حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

سوچیے اور امیر ہو جائیے – شہاب رشید

کیا آپ کو اپنی زندگی خوشیوں سے بھرنے کے لیے دولت کی تلاش ہے؟ کیا آپ دولتمند ہونا چاہتے ہیں؟ تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔

دولت کی حقیقت سے کوئی ذی شعور انکا ر نہیں کر سکتا۔ خصوصاً آج کے دور میں پیسے کے بغیر زندگی گزارنا ایسے ہی ہے جیسے مچھلی جل کے بغیر۔ پیسے کی اس دوڑ میں ہر کوئی لگا ہوا ہے اور ہر کوئی اس دوڑ میں دوسرے کو پیچھے چھوڑ جانا چاہتا ہے۔ مگر یہ پیسہ ہاتھ کیسے آئے اس پیسے کو گرفت میں کرنے کے لیے انسان جائز ناجائز ہر کام کر گزرتا ہے۔ ہر انسان کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ وہ کس طرح جائز طریقوں سے پیسہ کما سکتا ہے۔ کیا کو ئی ایسا فارمولا یا طریقہ ہے جس پر عمل کر کے انسان پر آسائش زندگی گزار سکتا ہے، ایک ایسی زندگی جس میں سکون و اطمینان ہو، ایسی زندگی جس میں آپ جب بھی اور جو بھی چاہیں حاصل کر سکیں، ایسی زندگی جس میں مجبوریاں نہ ہوں، ایسی زندگی جس میں آپ دوسروں کے کام آسکیں ان کی ہر ممکن مدد کر سکیں؟ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسی زندگی بسر کرے جس میں محرومیاں نہ ہوں، بس سکھ چین ہو، تو جی ہاں! ایسا بالکل ممکن ہے۔ آپ چاہے ان پڑھ ہیں یا پڑھے لکھے، غریب ہیں تو امیر ہو سکتے ہیں اور اگر پہلے سے امیر ہیں تو امیر ترین ہو سکتے ہیں، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ کو یہ فارمولا مل جائے اور آپ اس پر پوری ایمانداری سے عمل کر سکیں۔

میں نے چند ماہ قبل ایک کتاب سوچیے اور امیر ہو جائیے (Think and Grow Rich) کا مطالعہ کیا اس کتاب کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کے مصنف کے بارے میں بات کر لی جائے۔ اس کتاب کے مصنف کا نام نپولین ہل ہے، جو کہ 1830ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے آبا و اجداد نے انگلستان سے امریکہ ہجرت کی تھی اور ورجینیا میں آباد ہوئے۔ نپولین ہل کی پرورش میں ان کی سوتیلی والدہ کا بڑا ہاتھ تھا چونکہ وہ خود ایک سکول ٹیچر تھی اور چاہتی تھیں کہ نپولین بھی اچھا پڑھ لکھ جائے۔ ہل نے 13 سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے اخبار کے لیے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ہل ایک ذہین طالب علم تھے اس۔ لیے انہوں نے 17برس کی عمر میں ہی گریجویشن مکمل کر لی اور ایک وکیل کے ہاں ملازمت اختیار کرلی۔ 1907ء سے 1909ء کے درمیان ہل نے ہل لمبر کمپنی اور آٹو موبائل کالج کی بنیاد رکھی لیکن دونوں کو دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑا۔ 1915ء میں ہل نے جارج واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف ایڈورٹائزنگ کی بنیاد رکھی جبکہ 4جون1918میں بلو سکائی لاز کی خلاف ورزی کرنے پر ہل کو یہ انسٹیٹیوٹ بند کرنا پڑا۔

1928میں ہل نے کامیابی کا قانون (The Law of Success)لکھی جو کہ بہت مقبول ہوئی جس نے راتوں رات ہل کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جس کے ساتھ ہی ہل پر پیسہ کچھ یوں مہربان ہوا اور ہل کے لائف سٹائل میں نمایا ں تبدیلی آ گئی۔ 1937ء میں ہل نے(Think and Grow Rich) کی اشاعت کی جو کہ ہل کی زندگی کا سب سے بڑا شاہکار ثابت ہوئی۔ اس کتاب نے لوگوں کی سوچنے کے انداز کو یکسر بدل کے رکھ دیا جس سے لوگوں کی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونماں ہوئیں۔ یہ کتاب ہل کے 25 سال کے علم، تجربے، مشاہدے اور تجزیے کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب میں 500 کامیاب لوگوں کے کاروباری رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اگر آپ زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے، آپ اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ کا تعلق چاہے کسی بھی روزگار سے ہو اس کتاب کے مطالعے کے بعد آپ میں مثبت تبدیلی رونما ہو گی شرط یہ ہے کہ آپ سے کتاب کو کم از کم دو سے تین بار ضرور پڑھیں اور اس میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔ یہ کتاب بچے، بوڑھے اور جوان سب کے لیے مفید ہے جو اس کتاب کو اپنی زندگی میں جتنی جلدی لے کر آئے گا اتنی ہی جلدی اس سے مستفید ہو گا۔ یہ کتاب 15ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب اپنے اندر علم کا بے پناہ ذخیرہ لیے ہوئے ہے۔

یوں تو اس کتاب کا ہر باب ہی اہم ہے مگر اپنے پڑھنے والوں کے لیے چند انتہائی اہم ابواب کا نچوڑ تحریر کر رہا ہوں تاکہ اس کتاب کی افادیت کا اندازہ ہو سکے اور باوجوہ اگر وہ یہ کتاب نہ پڑھ سکیں تو ان کو اس تحریر کے پڑھ لینے سے استفادہ ہو سکے۔

۱۔ خواہش: اس باب میں ہل نے مختلف مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی کامیابی کے پیچھے جو سب سے پہلا اصول کار فرما ہوتا ہے وہ کسی کام یا مقصد کو حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں کسی بھی مقصد میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر اس کام کو کرنے اور انجام تک پہنچانے کی شدید خواہش موجود نہ ہو، کوئی بھی کامیابی بغیر دلی خواہش کے ممکن نہیں۔ آپ کسی کاروبار یا نوکری میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ اس کو پورے دل اور شدید خواہش کے ساتھ نہ کر رہے ہوں۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے درج ذیل اقدامات پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔

پہلاقدم:ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد اتنی دولت حاصل کر لے کہ وہ باقی کی زندگی آرام سے گزار سکے۔ اس لیے آپ جتنے پیسے چاہتے ہیں ان کی معینّ تعداد اپنے ذہن میں بٹھا لیں۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں بہت پیسہ چاہتا ہوں، جو بھی رقم درکار ہے وہ طے کریں اور اس مقررہ رقم کو ذہن نشین کر لیں چاہے رقم کروڑوں میں ہی کیوں نہ ہو۔

دوسرا قدم:یہ ٹھیک طے کر لیں کہ جس رقم کی خواہش ہے اس کے بدلے میں کیا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یعنی آپ کاروبار کے ذریعے سے یہ رقم حاصل کریں گے یا ذاتی خدمات کے ذریعے یا جو بھی صورت ہو یہ فیصلہ کر نا بہت ضروری ہے کہ کتنی رقم کی خواہش ہے اور وہ کس قسم کے کام سے حاصل ہو سکتی ہے۔

تیسرا قدم: جس رقم کی خواہش ہے اس کو حاصل کرنے کی حتمی تاریخ طے کر لیں۔

چوتھا قدم: اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک منصوبہ تشکیل دیں اور چاہے آپ تیا ر ہوں یا نہ ہوں اس پر عمل کا جلد از جلد آغاز کر یں۔ منصوبہ سوچ سمجھ کر تشکیل دیں اس میں جلد بازی کا مظاہرہ ہر گز نہ کریں۔

پانچواں قدم:اب آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کتنی رقم، کب تک اور کس منصوبے کے ذریعے چاہیے، اب آپ ایک واضح بیان تحریر کریں اور اس رقم کے بدلے میں جو منصوبہ آپ نے سوچ رکھا ہے اسے بھی واضح طور پر تحریر کر لیں۔

چھٹا قدم:اپنی تحریر کو دو مرتبہ رات سونے سے قبل اور صبح بیدار ہونے کے بعد بلند آواز سے پڑھیں۔ اسے پڑھتے ہوئے دیکھیں، محسوس اور یقین کریں کہ پیسہ ابھی سے آپ کی ملکیت ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ان تمام اقدامات پر آپ من و عن عمل کریں۔

مثال کے طور پر آپ آج سے ایک سال بعد یکم جنوری 2019ء کو 5لاکھ روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ کا ارادہ ہے کہ آپ اس کے عوض گاڑیوں کی خریدو فروخت کاکاروبار کریں گے۔ آپ کے مقصد کا بیان کچھ اس طرح ہو نا چاہیے۔ یکم جنوری 2019ء میرے پاس 5لاکھ روپے ہوں گے جو اس عرصے کے دوران گاڑیوں کی خریدو فرخت کے منافع کی صورت میرے پاس جمع ہوں گے۔ اس رقم کے عوض میں اپنی پوری محنت اور قابلیت کے ساتھ لوگوں کو معیاری گاڑیا ں فراہم کرتا رہوں گا۔ اس کاروبار کے لیے میں ہر طرح کی گاڑیوں کی مکمل معلومات حا صل کروں گا اور اس کے لیے مجھے اگر کوئی کورس بھی کرنا پڑا تو میں کروں گا۔ میں گاڑیوں کے پرزہ جات کی بھی جانکاری حاصل کروں گا اور کون سا پارٹ کہاں سے سستا اور معیاری ملے گا، اس کے متعلق بھی معلومات اکٹھی کروں گا۔ ایک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی بدولت مجھے یقین ہے کہ یہ رقم مجھے حاصل ہو کر رہے گی۔ میرا یقین اس قدر قوی ہے کہ یہ رقم میں اپنے قبضے میں دیکھ رہا ہوں اور اسے اپنے ہاتھوں سے چھو سکتا ہوں۔ اس کاروبار کے عوض جو میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں یہ میرے پاس آنے کی منتظر ہے۔

۲۔ یقین: دولت کی جانب دوسرا قدم یقین ہے کہ آپ کی جو خواہش ہے اس کو حاصل کرنے کا آپ کو یقین بھی ہو۔ یہ یقین اپنے اندر کس طرح سے پیدا کیا جائے ؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ دولت یا کسی بھی مادّی شے کی خواہش اس یقین یا توقع کے ساتھ اپنے تحت الشعور میں ڈالیں گے کہ جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ہو کر رہے گا۔ اگر آپ تحت الشعور کو اس یقین کے ساتھ جو بھی حکم دیں گے اس پر عمل ہو گا اور تحت الشعور سب سے عملی دستیاب طریقے سے آپ کے حکم کے بدلے میں وہ شئے دے گا جو آپ کو درکار ہو گی۔ آپ کسی کام کا ارادہ کر بھی لیں تو آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہو تا کہ ایسا ممکن ہے کیوں کہ ہمارا تحت الشعور ہمیں اندر سے بتا رہا ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ تحت الشعور کے اس منفی رحجان کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر وقت خود کو مشورہ دیں کہ ایسا ہو سکتا ہے، آپ یہ کر سکتے ہیں، یقین کو پختہ کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ جو بھی کام کرنے جا رہے ہیں اس کے بارے میں اپنے آپ کو مشورہ دیتے رہیں کہ میں یہ کر سکتاہوں، ایسا ہو سکتا ہے۔ اس سچائی کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ذہن میں مثبت جذبات کی حوصلہ افزائی اور منفی جذبات کی حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں منفی رجحان بہت زیادہ ہے، بچپن سے ہم یہ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر سکتے، یہ نہیں ہو سکتا، تم کیسے کر سکتے ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا، ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جب ہم بچپن سے ہی ایسے الفاظ سننے کے عادی ہوں تو ہمارے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو تا ہے کہ انسان کے اندر اعتماد کی شدید کمی ہو جاتی ہے اور کامیابی اس وقت تک ہاتھ نہیں آتی جب تک کہ آپ کو اپنے اوپر پورا اعتماد نہ ہو۔ یقین اعتماد کے مرحون منت ہے یقین اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک آپ کے اندر اپنے اوپر اعتماد نہ ہو اور اس اعتماد کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نیچے دی گئی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

ایمان یا یقین وہ ابدی امرت ہے جو سوچ کی تحریک کو زندگی، قوت اور عمل دیتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے خود پر یقین رکھیں۔ ایمان و یقین اپنے مقصد کے حصول کا نقطہ آغاز ہے۔ اپنے بنیادی مقصدکو تحریر کریں اور اسے اپنے تحت الشعور میں بٹھانے کے لیے بلند آواز سے اس کی تکرار کریں۔ اپنے آپ کو مشورہ دینے کے اصول کے ذریعے یہ کمزوری دور کی جا سکتی ہے اور بزدلی کو جرات میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس اصول کا اطلاق، سوچ کی تحریک اور اپنے مقصد کی تحریر کو یاد کر کے کیا جا سکتا ہے تا وقتیکہ وہ آپ کے تحت الشعور کا حصہ نہ بن جائے۔ خود کو بار بار یہ یقین دلاتے رہیں کہ آپ کا مقصد جو بھی ہے آپ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ خود سے عہد کریں کہ آپ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل عمل اور محنت جاری رکھیں گے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے آپ کو جس شخصی تبدیلی کی ضرورت ہے آپ روزانہ تیس منٹ تک اپنی سوچوں پر توجہ مرکوز کریں گے اور جس تبدیلی کے آپ خواہش مند ہیں خود میں اس تشخص کی واضح تصویر اپنے ذہن میں بنائیں گے او ر خود کو ویسا ہی تصور کریں گے جیسا کہ آپ خود کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی شدید خواہش کو سامنے لا کر روزانہ دس منٹ تک اپنے آپ سے خود اعتمادی پید ا کرنے کا تقاضا ضرور کریں گے۔ نیز، آپ اس وقت تک کوشش جاری رکھیں گے جب تک کہ آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا نہ کر لیں۔ آپ اپنے اندر سے منفی رویوں جیسے نفرت، حسد، کینہ، خود غرضی اور خود نمائی کا خاتمہ کریں گے کیونکہ منفی رویہ رکھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اپنی تحریر کو ہر روز پڑھیں گے ، یہ عمل بتدریج آپ کی سوچوں اور افعال پر اثر انداز ہو گاجو آپ کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کا باعث بنے گا۔

۳۔ خود تجویز، خود کلامی یا خود ایمائی:۔ تحت الشعور پر اثر انداز ہونے کا زریعہ دولت کی جانب تیسرا قدم ہے۔ جو لوگ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں اور ساری زندگی غربت، حسرت اور غم میں گزار دیتے ہیں ان کے ساتھ ایسا اپنے آپ کو مشورہ دینے یعنی خودایمائی کے اصول کے منفی اطلاق کے باعث ہوتا ہے۔ جس طرح خود کو مثبت مشورہ دینا یا مثبت خود کلامی آپ کو عروج کی جانب لے جائے گی بالکل اسی طرح منفی خود کلامی آپ کو پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دے گی۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ ایک ناکام شخص ہیں تو ایسا ہی ہے، اگر آپ سوچتے ہیں کہ ہمت نہیں کرنی چاہے تو آپ کبھی ہمت نہیں کریں گے، اگرآپ کامیا ب ہونا چاہتے ہیں مگر سوچتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو یہ یقینی ہے کہ آپ کامیاب نہیں ہوں گے، اگر آپ سوچتے ہیں کہ ہار جائیں گے تو آپ ہار چکے ہیں۔ آپ اگر ہر وقت ناکامی کا سوچیں گے تو آپ ناکام ہوں گے اس کے برعکس آپ اگر ہر وقت کامیابی کے بارے سوچتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ آپ کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئی تحریر کو کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں آپ کی نظر اس پر پڑتی رہے، اس طرح آپ اس کو بار بار پڑھ سکیں گے اور یہ آپ کو از بر ہو جائے گی اور آپ کے تحت الشعور میں سما جائے گی۔ شروع میں یہ سب کرنا آپ کو مشکل، مبہم، غیر عملی اور ناممکن لگے گا اور اپنی منفی سوچ کی وجہ سے آپ کو اس پر شک و شبہ بھی ہو گا، مگر جیسے جیسے آپ ان ہدایات پر عمل کریں گے یہ آپ کے لیے نہ صرف آسان ہو جائے گا بلکہ آپ کا یقین بھی پختہ ہوتا جائے گا، اور ممکنات کی دنیا آپ پر کھل جائے گی پھر آپ کو اس کے ثمرات سمیٹنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

یہ امر بہت ہی ضروری ہے کہ آپ رات کو سونے سے پہلے سکون کے ساتھ آنکھیں بند کر کے بلند آواز سے وہ تحریر دوہرائیں جس میں آپ نے رقم لکھی ہے اور جسے حاصل کرنے کا آپ ارادہ رکھتے ہیں اس کو حاصل کرنے کی تاریخ اور رقم کے عوض گاڑیوں کی تجارت کے بارے میں بھی دہرائیں، ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ تصور کریں کہ رقم پہلے ہی آپ کے قبضہ میں ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنی نہایت ضروری ہے کہ یہ تحریرمکمل ایمان و یقین کے ساتھ پڑھنا نہایت ضروری ہے صرف رٹے رٹائے الفاظ کو اگر آپ ہزار بار بھی پڑھ لیں گے تو اس کا کوئی اثر نہ ہو گا، آپ کا تحت الشعور صرف جزبات اور احساسات سے بھر پورسوچوں کو ہی شناخت اور ان پر عمل کرتا ہے۔ جزبات سے عاری روکھے الفاظ تحت الشعور پر اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ یقین سے بھر پور سوچیں یا ادا کردہ الفاظ تحت الشعور تک نہیں پہنچائیں گے، قابل ذکر نتائج حاصل نہیں کر پائیں گے اور آپ اس پر دسترس صرف اور صرف مستقل مزاجی سے حاصل کر سکتے ہیں، آپ کوثابت قدم رہنا ہو گا اور اس مشکل مشق کے بغیر آپ کا کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ خود ایمائی کے اصول کو استعمال کرنے کی صلاحیت کا انحصار اپنی خواہش پر اس وقت تک توجہ مرکوز رکھنے کی استعداد پر ہے جب تک کہ وہ خبط و جنون نہ بن جائے۔

۴۔ تخصیصی علم:ذاتی تجربات یا مشاہدات دولت کی طرف چوتھا قدم ہل کے مطابق علم دو طرح کے ہوتے ہیں ایک عام علم اور دوسرا خاص علم۔ ہمارے ہاں جو تعلیم کا طریقہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج ہے وہ عام علم کے متعلق ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں سے جو تعلیم یافتہ افراد ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو علم ساری زندگی حاصل کرتے رہے عملی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ اپنے علم کو منظم کرنے اور دانشمندی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک معین مقصد کے حصول کی خاطر استعمال میں لانے کا گر نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کبھی بھی امیر ترین لوگوں میں جگہ نہ بنا پایا اگر صرف علم سے دولت اکٹھی کی جا سکتی تو یونیورسٹیوں کے پروفیسر سب سے امیر ہوتے۔ علم طاقت نہیں ہے یہ اس وقت تک طاقت نہیں بن سکتا جب تک کہ اسے ایک مقررہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے استعمال میں نہ لایا جائے۔ اپنی خواہش کو اس کے برابر دولت میں بدلنے کی صلاحیت کا یقین ہونے سے قبل اس دولت کے بدلے میں جو بھی خدمت، مال، تجارت یا پیشہ آپ دینا چاہتے ہیں اس کے بارے میں ماہرانہ علم درکار ہو گا۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے بہت زیادہ تخصیصی علم درکار ہو جو آپ کے پاس نہ ہو مگر آپ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈ گروپ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے متعین کردہ مقصد کے حصول کے لیے کسی خاص تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کی ضرورت ہے تو آپ اپنے ماسٹر مائنڈ کی انفرادی اکائیوں کا استعمال کر سکتے ہیں، ماہرانہ علم ضروری نہیں کہ دولت جمع کرنے والے کے پاس ہو مگر وہ انتہائی دانش مندی سے یہ علم کسی دوسرے کی خدمت یا صلاحیت کو بروئے کار لا کر حاصل کر سکتا ہے۔ تھامس ایڈیسن نے پوری زندگی صرف تین ماہ سکول کی شکل دیکھی، اس کے پاس تعلیم کی کمی تھی نہ ہی وہ غریب مرا۔ ہنری فورڈ پرائمری پاس تھا تا ہم مالی طور پر وہ اپنے وقت کا امیر ترین آدمی تھا۔ اسی طرح اگر آپ گوگل پر ان لوگوں کے متعلق سرچ کریں کہ جو اپنے وقت کے امیر ترین لوگ تھے مگر انہوں نے سکول و کالج کی شکل تک نہیں دیکھی تھی تو آپ ان لوگوں کی تعداد دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ اس لیے علم کیسے خریدنا ہے کا جاننا بہت فائدہ دیتا ہے۔کیا آپ کو اپنی زندگی خوشیوں سے بھرنے کے لیے دولت کی تلاش ہے؟ کیا آپ دولتمند ہونا چاہتے ہیں؟ تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔

دولت کی حقیقت سے کوئی ذی شعور انکا ر نہیں کر سکتا۔ خصوصاً آج کے دور میں پیسے کے بغیر زندگی گزارنا ایسے ہی ہے جیسے مچھلی جل کے بغیر۔ پیسے کی اس دوڑ میں ہر کوئی لگا ہوا ہے اور ہر کوئی اس دوڑ میں دوسرے کو پیچھے چھوڑ جانا چاہتا ہے۔ مگر یہ پیسہ ہاتھ کیسے آئے اس پیسے کو گرفت میں کرنے کے لیے انسان جائز ناجائز ہر کام کر گزرتا ہے۔ ہر انسان کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ وہ کس طرح جائز طریقوں سے پیسہ کما سکتا ہے۔ کیا کو ئی ایسا فارمولا یا طریقہ ہے جس پر عمل کر کے انسان پر آسائش زندگی گزار سکتا ہے، ایک ایسی زندگی جس میں سکون و اطمینان ہو، ایسی زندگی جس میں آپ جب بھی اور جو بھی چاہیں حاصل کر سکیں، ایسی زندگی جس میں مجبوریاں نہ ہوں، ایسی زندگی جس میں آپ دوسروں کے کام آسکیں ان کی ہر ممکن مدد کر سکیں؟ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسی زندگی بسر کرے جس میں محرومیاں نہ ہوں، بس سکھ چین ہو، تو جی ہاں! ایسا بالکل ممکن ہے۔ آپ چاہے ان پڑھ ہیں یا پڑھے لکھے، غریب ہیں تو امیر ہو سکتے ہیں اور اگر پہلے سے امیر ہیں تو امیر ترین ہو سکتے ہیں، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ کو یہ فارمولا مل جائے اور آپ اس پر پوری ایمانداری سے عمل کر سکیں۔

میں نے چند ماہ قبل ایک کتاب سوچیے اور امیر ہو جائیے (Think and Grow Rich) کا مطالعہ کیا اس کتاب کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کے مصنف کے بارے میں بات کر لی جائے۔ اس کتاب کے مصنف کا نام نپولین ہل ہے، جو کہ 1830ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے آبا و اجداد نے انگلستان سے امریکہ ہجرت کی تھی اور ورجینیا میں آباد ہوئے۔ نپولین ہل کی پرورش میں ان کی سوتیلی والدہ کا بڑا ہاتھ تھا چونکہ وہ خود ایک سکول ٹیچر تھی اور چاہتی تھیں کہ نپولین بھی اچھا پڑھ لکھ جائے۔ ہل نے 13 سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے اخبار کے لیے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ہل ایک ذہین طالب علم تھے اس۔ لیے انہوں نے 17برس کی عمر میں ہی گریجویشن مکمل کر لی اور ایک وکیل کے ہاں ملازمت اختیار کرلی۔ 1907ء سے 1909ء کے درمیان ہل نے ہل لمبر کمپنی اور آٹو موبائل کالج کی بنیاد رکھی لیکن دونوں کو دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑا۔ 1915ء میں ہل نے جارج واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف ایڈورٹائزنگ کی بنیاد رکھی جبکہ 4جون1918میں بلو سکائی لاز کی خلاف ورزی کرنے پر ہل کو یہ انسٹیٹیوٹ بند کرنا پڑا۔

1928میں ہل نے کامیابی کا قانون (The Law of Success)لکھی جو کہ بہت مقبول ہوئی جس نے راتوں رات ہل کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جس کے ساتھ ہی ہل پر پیسہ کچھ یوں مہربان ہوا اور ہل کے لائف سٹائل میں نمایا ں تبدیلی آ گئی۔ 1937ء میں ہل نے(Think and Grow Rich) کی اشاعت کی جو کہ ہل کی زندگی کا سب سے بڑا شاہکار ثابت ہوئی۔ اس کتاب نے لوگوں کی سوچنے کے انداز کو یکسر بدل کے رکھ دیا جس سے لوگوں کی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونماں ہوئیں۔ یہ کتاب ہل کے 25 سال کے علم، تجربے، مشاہدے اور تجزیے کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب میں 500 کامیاب لوگوں کے کاروباری رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اگر آپ زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے، آپ اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ کا تعلق چاہے کسی بھی روزگار سے ہو اس کتاب کے مطالعے کے بعد آپ میں مثبت تبدیلی رونما ہو گی شرط یہ ہے کہ آپ سے کتاب کو کم از کم دو سے تین بار ضرور پڑھیں اور اس میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔ یہ کتاب بچے، بوڑھے اور جوان سب کے لیے مفید ہے جو اس کتاب کو اپنی زندگی میں جتنی جلدی لے کر آئے گا اتنی ہی جلدی اس سے مستفید ہو گا۔ یہ کتاب 15ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب اپنے اندر علم کا بے پناہ ذخیرہ لیے ہوئے ہے۔

یوں تو اس کتاب کا ہر باب ہی اہم ہے مگر اپنے پڑھنے والوں کے لیے چند انتہائی اہم ابواب کا نچوڑ تحریر کر رہا ہوں تاکہ اس کتاب کی افادیت کا اندازہ ہو سکے اور باوجوہ اگر وہ یہ کتاب نہ پڑھ سکیں تو ان کو اس تحریر کے پڑھ لینے سے استفادہ ہو سکے۔

۱۔ خواہش: اس باب میں ہل نے مختلف مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی کامیابی کے پیچھے جو سب سے پہلا اصول کار فرما ہوتا ہے وہ کسی کام یا مقصد کو حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں کسی بھی مقصد میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر اس کام کو کرنے اور انجام تک پہنچانے کی شدید خواہش موجود نہ ہو، کوئی بھی کامیابی بغیر دلی خواہش کے ممکن نہیں۔ آپ کسی کاروبار یا نوکری میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ اس کو پورے دل اور شدید خواہش کے ساتھ نہ کر رہے ہوں۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے درج ذیل اقدامات پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔

پہلاقدم:ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد اتنی دولت حاصل کر لے کہ وہ باقی کی زندگی آرام سے گزار سکے۔ اس لیے آپ جتنے پیسے چاہتے ہیں ان کی معینّ تعداد اپنے ذہن میں بٹھا لیں۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں بہت پیسہ چاہتا ہوں، جو بھی رقم درکار ہے وہ طے کریں اور اس مقررہ رقم کو ذہن نشین کر لیں چاہے رقم کروڑوں میں ہی کیوں نہ ہو۔

دوسرا قدم:یہ ٹھیک طے کر لیں کہ جس رقم کی خواہش ہے اس کے بدلے میں کیا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یعنی آپ کاروبار کے ذریعے سے یہ رقم حاصل کریں گے یا ذاتی خدمات کے ذریعے یا جو بھی صورت ہو یہ فیصلہ کر نا بہت ضروری ہے کہ کتنی رقم کی خواہش ہے اور وہ کس قسم کے کام سے حاصل ہو سکتی ہے۔

تیسرا قدم: جس رقم کی خواہش ہے اس کو حاصل کرنے کی حتمی تاریخ طے کر لیں۔

چوتھا قدم: اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک منصوبہ تشکیل دیں اور چاہے آپ تیا ر ہوں یا نہ ہوں اس پر عمل کا جلد از جلد آغاز کر یں۔ منصوبہ سوچ سمجھ کر تشکیل دیں اس میں جلد بازی کا مظاہرہ ہر گز نہ کریں۔

پانچواں قدم:اب آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کتنی رقم، کب تک اور کس منصوبے کے ذریعے چاہیے، اب آپ ایک واضح بیان تحریر کریں اور اس رقم کے بدلے میں جو منصوبہ آپ نے سوچ رکھا ہے اسے بھی واضح طور پر تحریر کر لیں۔

چھٹا قدم:اپنی تحریر کو دو مرتبہ رات سونے سے قبل اور صبح بیدار ہونے کے بعد بلند آواز سے پڑھیں۔ اسے پڑھتے ہوئے دیکھیں، محسوس اور یقین کریں کہ پیسہ ابھی سے آپ کی ملکیت ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ان تمام اقدامات پر آپ من و عن عمل کریں۔

مثال کے طور پر آپ آج سے ایک سال بعد یکم جنوری 2019ء کو 5لاکھ روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ کا ارادہ ہے کہ آپ اس کے عوض گاڑیوں کی خریدو فروخت کاکاروبار کریں گے۔ آپ کے مقصد کا بیان کچھ اس طرح ہو نا چاہیے۔ یکم جنوری 2019ء میرے پاس 5لاکھ روپے ہوں گے جو اس عرصے کے دوران گاڑیوں کی خریدو فرخت کے منافع کی صورت میرے پاس جمع ہوں گے۔ اس رقم کے عوض میں اپنی پوری محنت اور قابلیت کے ساتھ لوگوں کو معیاری گاڑیا ں فراہم کرتا رہوں گا۔ اس کاروبار کے لیے میں ہر طرح کی گاڑیوں کی مکمل معلومات حا صل کروں گا اور اس کے لیے مجھے اگر کوئی کورس بھی کرنا پڑا تو میں کروں گا۔ میں گاڑیوں کے پرزہ جات کی بھی جانکاری حاصل کروں گا اور کون سا پارٹ کہاں سے سستا اور معیاری ملے گا، اس کے متعلق بھی معلومات اکٹھی کروں گا۔ ایک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی بدولت مجھے یقین ہے کہ یہ رقم مجھے حاصل ہو کر رہے گی۔ میرا یقین اس قدر قوی ہے کہ یہ رقم میں اپنے قبضے میں دیکھ رہا ہوں اور اسے اپنے ہاتھوں سے چھو سکتا ہوں۔ اس کاروبار کے عوض جو میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں یہ میرے پاس آنے کی منتظر ہے۔

۲۔ یقین: دولت کی جانب دوسرا قدم یقین ہے کہ آپ کی جو خواہش ہے اس کو حاصل کرنے کا آپ کو یقین بھی ہو۔ یہ یقین اپنے اندر کس طرح سے پیدا کیا جائے ؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ دولت یا کسی بھی مادّی شے کی خواہش اس یقین یا توقع کے ساتھ اپنے تحت الشعور میں ڈالیں گے کہ جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ہو کر رہے گا۔ اگر آپ تحت الشعور کو اس یقین کے ساتھ جو بھی حکم دیں گے اس پر عمل ہو گا اور تحت الشعور سب سے عملی دستیاب طریقے سے آپ کے حکم کے بدلے میں وہ شئے دے گا جو آپ کو درکار ہو گی۔ آپ کسی کام کا ارادہ کر بھی لیں تو آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہو تا کہ ایسا ممکن ہے کیوں کہ ہمارا تحت الشعور ہمیں اندر سے بتا رہا ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ تحت الشعور کے اس منفی رحجان کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر وقت خود کو مشورہ دیں کہ ایسا ہو سکتا ہے، آپ یہ کر سکتے ہیں، یقین کو پختہ کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ جو بھی کام کرنے جا رہے ہیں اس کے بارے میں اپنے آپ کو مشورہ دیتے رہیں کہ میں یہ کر سکتاہوں، ایسا ہو سکتا ہے۔ اس سچائی کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ذہن میں مثبت جذبات کی حوصلہ افزائی اور منفی جذبات کی حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں منفی رجحان بہت زیادہ ہے، بچپن سے ہم یہ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر سکتے، یہ نہیں ہو سکتا، تم کیسے کر سکتے ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا، ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جب ہم بچپن سے ہی ایسے الفاظ سننے کے عادی ہوں تو ہمارے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو تا ہے کہ انسان کے اندر اعتماد کی شدید کمی ہو جاتی ہے اور کامیابی اس وقت تک ہاتھ نہیں آتی جب تک کہ آپ کو اپنے اوپر پورا اعتماد نہ ہو۔ یقین اعتماد کے مرحون منت ہے یقین اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک آپ کے اندر اپنے اوپر اعتماد نہ ہو اور اس اعتماد کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نیچے دی گئی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

ایمان یا یقین وہ ابدی امرت ہے جو سوچ کی تحریک کو زندگی، قوت اور عمل دیتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے خود پر یقین رکھیں۔ ایمان و یقین اپنے مقصد کے حصول کا نقطہ آغاز ہے۔ اپنے بنیادی مقصدکو تحریر کریں اور اسے اپنے تحت الشعور میں بٹھانے کے لیے بلند آواز سے اس کی تکرار کریں۔ اپنے آپ کو مشورہ دینے کے اصول کے ذریعے یہ کمزوری دور کی جا سکتی ہے اور بزدلی کو جرات میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس اصول کا اطلاق، سوچ کی تحریک اور اپنے مقصد کی تحریر کو یاد کر کے کیا جا سکتا ہے تا وقتیکہ وہ آپ کے تحت الشعور کا حصہ نہ بن جائے۔ خود کو بار بار یہ یقین دلاتے رہیں کہ آپ کا مقصد جو بھی ہے آپ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ خود سے عہد کریں کہ آپ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل عمل اور محنت جاری رکھیں گے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے آپ کو جس شخصی تبدیلی کی ضرورت ہے آپ روزانہ تیس منٹ تک اپنی سوچوں پر توجہ مرکوز کریں گے اور جس تبدیلی کے آپ خواہش مند ہیں خود میں اس تشخص کی واضح تصویر اپنے ذہن میں بنائیں گے او ر خود کو ویسا ہی تصور کریں گے جیسا کہ آپ خود کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی شدید خواہش کو سامنے لا کر روزانہ دس منٹ تک اپنے آپ سے خود اعتمادی پید ا کرنے کا تقاضا ضرور کریں گے۔ نیز، آپ اس وقت تک کوشش جاری رکھیں گے جب تک کہ آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا نہ کر لیں۔ آپ اپنے اندر سے منفی رویوں جیسے نفرت، حسد، کینہ، خود غرضی اور خود نمائی کا خاتمہ کریں گے کیونکہ منفی رویہ رکھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اپنی تحریر کو ہر روز پڑھیں گے ، یہ عمل بتدریج آپ کی سوچوں اور افعال پر اثر انداز ہو گاجو آپ کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کا باعث بنے گا۔

۳۔ خود تجویز، خود کلامی یا خود ایمائی:۔ تحت الشعور پر اثر انداز ہونے کا زریعہ دولت کی جانب تیسرا قدم ہے۔ جو لوگ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں اور ساری زندگی غربت، حسرت اور غم میں گزار دیتے ہیں ان کے ساتھ ایسا اپنے آپ کو مشورہ دینے یعنی خودایمائی کے اصول کے منفی اطلاق کے باعث ہوتا ہے۔ جس طرح خود کو مثبت مشورہ دینا یا مثبت خود کلامی آپ کو عروج کی جانب لے جائے گی بالکل اسی طرح منفی خود کلامی آپ کو پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دے گی۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ ایک ناکام شخص ہیں تو ایسا ہی ہے، اگر آپ سوچتے ہیں کہ ہمت نہیں کرنی چاہے تو آپ کبھی ہمت نہیں کریں گے، اگرآپ کامیا ب ہونا چاہتے ہیں مگر سوچتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو یہ یقینی ہے کہ آپ کامیاب نہیں ہوں گے، اگر آپ سوچتے ہیں کہ ہار جائیں گے تو آپ ہار چکے ہیں۔ آپ اگر ہر وقت ناکامی کا سوچیں گے تو آپ ناکام ہوں گے اس کے برعکس آپ اگر ہر وقت کامیابی کے بارے سوچتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ آپ کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئی تحریر کو کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں آپ کی نظر اس پر پڑتی رہے، اس طرح آپ اس کو بار بار پڑھ سکیں گے اور یہ آپ کو از بر ہو جائے گی اور آپ کے تحت الشعور میں سما جائے گی۔ شروع میں یہ سب کرنا آپ کو مشکل، مبہم، غیر عملی اور ناممکن لگے گا اور اپنی منفی سوچ کی وجہ سے آپ کو اس پر شک و شبہ بھی ہو گا، مگر جیسے جیسے آپ ان ہدایات پر عمل کریں گے یہ آپ کے لیے نہ صرف آسان ہو جائے گا بلکہ آپ کا یقین بھی پختہ ہوتا جائے گا، اور ممکنات کی دنیا آپ پر کھل جائے گی پھر آپ کو اس کے ثمرات سمیٹنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

یہ امر بہت ہی ضروری ہے کہ آپ رات کو سونے سے پہلے سکون کے ساتھ آنکھیں بند کر کے بلند آواز سے وہ تحریر دوہرائیں جس میں آپ نے رقم لکھی ہے اور جسے حاصل کرنے کا آپ ارادہ رکھتے ہیں اس کو حاصل کرنے کی تاریخ اور رقم کے عوض گاڑیوں کی تجارت کے بارے میں بھی دہرائیں، ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ تصور کریں کہ رقم پہلے ہی آپ کے قبضہ میں ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنی نہایت ضروری ہے کہ یہ تحریرمکمل ایمان و یقین کے ساتھ پڑھنا نہایت ضروری ہے صرف رٹے رٹائے الفاظ کو اگر آپ ہزار بار بھی پڑھ لیں گے تو اس کا کوئی اثر نہ ہو گا، آپ کا تحت الشعور صرف جزبات اور احساسات سے بھر پورسوچوں کو ہی شناخت اور ان پر عمل کرتا ہے۔ جزبات سے عاری روکھے الفاظ تحت الشعور پر اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ یقین سے بھر پور سوچیں یا ادا کردہ الفاظ تحت الشعور تک نہیں پہنچائیں گے، قابل ذکر نتائج حاصل نہیں کر پائیں گے اور آپ اس پر دسترس صرف اور صرف مستقل مزاجی سے حاصل کر سکتے ہیں، آپ کوثابت قدم رہنا ہو گا اور اس مشکل مشق کے بغیر آپ کا کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ خود ایمائی کے اصول کو استعمال کرنے کی صلاحیت کا انحصار اپنی خواہش پر اس وقت تک توجہ مرکوز رکھنے کی استعداد پر ہے جب تک کہ وہ خبط و جنون نہ بن جائے۔

۴۔ تخصیصی علم:ذاتی تجربات یا مشاہدات دولت کی طرف چوتھا قدم ہل کے مطابق علم دو طرح کے ہوتے ہیں ایک عام علم اور دوسرا خاص علم۔ ہمارے ہاں جو تعلیم کا طریقہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج ہے وہ عام علم کے متعلق ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں سے جو تعلیم یافتہ افراد ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو علم ساری زندگی حاصل کرتے رہے عملی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ اپنے علم کو منظم کرنے اور دانشمندی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک معین مقصد کے حصول کی خاطر استعمال میں لانے کا گر نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کبھی بھی امیر ترین لوگوں میں جگہ نہ بنا پایا اگر صرف علم سے دولت اکٹھی کی جا سکتی تو یونیورسٹیوں کے پروفیسر سب سے امیر ہوتے۔ علم طاقت نہیں ہے یہ اس وقت تک طاقت نہیں بن سکتا جب تک کہ اسے ایک مقررہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے استعمال میں نہ لایا جائے۔ اپنی خواہش کو اس کے برابر دولت میں بدلنے کی صلاحیت کا یقین ہونے سے قبل اس دولت کے بدلے میں جو بھی خدمت، مال، تجارت یا پیشہ آپ دینا چاہتے ہیں اس کے بارے میں ماہرانہ علم درکار ہو گا۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے بہت زیادہ تخصیصی علم درکار ہو جو آپ کے پاس نہ ہو مگر آپ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ماسٹر مائنڈ گروپ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے متعین کردہ مقصد کے حصول کے لیے کسی خاص تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کی ضرورت ہے تو آپ اپنے ماسٹر مائنڈ کی انفرادی اکائیوں کا استعمال کر سکتے ہیں، ماہرانہ علم ضروری نہیں کہ دولت جمع کرنے والے کے پاس ہو مگر وہ انتہائی دانش مندی سے یہ علم کسی دوسرے کی خدمت یا صلاحیت کو بروئے کار لا کر حاصل کر سکتا ہے۔ تھامس ایڈیسن نے پوری زندگی صرف تین ماہ سکول کی شکل دیکھی، اس کے پاس تعلیم کی کمی تھی نہ ہی وہ غریب مرا۔ ہنری فورڈ پرائمری پاس تھا تا ہم مالی طور پر وہ اپنے وقت کا امیر ترین آدمی تھا۔ اسی طرح اگر آپ گوگل پر ان لوگوں کے متعلق سرچ کریں کہ جو اپنے وقت کے امیر ترین لوگ تھے مگر انہوں نے سکول و کالج کی شکل تک نہیں دیکھی تھی تو آپ ان لوگوں کی تعداد دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ اس لیے علم کیسے خریدنا ہے کا جاننا بہت فائدہ دیتا ہے۔

فیس بک تبصرے