حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

وطنیت علامہ اقبال کی نظر میں – محمد عبداللہ

بہت سارے لوگ ایسے ہیں جب ان کے سامنے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ فتوٰی باز لوگ اقبال کی فلاسفی اور شاعری لے کر پاکستان پر چڑھ دوڑتے ہیں. اپنے آپ کو فکر اقبال کا سب سے بڑا مبلغ سمجھتے ہوئے مقابل کی سبھی باتوں کو رد کرتے جائیں گے. پاکستان کو جھٹلانے کے لیے اقبال کی شاعری اور افکار کی غلط تشریخ کرتے ہوئے امت اور خلافت پر بات لے جائیں گے. یہ لوگ اقبال کے اشعار پیش کرکے یہ باور کرائیں گے کہ جی دیکھو اقبال تو وطنیت کے قائل ہی نہیں تھے، اقبال تو سرحدوں کو مانتے نہیں تھے.
ان نام نہاد فکر اقبال والوں کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ فکر کو سمجھنے کے لیے دل و دماغ بھی اتنے ہی وسیع ہونے چاہیں جتنا کہ اقبال کی فلاسفی، آپ کے فتوٰی باز تنگ دماغوں میں اقبال کی شاعری آ ہی نہیں سکتی.
اپنی بات شروع کرنے سے قبل ایک بہت اہم اصول آپ کو بتا دوں کہ اقبال نہ صرف ہمارے بلکہ امت مسلمہ عظیم ترین شاعر تھے لیکن وہ نبی یا پیغمبر نہیں تھے بلکہ ایک عام انسان تھے اس لیے ہم ان کی صرف اچھی چیزوں کو لے سکتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کا کلمہ نہیں پڑھا کہ ان کی ہر بات کو اپنے لیے حجت سمجھیں.
باقی اقبال کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ہمیں اقبال کے حالات زندگی اور ان کی زندگی اور ان کی سوچ فکر میں وقوع ہونے والی تبدیلیوں کو لازمی طور پر پڑھنا چاہیے.
اقبال کی شاعری کے بنیادی طور پر تین فیز ہیں.
۱. جب وہ یہاں ہندوستان میں تعلیمی زندگی میں تھے تو تب وہ اور طرح کی شاعری کرتے تھے آپ ان کی نظمیں دیکھ سکتے ہیں. آپ کو ان کی نظموں شوخی و سرور نظر آئے گا.
جیسے سب سے اچھا ہندوستان ہمارا وغیرہ وغیرہ
۲. اقبال کی شاعری کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوتا جب وہ یورپ تشریف لے گئے اور یورپ کی معاشرتی برائیاں مگر دنیا میں ان کا عروج دیکھا اور امت مسلمہ کی زبوں حالی دیکھی تو پھر ان کی شاعری کا رخ بدلا پھر آپ کو ان کی شاعری میں ہندوستان اور نغموں ترانوں کی جگہ امت کے لیے ایک درد نظر آتا ہے ان کی اکثر نظمیں جو عالمگیریت کے حق میں نظر آتی ہیں وہ اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں.
۳. ان کی شاعری اور افکار کا تیسرا فیز اس وقت شروع ہوتا جب وہ دوبارہ ہندوستان آتے ہیں اور یہاں کے حالات دیکھتے ہیں. مسلمانان ہند کی پستی دیکھ کر دو قومی نظریہ پر ان کی سوچ مستحکم ہوتی ہے تو پھر ان کی شاعری اور افکار کا تیسرا فیز اسٹارٹ ہوتا ہے. جس میں واضح طور پر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں.
انیس سو تیس میں دیا جانے والا خطبہ الہٰ آباد تو اس کی واضح دلیل ہے اور اس کی بنیاد پر ان کو مصور پاکستان کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی تحریک کو ایک واضح جہت دینے والے اقبال ہی تھے. جداگانہ ریاست کی طرف اشارہ دینے والے اور اس کا واضح مطالبہ کرنے والے اقبال ہی تھے.
اس کے ساتھ ساتھ مولانا حسین مدنی کے ساتھ علامہ اقبال کی خط و کتابت کو بھی بطور جواز پیش کیا جاتا ہے تو اس کا بھی ہمیں ماخذ دیکھنا چاہیے کہ وہ بحث کس موضوع پر شروع ہوئی تھی، اس کا سیاق و سباق کیا تھا، مولانا حسین مدنی کا قیام پاکستان پر اعتراض کیا تھا اور علامہ اقبال کا موقف کیا تھا اور پھر یہ بحث کس نہج پر چلتی چلی گئی.
پھر آپ اقبال کی مسلم لیگ میں شمولیت اور تحریک پاکستان میں ان کا کردار دیکھیں گے تو آپ کو واضح طور پر اقبال کے نظریات کا پتا چلے گا کہ اقبال برصغیر پاک و ہند میں مذہب کی بنیاد پر ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا زبرست اور ٹھوس مطالبہ رکھتے تھے.
جب آپ اقبال کے افکار کو ان ریفرینسز کے ساتھ پڑھیں گے تو ان شاءاللہ آپ پر سوچ اور فکر کے کئی در مزید کھلیں گے.
باقی اقبال اور فکر اقبال سے محبت ہماری لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں. ہم شہر اقبال سے تعلق رکھتے ہیں. اقبال کے ہی کالج گورنمنٹ مرے کالج سے تعلیم حاصل کی ہے.
اور دوسری بات جب ہم بات پاکستان کی کرتے ہیں اس سے واضح طور پر امت ہی مراد ہوتی ہے. پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بہت ساری جہتیں ہماری نظروں سے اوجھل ہوتی ہیں اور ہمیں پتا نہیں ہوتا کہ امت مسلمہ کی نشاة ثانیہ کے لیے پاکستان کہاں کہاں کیا کیا کوششیں اور کاوشیں کر رہا ہے اس لیے ہم ایسی سوچ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں.
ان شاءاللہ امت کا درد میرے اور آپ سے زیادہ پاکستان کو چلانے والوں میں بھی ہے اور وہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اب یہ اور بات ہے کہ بہت ساری باتوں کا خواص کو پتا ہوتا ہم عوام ان سے بے خبر ہوتے ہیں.

فیس بک تبصرے