں ۔ لگتا ہے ہم تم باِبِ آزادی کے دونوں طرف سالوں اور دیورو ں کےمقابلہ ’ لت اُٹھائی ‘ دیکھتے دیکھتے ہی جوانی اور جدائی کے قیمتی سال گود بھرائی کے بغیر ہی گذار دیں گے ۔ تیرے میرے سپنوں کے محل میں ’ دائی‘ کا داخلہ کبھی نہیں ہو پائے گا۔ کیوں کہ نہ تم ہماری وائف بنو گی اور نہ ہمارے گھر میں کبھی مِڈ وائف آئے گی۔ ہمارے سماج میں کرتار پور کوریڈور تو کھل سکتا ہے پر دل کی گلیوں کے در بند ہی رکھے جاتے ہیں ۔
بس اب ہماری طرف سے ’انکار ‘ ہی سمجھو۔ کیٹ! ہنی تم سلمان ٹائپ کے کسی گذارے لائق سے سیٹنگ کر لو ، اور ہمیں بھول جاؤ، تمہار اور ہمارا کون بنے گا پتی کا بچپنی ڈرامہ یہی سماپت ہوتا ہے ، ہماری تمہاری ملک کی سرحدوں کی لکیریں تو ملتی ہیں پر قسمت کی لکیریں نہیں ملتیں۔ میں جانتا ہوں ، ’ تم مجھے یوں بھلا نہ پاآآؤؤ گے ‘ مگر پھر بھی ، وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن، اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا ۔ اپنا اور اپنے کھانے پینے کا خیال رکھنا، میٹھا کھانے اور میٹھی باتوں سے بچنا ، دونوں ہی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اور ہاں اکشے کمار سے زرا بچ کر رہنا، بہت چپِکو ہے، سنگھ از کنگ میں کمینے نے بہت جلایا تھا، اوپر سے فیس بکی سیاسی پھڈّوں کی وجہ سے برنال بھی شارٹ چل رہی تھی، بس حال یہ تھا کہ جلن اٹھتی تھی تو بیٹھ جاتا تھا، بیٹھ جاتا تھا تو جلن اٹھتی تھی ۔ مس یو جب تک کہ یو آر مِس !
دعاگو
بہ قلم خود مع دُکھی دل و پُرنم آنکھ کے ساتھ
عا شق ڈاٹ پی کےفرام کراچی شریف

فیس بک تبصرے