حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

آج کی عورت :شازیہ ظفر

.
باجی اگلے مہینے ھماری اینورسری آ رھی ھے۔۔۔۔۔میں ٹیلیفون رکھ کے ابھی مڑی ھی تھی کہ ناشتے کے برتن دھوتی ھوئی عشرت نے مخاطب کیا۔۔۔ آواز میں اتنی چہکار تھی کہ میں نے بےساختہ پوچھ لیا۔۔ تو پھر۔۔۔؟؟ کیا پلانز ھیں تمھارے۔۔۔ ؟؟ عشرت بھی شاید شدت سے منتظر تھی اس سوال کی۔۔۔ باجی میرے میاں نے کہا ھے کہ بہت اچھے سے منائیں گے اور اس روز ھم کہیں گھومنے چلیں گے۔۔۔ آپ سب بھی سوچیں گے کہ یہ کیا قصہ ھے۔۔ ؟ ان عشرت نامی موصوفہ کا تعارف کیا ھے۔۔۔بھئی عشرت میری ھیلپر ھے۔۔ ھمارے گھر صفائی کے لیے أنے والی ھماری مددگار۔۔ وقت بدل گیا ھے۔۔اب گھروں میں کام کرنے والی مائیاں یا ماسیاں نہیں ھوتیں۔۔جو بیچاریاں حلیہ سے بے حلیہ اور حال سے بے حال ھوا کرتی تھیں۔۔ انھیں تو آج کل کی خبر نہیں ھوتی تھی۔۔بیچاریاں عید تہوار بھی اس لیے یاد رکھتی تھیں کہ ھر گھر سے جوڑے اور زیادہ راشن ملے گا۔۔۔ اب گھروں میں کام کرنے والی ھماری یہ مددگار پوری طرح باخبر ھیں۔۔۔ تمام حالات سے ۔۔۔فیشن سے ۔۔۔۔ پہننے اوڑھنے سے ۔۔معاشرے کے مروجہ طور طریقوں سے ۔۔۔سب سے بڑھ کر اپنے حقوق سے بھی ۔۔۔۔۔ اب عشرت کو ھی لیجیئے۔۔ وہ ایک نواجون لڑکی ھے۔۔۔۔شہر کراچی کے اچھے علاقے میں کھاتے پیتے گھروں میں کام کر کے چھوٹی سے بڑی ھوئی ھے۔۔۔اسی بناء پر ان گھروں میں باجیوں کے ساتھ رہ کے تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا اور اسمارٹ فون استعمال کرنا سیکھ چکی ھے۔۔۔ بھئی کم ازکم اتنا تو سیکھ ھی لیا ھے کہ چھوٹے موٹے میسجز ٹائپ کر سکے ھینڈز فری لگا کر گانے سن سکے ۔۔فرصت کے اوقات میں اپنے من پسند ڈرامے ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھ سکے۔۔۔۔اور بات بے بات ان ڈراموں کے ڈائیلاگ اپنی گفتگو میں شامل کر سکے۔۔۔۔۔ صبح کام نمٹانے کے ساتھ ساتھ چلتے پھرتے مارننگ شوز پہ بھی نظر مار کے شادی بیاہ کی تمام ضروری اور غیر ضروری رسومات ، چہرے پہ نکھار کے گھریلو نسخوں اور بہت سے معاشرتی مسائل کے اسرار و رموز سے آگاھی حاصل کر سکے۔۔۔ بہت پھرتیلی اور ھوشیار ، ھنستی مسکراتی۔۔۔۔ صبح جیسے ھی گھر میں داخل ھوتی ھے۔۔ سب سے پہلا اور ضروری کام یہ کے اپنے سیل فون کو چارجنگ پہ لگایا اور کاموں میں مصروف ھوگئی ۔۔۔ جتنی تیزی سے ھاتھ چلتے ھیں اتنی ھی تیزی سے ساتھ ساتھ زبان بھی چلتی ھے۔۔۔۔اکثر ٹوکنا ھی پڑتا ھے۔۔۔عشرت وقت ضایع نہ کرو۔۔۔تمھاری باتوں میں مجھے بھی دیر ھو جائے گی پلیز کام پہ دھیان دو ۔۔۔جی باجی۔۔ساتھ ساتھ کام بھی کر رھی ھوں ناں۔۔۔ میں تو بس یہ بتا رھی تھی۔۔۔۔اور پھر کوئی نئی حکایت رومی کوئی نیا فلسفۂ حیات سننے کو مل ھی جاتا ھے۔۔۔ اسکی باتیں اور خیالات سن کر ھر بار میں یہی سوچتی ھوں کہ اب نئی نسل کا ذھن بہت تبدیل ھوتا جا رھا ھے۔۔۔چاھے وہ نئی نسل کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ھو۔۔۔ آج کل میں گھر پہ ھوں۔۔فرصت کی بناء پہ میں عشرت کا بھرپور جائزہ لے رھی ھوں۔۔۔یا شاید میں اپنے مسائل سے ھٹ کے بھی کچھ سوچنا چاھتی ھوں۔۔۔ لاشعوری طور پر آجکل عشرت کی ذات میری توجہ کا مرکز ھے۔۔
اب آپ سب سوچیں گے کہ میں۔۔۔۔؟؟ میں کون ھوں۔۔۔ میں کہاں جاتی ھوں جو أجکل چھٹیوں پہ ھوں۔۔۔؟؟ کتنے بے ربط انداز میں میں نے یہ قصہ چھیڑا ھے ناں۔۔۔؟؟ قصور میرا بھی نہیں ھے۔۔جب انسان ایسے دوراھے پہ آجائے کہ سمجھ ھی نہ آتا ھو کہ زندگی کی اس الجھی ڈور کو سلجھانے کا سرا کہاں سے ڈھونڈا جائے تو ایسی بے ربط سی باتیں ھو ھی جاتی ھیں۔۔۔۔
چلیئے میں آپ کو اپنے بارے میں بھی مختصرا بتاتی ھوں۔۔۔
میں مدیحہ۔۔ اعلی تعلیم یافتہ شادی شدہ خاتون۔۔۔ ایک بینک آفیسر ھوں۔۔۔دو بچے۔۔ اور شوھر۔۔۔ بظاھر میں بہت کامیاب عورت ھوں۔۔اور ھمارا گھرانہ شاید بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک بہت مطمئن اور خوشحال گھرانہ ھو۔۔۔مگر یہ پورا سچ نہیں ھے۔۔۔معاشرے میں اپنے گھرانے کو مطمئن اور خوش باش اور مٹالی دکھانے کے لیے میں نے جتنے پاپڑ بیلے ھیں وہ میں ھی جانتی ھوں۔۔نعیم میرا شوھر۔۔ ھم ساتھ ھی پڑھتے تھے۔۔ اور ایک دوسرے کو پانے کے لیے ھم نے سارے زمانے سے ٹکر لی تھی۔۔۔مگر شاید نعیم کا سارا جوش مجھے اپنے گھر لانے تک ھی تھا۔۔۔۔دھیرے دھیرے مجھ پر واضح ھوتا گیا کہ اپنی اس بغاوت پر وہ ماں باپ کے سامنے خاصا شرمندہ ھے اور انکو راضی کرنے کے لیے وہ مجھے نظر انداز کر رھا ھے۔۔۔ مزید ستم یہ کہ اپنی گرم مزاجی کی بدولت آئے دن نوکری کا چھوڑ دینا بھی اسکا معمول ھے ۔۔ میرے لیے یہ سب توقع کے برعکس تھا۔۔۔مگر میں کیا کرسکتی تھی۔۔ کچھ اپنی ضد کا خمیازہ بھگتنے کے لیے اور کچھ نعیم کی حددرجہ محبت میں ۔۔۔ میں نے سمجھوتے کرنا شروع کر دیئے۔۔۔۔ سب سے پہلی بار اس بات پر اسکے آگے ھاتھ جوڑے کے کمرے میں اونچی ھوتی نعیم کی آواز باھر نہ جانے پائے۔۔ھماری محبت کا بھرم رہ جائے ورنہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔ اور بس پھر یکے بعد دیگرے میرے سمجھوتے بڑھتے گئے۔۔ اور نعیم کی آواز کے ساتھ ساتھ کے ھاتھ بھی مجھ پر اٹھنا شروع ھوگئے ۔۔۔ پہلے میکے اور سسرال میں بھرم رکھنے کے لیے۔۔۔اور پھر بچوں کی خاطر میں نے اسکا ھر زخم اپنی روح پر سہا ھے۔۔وہ احساس کمتری کا شکار مرد ھے۔۔کسی حد تک شکی بھی۔۔ اسکی انا کو تسکین ملتی ھے جب ایک کامیاب ، بااختیار اور اعلی عہدے پہ فائز عورت اسکی سامنے روتی اور گڑگڑاتی ھے۔۔۔۔مگر میں اب اس مشقت سے تھک چکی ھوں۔۔۔آپ ھی بتایئے۔۔ روز جینا اور روز مرنا آسان ھے کیا۔۔۔زمانے کے سامنے اس شوھر کا بھرم رکھنا جسے لمحہ برداشت کرنا دشوار ھو کانٹوں پہ چلنے کے مترادف ھی تو ھے۔۔ اسی جسمانی تھکن اور ذھنی اذیت سے بچنے کے لیے میں نے کچھ روز کی چھٹی لی ھوئی ھے۔۔۔ آجکل بس اسی مسئلے کا حل سوچتی ھوں۔۔آیک آدھ دن میں کسی سایکاٹرسٹ کے پاس جاؤں گی۔۔۔افف کب تک انگاروں پہ چلنا ھوگا۔۔۔ یہ بچے بھی کب اپنے پیروں پر کھڑے ھونگے جو میرا سفر آسان ھو۔۔۔
ان چٹھیوں میں اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے عشرت میری نظروں کے سامنے ھے۔۔ میری سوچوں پر بھی حاوی۔۔ شاید اسے کوئی غم ھی نہیں۔۔۔ کتنا طمانیت بھرا اور بے فکر سا انداز ھے اسکا ۔۔۔۔۔ کتنا کھل کے ھنستی ھے۔۔ کیا اسے کوئی غم نہیں ھوگا۔۔۔۔؟؟ آخر آج میں نے عشرت سے وہ سوال پوچھ ھی لیا جو کئی روز سے میرے اندر کلبلا رھا تھا۔۔۔۔ عشرت۔۔ تم خوش ھو۔۔ ؟؟ میاں کیسا ھے تمھارا۔۔۔ بس یہ ایک سوال پوچھنے کی دیر تھی۔۔ ھاتھ سے ڈسٹر ایک طرف رکھ کے عشرت اپنی کھنک دار آواز میں شروع ھوگئی۔۔۔ میں جاننا ھی تو چاھتی تھی اس لیے میں نے بھی آج بولنے دیا۔۔
باجی خوش کیوں نہیں ھونگی میں۔۔۔ اللہ کا دیا سب کچھ تو ھے ۔۔۔میرا میاں بھی اتنا خیال رکھتا ھے میرا میں نے پہلے ھی کہہ دیا تھا اسے۔۔۔ دیکھ دلاور اگر تو میرے سے شادی کرنا چاھتا ھے تو میری شرطیں بھی ماننا ھونگی۔۔ اچھا۔۔۔۔؟؟ کیا شرطیں تھیں تمھاری۔۔ میں نے دلچسپی اور حیرت سے پوچھا۔۔۔ بس باجی۔۔ آپ تو جانتی ھی ھیں۔۔۔ میری ماں بھی تو آپ کے گھر کام کر چکی ھے۔۔۔کاموں سے تھک کے چور جب گھر پہنچتی تھی تو ھر روز میرے نشئی ابے سے پٹا کرتی تھی۔۔ پیسے بھی چھین لیتا تھا وہ اماں سے۔۔۔ھماری برادری میں یہ مرد کی شان ھے کہ وہ پیٹتا ھے اور عورت کی شرافت یہ ھے کہ وہ چپ چاپ پٹتی ھے سر کا سائیں جانوروں سے بدتر سلوک بھی کرے تو اف نہ کرنا۔۔۔۔بس نبھاتے جانا۔۔۔ باجی بس اپنی ماں پر یہ ظلم میری برداشت سے باھر تھا۔۔۔اسی لیے میں نے تو شادی ھی نہیں کرنا تھی۔۔۔میں کیوں اپنا آپ کسی کی جوتیوں میں رول دوں۔۔۔ اففف عشرت کے جملے تیر کی طرح میرے دل میں پیوست ھو رھے تھے۔۔۔ وہ تو جب دلاور نے ذیادہ ھی پیچھا لے لیا تو میں نے صاف اسے کہہ دیا۔۔ میری یہ ساری باتیں مانے گا تو منظور ھے۔۔ نہیں تو اپنا رستہ ناپ۔۔۔ تو کیا تھیں وہ باتیں۔۔ میں نے بڑے تجسس سے پوچھا۔۔۔باجی پہلی شرط تو یہ تھی کہ میں تیری اور تیرے گھر والوں کی ھر طرح سے عزت کروں گی مگر تو بھی میری عزت کرے گا۔۔۔ ھاتھ نہیں اٹھائے گا کبھی میرے پہ۔۔۔ دوسری یہ کہ میری کمائی پہ کبھی نظر نہ رکھنا۔۔۔ھم مل جل کے گھر چلالیں گے مگر اسکے لیے تجھے بھی کما کے لانا ھوگا۔۔۔ ورنہ میری کمائی بس میری ھوگی۔۔۔ اگر جو تو کام چھوڑ کے نشہ کرکے گھر پہ پڑا رھا ناں تو میں اسی روز تجھے چھوڑ کے چلی جاؤں گی۔۔۔
ایک سادہ سی عورت اور اتنی پر اعتماد۔۔ میں نے حیرت سے سوچا۔۔۔۔۔ پھر۔۔۔؟؟ تمھاری شادی کو چار پانچ سال تو ھو ھی گئے ھونگے۔۔۔ اب کیا حال ھے دلاور کا۔۔۔؟؟ عشق کا بھوت اترا ؟؟ کیسے چل رھی ھے تمھاری زندگی۔۔۔؟؟ کرم ھے مولا کا باجی۔۔۔ میں نے اپنی ماں کی زندگی سے بس ایک ھی سبق سیکھا ھے۔۔۔ غلط بات پہ سمجھوتہ کبھی نہیں کرنا۔۔۔ورنہ ساری زندگی جوتے کھانے پڑیں گے۔۔۔ شروع کے دوسال بعد ایک روز دلاور نے اپنے گھر والوں کی باتوں میں آ کر میرے سے بدتمیزی کی کوشش کی۔۔ ھاتھ اٹھانے ھی لگا تھا کہ میں نے شور مچا دیا۔۔تیری ھمت کیسے ھوئی مجھ پہ ھاتھ اٹھانے کی۔۔۔ سارے لوگ اکھٹا ھوگئے پر میں نے پرواہ نہیں کی۔۔۔ میں نے کہہ دیا۔۔ سنبھال یہ سارا کچھ۔۔ مجھے نہیں رھنا تیرے ساتھ۔۔۔ پھر۔۔۔۔؟؟ کیا ھوا۔۔۔ کیا بولا وہ۔۔۔ میری بے چینی تو جیسے عروج پر تھی۔۔۔۔ مجھے بہت بیتابی سے آگے کی صورتحال جاننا تھی۔۔۔۔ پھر کیا ھونا ھے باجی۔۔۔ میں کیوں ڈرتی۔۔ اسکے گھر والوں کا خیال رکھتی ھوں۔۔۔اسکی عزت کا پاس رکھتی ھو۔۔۔۔ اس کے جتنا کما کے بھی لاتی ھوں پھر یہ ظلم برداشت نہیں تھا کرنا میں نے۔۔۔ میرے اتنے ٹہکے سے بولنے کا اثر یہ ھوا کہ فورا ھی چپ ھوگیا وہ۔۔۔ اسے لگا کہ واقعی ایسا کر بھی سکتی ھوں۔۔ اور جی۔۔۔ سچ میں یہ کر بھی جاتی میں۔۔ اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ھے باجی۔۔۔۔ مجھے نکھٹو نشئی میاں نہیں چاھیئے جو بات بات پہ جانور کی طرح دھنک کے رکھ دے۔۔۔ مجھے تو آپ باجیوں کی طرح صاحب جیسا میاں چاھیئے۔۔ جو عزت کرنا جانتا ھو۔۔۔۔(ھااااہ صاحب جیسا میاں )
عشرت کی گفتگو نے میری تو آنکھیں ھی کھول دی تھیں۔۔۔اففف خدا۔۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ تعلیم اور شعور ڈگریوں کا محتاج نہیں ھوتا۔۔۔ اپنے حقوق و فرائض سے آگاھی سب سے بڑی چیز ھے۔۔۔۔ اب مجھے کسی بھی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رھی تھی ۔۔۔ایک عام گھریلو ملازمہ انجانے میں میری تربیت کر گئی تھی۔۔۔۔نہیں بلکہ میں اب بھی غلطی پر ھوں۔۔ عشرت عام سی گھریلو ملازمہ کب ھے۔۔۔۔ وہ آج کی عورت ھے۔۔۔ ایک باشعور اور پر اعتماد عورت جو اپنے حق کے لیے لڑنا جانتی ھے۔۔۔۔سر اٹھا کے جینا جانتی ھے۔۔۔ اور أج میں اس نتیجے پر پہنچ چکی ھوں کہ اب بھی دیر نہیں ھوئی ھے۔۔۔۔
مجھے بھی اب عشرت بننا ھے۔۔

فیس بک تبصرے