حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

یو ٹرن معذرت رجوع – حسام درانی

ایک گاؤں میں ایک کمہار کو نا جانے کہاں سے خیال آ گیا یا شاید کسی نے اسکے دماغ میں بات ڈال دی کے تمہارا بیٹا بہت خوبصورت جوان اور دانا ہے تم اس کی شادی اپنی برادری کی کسی ان پڑھ اجڈ گنوار سے کر کے اسکی زندگی برباد مت کرنا اور اس دن سے میاں کمہار اپنے سب سے توانا گدھے کو عربی النسل گھوڑا سمجھے اس پر بیٹھے گاؤں گاؤں پھرنے لگا۔ اور آخرکار تین گاؤں دور اسنے اپنے بیٹے کے لئے ایک چندے آفتاب چندے مہتاب پڑھی لکھی لڑکی پسند کر لی، اس لڑکی کے ساتھ ایک مسلہ تھا کے جب دیکھو ہر ایک کو اپنے سے کمتر سمجھتی تھی اور جب دیکھو لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے جس کے باعث اس کی شادی نہیں ہو پا رہی تھی جیسے ہی اس کے گھر کمہار کو رشتہ آیا انہوں نے فورا ہاں کر دی اور چٹ منگنی پٹ بیاہ۔۔۔
ایک کہاوت ہے
” اسکو کوئی رشتہ دیتا نا تھا اور اسکا رشتہ کوئی لیتا نا تھا ”
کے مطابق دونوں پارٹیاں بہت خوش تھیں، لیکن جیسے ہی لڑکی ودا ہو کر کمہار کے گھر پہنچی اپنے تیور دیکھانے شروع کر دیے، خاوند و ساس سسر کے ساتھ لڑ پڑی کے اُن لوگوں نے دھوکا کیا اس کے ساتھ کہاں وہ اتنی خوبصورت پڑھی لکھی اور کہاں یہ بے سرا سا ان پڑھ کمہار نا جانے تم لوگوں نے میرے باپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی الغرض جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی۔ اتنی دیر میں ہمسایہ کی خواتین اپنی اپنی چھتوں پر چڑھے منڈھیروں سے لٹکتی یہ تماشہ دیکھتی رہیں، ساس نے منت ترلہ کیا اور کمرے میں لے گئی لیکن یہ تو اب روز معمول بن چکا تھا۔
اس عرصہ میں اس لڑکی کی سلام دعا چودھری کے بیٹے کے ساتھ ہو گئی اور وہ اس کی شہہ پر اب اور زیادہ فساد کرتی اور گلی میں آ کر واویلا مچاتی اس کی روز روز کی حرکتوں سے تمام گاؤں والے پریشاں تھے،
ایک دن اس کے آشنا نے اسے ایک پلان بتایا کے اگر وہ لڑ جھگڑ کر گاؤں کی چوپال میں آ بیٹھے اور گاؤں والوں کو اکٹھا کر لے تو اس کی طلاق لازم ہو جاۓ گی اور پھر وہ اس سے شادی کر لے گا۔ اگلے ہی دن لڑکی نے صبح ہوتے ہی آنے بہانے لڑنے کی کوشش کی لیکن گھر کے تمام فرد شاید اس دن چپ کا روزہ رکھے بیٹھے تھے کسی نے اسکی بات کا جواب تک نا دیا اور وہ غصہ سے بے حال پاؤں پٹختی چوپال کی جانب چل پڑی اور اسکا خیال تھا کے جیسے جیسے وہ چوپال کے قریب ہوتی جاۓ گی ویسے ویسے گاؤں والے اس کے ساتھ اکھٹے ہوتے جائیں گے اور جیسے ہی لوگ اکھٹے ہوں گے کمہار کے گھر والوں پر پریشر بڑھے گا اور اسی موقع پر چودھری کا بیٹا بھی چودھری کے ذریعے زور ڈلواے گا اور کام ہو جاۓ گا۔
لیکن لڑکی اس وقت پریشان ہو گئی جب وہ چوپال پر پہنچی تو ادھر گاؤں والا کوئی بھی نا تھا وہ ادھر بیٹھی اکیلی چیختی رہی چلاتی رہی کے شاید اس کی آواز سن کر کوئی گاؤں والا ادھر آ جاۓ لیکن کسی نے اس کی طرف دھیان نا دیا اور اسی طرح دن ڈھلنے لگا بھوک اور پیاس سے اس کی حالت غیر ہونے لگی انتڑیاں مڑ گئیں اور زبان سوکھ کر تالو کے ساتھ لگ گئی وہ دعائیں مانگ رہی تھی کے چودھری آۓ اور اسے رانی بنا کر رکھے لیکن چودھری نے نا آنا تھا اور نا ہی آیا اور وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہی تھے کے کوئی بھی نظر آۓ اسکا پوچھے تو فورا اپنے گھر چلی جاۓ لیکن کون پوچھے، اسی اثنا میں سورج ڈوبنے کے قریب تھا کے دور سے اس نے کمہار کے گدھے ایک قطار میں اپنے گھر واپس جاتے ہوے دیکھے وہ پاگلوں کی طرح اُٹھی بھاگ کر سب سے آخری گدھے کی دم پکڑ لی اور گھر کی جانب چلنے لگی۔
گھر کی جانب جاتی جا رہی تھی اور بولتی جا رہی تھی ” نہیں میں نے گھر نہیں جانا، جب تک میری بات نہیں مانی جاتی میں گھر نہیں جاؤں گی، میرے مطالبات قبول نہیں ہوے تو میں اسی طرح پھر واپس آ جاؤں گی، میرے مطالبات پورے کیے جائیں ”
یہ ہی کچھ بولتی ہوئی گھر میں داخل ہو گئی اور لوگوں نے دیکھا کے اگلی صبح وہ پھر چوپال میں تھی اور شام کو گدھے کی دم پکڑے گھر کی طرف رواں۔۔۔۔۔۔۔
سنا ہے کے اب بھی وہ اسی طرح اول فول بولتی ہے سارا سارا دن گلیوں میں گھومتی ہے اور شام کو گدھے کی دم پکڑے گھر کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک تبصرے