حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

حالیہ بارشیں اور گندم کی فصل:- حسام درانی

ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی کی خوراک کی تمامتر ضروریات ملک کا زرعی شعبہ ہی پورا کرتا ہے۔ اور وقت پر ہونے والی بارشیں جہاں ان فصلوں کے لیے باعث رحمت ہوتی ہیں وہیں بے وقت ، زیادتی یا کمی بھی ان فصلوں کی پیدوار پر انتہائی اثر ڈالتی ہیں۔
پاکستان میں کاشتکاروں کے لیے جہاں گنے، چاول اور کپاس کے ساتھ ساتھ گندم ایک ایسی فصل ہے جو کے نا صرف ان کے لیے پیسوں بلکہ سال بھر کے کھانے کا بھی ذریعہ ہے پاکستان سمیت ہمسایہ ملک میں بھی۔ اگر دیکھا جائے تو نقد آور فصلوں میں گندم وہ واحد فصل ہے جس کی پیدوار پر ہمیشہ نظر رکھی جاتی ہے ، اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال اس کی امدادی قیمت مقرر کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس فصل کی کاشت کی جا سکے ، امسال گندم کی فی من (40 کلو) قیمت 1300 روپے رکھی گئی ۔
ہر سال کی طرح امسال بھی پاکستان میں پانی کی کمی کے باعث زرعی علاقوں میں بارشوں کی ضرورت بڑھ گئی، کیونکہ نہروں میں اتنا پانی نہیں تھا کہ تمام تر علاقوں کو سیراب کر سکے دوسرے جن علاقوں میں بجلی کی سہولت نہیں وہاں پر زمینوں کو ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا گیا، لیکن ڈیزل کے بڑھتے ہوئے نرخ اس معاملے میں کاشتکاروں کے لیے مصیبت بن گئے کیونکہ اس وجہ سے پیداواری خرچہ میں بےتحاشہ اضافہ ہو گیا۔
اب اسکو مشیئت الہی کہا جائے یا کچھ اور جب گندم کی فصل کو پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اس وقت کی بارشیں نا صرف گندم کی فصل کی بہتر پیداوار کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، وہیں پانی کا خرچ بھی کم ہو جاتا ہے لیکن امسال جیسے ہی بارشیں شروع ہوئیں رکنے کا نام ہی نہیں لیا، جسکے باعث ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے جنوبی اضلاع میں سیلاب آیا جسکے باعث، بلوچستان میں پیاز اور کے پی کے میں ٹماٹر کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔
پنجاب کے تمام اضلاع میں بارشوں کا پانی کھیتوں میں کھڑا ہو جانے کے باعث جہاں گندم کی فصل خراب ہوئی وہیں ژالہ باری نے جنوبی علاقوں میں کھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی، اور مسلسل بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں نے کسانوں کی رہی سہی امیدوں پو بھی پانی پھیر دیا، ان تمام ناگہانی آفات کی وجہ سے پورے پنجاب میں فی ایکٹر گندم کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی واقعہ ہو ئی ۔
راقم ایک کاشتکار ہے اور جھنگ کے ایک نواحی گاوں میں کاشتکاری کر کے اپنا گزر اوقات کرتا ہے ، یہ گاوں 365 مربع اراضی پر مشتمعل ہے ، اور موسم کی خرابی کا بھی شکار ہوا، راقم اس علاقہ میں 50 کے قریب کاشتکاروں سے ملاقات اور اپنی فصل کی کٹائی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ امسال گندم کی فصل کی پیداوار میں فی ایکڑ تقریبا 15 سے 20 من گندم کی کمی آئی ہے
جیسے کہ پہلے ہی ذکر ہوا کہ امسال گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے فی من تھی اور اگر پچھلے پانچ سال کے جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد اور لاہور کی غلہ منڈیوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو سیزن میں گندم کی قیمت ہمیشہ سرکاری قیمت سے کافی کم ہوتی ہے لیکن امسال سیزن میں ہی گندم کی قیمت سرکاری قیمت سے بڑھ گئی ، مطلب ابھی پورے علاقہ میں گندم کی کٹائی پوری نا ہوئی تھی کہ قیمت 1350 روپے تک ہو گی جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں گندم کم آئی ہے
پچھلے پانچ سال تک قیمت کا یہ فرق 150 سے 200 روپے فی من تک کا ہوتا تھا لیکن اب سرکاری ریٹ تو 1300 روپے جبکہ مارکیٹ میں اسکی قیمت تقریبا 1400 روپے تک ہو گئی ہے ، اسی سلسلے میں تونسہ میں مقیم ایک کاشتکار دوست سے جب اس موضوع پر بات ہوئی توبقو ل انکے امسال بارشوں کے باعث کافی نقصان ہوا ہے لیکن حکومت وقت کو کچھ معلوم ہی نہیں کہ کیا ہوا ہے ۔ غریب کاشتکاروں جنکے پورے سال کا دارومدار ہی گندم کی فصل پر ہوتا ہے انکا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔
عمومی طور پر ہوتا ہے کہ اگر ملک میں کسی فصل کا موسمی حا لات و سیلاب کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے تو حکومت وقت اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دے کر نا صرف محصولات معاف کر دیتی ہے بلکہ کسانوں کو سبسڈی بھی دی جاتی ہے تاکہ کاشتکاروں کے نقصان کا کسی حد تک مداوا کیا جا سکے، لیکن موجودہ حکومت کو شاید زراعت کا نا تو معلوم ہے اور نا ہی کسی قسم کی دلچسپی لیکن حکومت میں شامل شوگر مافیا کو سبسڈی کی شکل میں کافی بڑی رقم جوتوں میں دال بانٹنے کے حساب سے ان کے اکاونٹس میں جمع کروا دی۔
آج صبح لاہور میں دو آٹے کی ثکی والوں سے ملاقات ہوئی جوکہ خالص آٹا مہیا کرتے ہیں ، بقول انکے اس سال گندم کی پیداوار کافی کم ہے اور اس وقت لاہور میں گندم کی فی من قیمت 1500 روپے ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو خدانخاستہ گندم کی قیمت 2000 روپے فی من تک پہنچ سکتی ہے، اور آٹا غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف ہم اگر ایک کاشتکار کے گندم کے خرچوں کا حساب کرتے ہیں جو کہ بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہے اور فصل کو پانی ٹریکٹر یا پیٹر انجن چلا کر لگاتا ہے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔
زمین کی تیاری کم از کم دو ہل فی ایکڑ 2000 روپے ، بیج گندم 3000، روٹر 1800، ڈی اے پی کھاد 4500، اسپرے جڑی بوٹی مار1000 ، یوریا کھاد 1400، نائٹروفاس 2400 کل خرچہ فی ایکٹر پانی اور مزدوری نکال کر 16100 روپے کا خرچ آتا ہے
اس سال کیونکہ بارشیں لیٹ ہوئیں اس لیے پہلے دو پانی کی قیمت بھی اس میں شامل کی جائے جو کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کے باعث کچھ یوں ہوگا، اگر 4 گھنٹے فی ایکڑ ٹیوب ویل چلایا جائے تو فی ایکڑ ڈیزل تقریبا 12 لیٹر استعمال ہوتا ہے جسکی قیمت 120 روپے کے حساب سے 1440، مطلب دو پانی کی قیمت 2880 روپے جمع کی جائے تو فی ایکڑ خرچہ 17980 تقریبا 18000 روپے فی ایکڑ آتا ہے ۔
اگر گندم کی فی ایکڑ پیداوار 30 من ہو تو اسکی کٹائی اور گہائی کا خرچہ
کٹائی +بندھائی کم از کم 4 من فی ایکڑ، تھریشر 15 واں حصہ 2 من ،
کل پیداوار 30 من
خرچہ 6 من ، تو کاشتکار کے پاس بقایا گندم 24 من فی ایکڑ
لیکن اگر ہم دوسری جانب حکومت کی طرف دیکھتے ہیں تو اسکے وزیر باتدبیر سرعام یہ بیانات دیتے نظر آتے ہیں کہ ملک میں ہونے والی بےوقت بارشیں وژالہ باری اور پہاڑوں پر برف باری ایک ایماندار حکمران کے آنے کی وجہ سے ہم پر رحمت ہیں ۔ لیکن انکو سوائے چاپلوسی کے کچھ نہیں آتا کیونکہ فرمان الہی ہے
” جب کسی قوم سے ناراض ہوتا ہوں تو نکمے کو حکمران اور بے وقت بارشیں دیتا ہوں “

فیس بک تبصرے