حمد باری تعالیٰ

عمران حکومت ایک ورکر کی نظر میں – عماد بزدار

تحریک انصاف کے سو دن پورے ہونے پر میں ایسا کچھ نہیں کہوں گا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے حکومت نے کمال کر دیا۔
۔
نہ میں یہ لکھوںگا کہ دوست ملکوں سے فنڈز ارینج کر کے خود کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے محفوظ رکھ کر حکومت نے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے
۔
نہ ہی کسی گردشی قرضے، تجارتی خسارے کے اعدادوشمار میں بہتری کی کوئی نوید سناؤںگا ویسے بھی یوسفی صاحب فرما گئے کہ جھوٹ کی جو تین قسمیں ہیں اس میں جھوٹ، سفید جھوٹ کے بعد حکومتی اعدادوشمار کا نمبر آتا ہے
۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ان شعبوں میں حکومت نے کام نہیں کیا یا کسی قسم کی بہتری کے لیئے کوشاں نہیں ہیں۔۔ یقینناً ہیں اور شعبوں میں بہتری کا فائدہ الٹیمیٹلی عام آدمی کا ہی ہونا ہے لیکن میری توقعات عمران خان سے اس ہٹ کر ہیں
۔
میں پانچ سال بعد یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ میرا بینچ مارک نون لیگ کی حکومتی پرفارمینس ہو یعنی میں کہوں دیکھیں نون سے تو ہم نے بہتر پرفارم کیا۔۔ ہر گز نہیں
۔
مجھے دو نہیں عمران سے ایک پاکستان چاہیئے۔ یہ ایک مشکل سفر ہے میں جانتا ہوں عمران کے ارد گرد منحوس اور مکروہ چہرے گھیرا لگائے بیٹھے ہیں عمران کو باہر ہی سے نہیں پارٹی کے اندر بھی، چاہے اس کی شکل جیسی بھی ہو ِ مزاحمت کا سامنا ہو گا لیکن جیسے خان صاحب نے پہلے بہت سارے ناممکن ممکن کر دکھائے ایسے ہی اگر اخلاص کے ساتھ کوشش کی تو یقینناً یہاں بھی کامیابی ان کے قدم چومے گی۔
۔
نون اور پی پی کے مقابلے میں نسبتاً بہتر پرفارمینس میرے کسی کام کی نہیں۔ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر خان صاحب کے وسیم اکرموں کو خان صاحب کے کہنے پر ووٹ دیئے اور صرف اس لیئے دیئے کہ خان صاحب کا اقتدار میں آنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔۔۔ اقتدار میں تو آگئے لیکن بقول منیر
۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
۔
بڑی مشکل سے بنائی گئی ایک کمزور مخلوط حکومت ہے بڑے بڑے اقدامات کیسے اٹھائے؟ سٹیٹس کو کی قومتیں ہر حربہ آزمایئں گے اور آزما رہی ہیں ان کی پوری کوشش ہے کہ لوگوں میں مایوسی بانٹی جائے وہ اپنی تمام قوت صرف کریں گی اور کر رہی ہیں کہ تبدیلی کے اس استعارے کو ناکام کر کے دکھایا جائے اور پھر جمہوریت کے نام پر آپسمیں ونڈ کر کھانے پینے کا پروگرام جاری رکھا جائے۔
۔
مجھے 100 دنوں میں کچھ بہتری یقینناً نظر آئی۔لیکن ٹھہریں پہلے ایک واقعہ سناتا ہوں۔۔
۔
“کامیڈی نائٹ ود کپل” میں وسیم اکرم خان صاحب کے کرکٹ کے زمانے کا ایک واقعہ سنا رہے تھے۔ وسیم کے بقول میں باؤلنگ کر رہا تھا اور رچرڈز بیٹنگ کر ہا تھا۔ مجھے خان صاحب نے کہا اسے باؤنسر مارو۔ میں نے باؤنسر ماری اور ساتھ سلیجنگ بھی کی۔ اس پر رچرڈز غضبناک ہو گیا اور مجھے کہا ” آئی ول کل یو”۔۔ میں ڈر کر خان صاحب کے پاس گیا جو مڈ آن پر فیلنگ کر رہا تھا میں نے کہا” سکپر وہ کہہ رہا ہے کہ وہ مجھے مار دے گا” تو خان صاحب نے کہا ” نہیں نہیں ڈرنے کی کوئی بات نہیں میں تمھارے ساتھ ہوں اور باؤنسر مارو”
۔
میں نے ایک اور باونسر ماری اور پھر تیسری بال پہ اسے آؤٹ کر دیا۔ رچرڈز غصے کی حالت میں ڈریسنگ روم میں واپس چلا گیا۔ اننگز ختم ہو چکا ہم بھی واپس چلے گئے۔
۔
میں ڈریسنگ روم میں تھا ابھی بوٹوں گے تسمے بھی نہیں کھولے تھے کہ کسی نے کہا باہر آجاؤ کوئی آپ کو بلا رہا ہے
۔
میں نے پوچھا کون؟
۔
کہنے لگا خود آ کر دیکھ لو
۔
جیسے ہی باہر نکلا تو دیکھا رچرڈز بلا کندھے پر لٹکائے میری انتظار میں کھڑا ہے
۔
میں ڈر کر خان صاحب کے روم میں داخل ہوا اور کہا سکپر وہ مجھے مارنے آیا ہے تو خان صاحب نے جواب دیا ” تمھاری لڑائی ہے تم خود جا کر لڑو”
۔
میں خان صاحب سے آج بھی یہی رویہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے موجودہ وسیم اکرم جب اداروں کے شکنجے میں آیئں اور گھبرا کر آپ سے مدد مانگنے آیئں تو آپ یہی جواب دیں کہ “تمھاری لڑائی ہے خود جا کر لڑو”
۔۔
اس معاملے کچھ خوش آیئند باتیں ضرور سامنے آئی ہیں مثلاً اگر میں 6 مہینے پہلے کا منظر نامہ سوچوں تو اس وقت کی حکومت کے کسی بھی کارندے کو کوئی ہاتھ بھی لگاتا تو نوحے مرثیے شروع ہو جاتے کہ دیکھو جی فلاں ادارہ فلاں کے کہنے پر یہ کر رہا حکومت کو چلنے نہیں دیا جا رہا لیکن اگر اس وقت دیکھوں تو 100 دن کے اندر اندر سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ دو دفعہ سپریم کورٹ کے سامنے حاضری دے چکے اور معافی مانگ کر اپنی جان چھڑا چکے
۔
بابر اعوان استعفیٰ دے چکے۔ اعظم سواتی کے خلاف خود تحریک انصاف والوں نے کمپین چلائی اور مجبوراً اسے اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔ خان صاحب کی بہن عدالت میں پیش ہوئی اور اسے تقریباً تین کروڑ جرمنے کی سزا ہوئی اس کے بارے تحریک انصاف کے کسی حامی درباری لکھاری نے لیڈر بننے کی پیشین گوئی نہیں کی۔۔
۔
شاہد مسعود (ایک انتہیائی جھوٹا آدمی) جو کہ ہمیشہ عمران کا حامی رہا عمران کے حق میں بولتا رہا ،آج کل ہتھکڑیاں لگائے پھر رہا ہے ذرا سوچیں اگر کسی جیو کے صحافی کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہوتا تو اس وقت “آزادی صحافت کس قدر خطرے میں پڑ جاتی”
۔
صرف 100 دن کے اندر اندر اتنا کچھ ہوا اور کہیں سے مظلومیت کی صدایئں نہیں اٹھیں، کسی نے مرثیئے نوحے نہیں لکھے کہ ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہمارے وزیروں کو مستعفی ہونا پڑا الٹا اس سب کو تحریک انصاف کے حامیوں نے خوش دلی سے قبول کیا گورنمنٹ نے کوئی اعتراض نہیں یہ سب کچھ دیکھ کر امیدیں قائم ہیں کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔
۔
میری خواہش ہے کہ ادارے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوں ، ہر مجرم، چاہے اس کا تعلق جس سیاسی پارٹی سے بھی تعلق ہو ،قانون کی گرفت میں آئے۔ یقین کریں جب تک تحریک کے اندر موجود مجرم قانون کی گرفت میں نہیں آیئں گے تب تک یہی تاثر جائے گا کہ انصاف کا عمل یک طرفہ ہے۔ میں بحیثیت تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر بھی یہی کہوںگا کہ مجھے نواز زرداری کے کرپٹ ہونے میں رتی برابر بھی شک نہیں اسی یقین کے ساتھ میں یہ بھی کہونگا کہ خود تحریک میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جب تک وہ لوگ قانون کی گرفت میں نہیں آیئں گے احتساب کا عمل یک طرفہ ہی سمجھا جائے گا اور یہ کرپٹ اشرافیہ مظلومیت کارڈ کھیل کر مزید طاقتور ہوتی جائے گی
۔
ہم چاہتے ہیں یہ ملک عملاً ویسا بنے جیسا کہ جناح صاحب نے بناتے وقت سوچا تھا۔ یہاں معاشی اور معاشرتی انصاف ہو اور یہاں ہمارے ہر ہم وطن کے لیئے “حیات جرم نہ ہوزندگی وبال نہ ہو”
۔
جی چاہندا اے موت توں پہلاں
ایسا نگر میں ویکھاں
جس دے باسی اک دوجے نال
ذرا نہ نفرت کردے ہون
جس دے حاکم زَر دے پچھے
سپاں وانگ نہ لڑدے ہون
جتھے لوکیں مرن توں پہلاں
روز روز نہ مردے ہون
۔

فیس بک تبصرے