حمد باری تعالیٰ

مار نہیں پیار : بشری نواز

آے دن اخبارات ٹیلی ویژن اور فیس بک پے جو جو خبریں۔ دیکھنے سننے کو۔ ملتی۔ ہیں ان مین سے کچھ خبریں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ پڑھتے ہی دل دہل جاۓ
اکثر واقعات بچوں کی تعلیم کے کے گرد گھومتے ہیں بچے سکول۔ کے ہوں یا مدرسہ کے ما ر یا تشدد کے بغیر اساتذہ کا گزارا نہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟
کیا ۔مار اور تشدد تعلیم۔ کا ہی کوئی۔ حصہ ہے ؟
مدرسوں مین۔ اکثر بچوں اتنا ما را جاتا ہے بچہ مر ہی جاتا ہے یہ ہی حال اکثر سکولوں مین بھی ہے کچھ عرصہ ہوا گورمنٹ سکولوں میں مار پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن ٹیچر حضرات پھر بھی باز نہیں آتے ٹیچر سکول کا ہو یا مدرسہ کا نا تو ان کو دین اجازت دیتا ہے اور نا ہی معاشرہ
مار اور تشدد بچے کے دل میں استاد کے لیے نفرت پیدا کرتی ہے تعلیم سے بغاوت بھی پیدا ہو سکتی ہے مار پیٹ بچے کے کردار پر بہت برا اثر ڈالتی ہے بچوں کو ضدی اور نالائق کر دیتی ہے اچھے استاد کی کوشش ہونی چاہے کہ وہ پیار سے پڑھاے مار پیٹ کردار کو مثبت نہیں بنا سکتی اچھے شہری اچھے نیک دل استاد ہی بنا سکتے ہیں۔
مغربی ممالک مین بچوں کی مار پیٹ پے مکمل۔ پابندی ہے جو اس جرم مین ملوث ہو۔ اسے سخت سزا دی جاتی ہے کاش ایسا کوئی قانون پاکستان مین بھی رائج ہو۔ بچوں۔ کی تعلیم و تربیت کوئی آسان۔ کام نہیں۔ اچھی تعلیم ہی آج کے بچے کو کل کا اچھا شہری بنا سکتی۔ ہے مار پیٹ سے بچے کی خود اعتماد ختم ہو۔ جاتا ہے ار وہ خود بھی۔ تشدد پسند ہو۔ جاتا ہے زیادہ مارپیٹ سے بچے نفسیاتی مریض بھی بن سکتے ہیں۔ ضروری نہیں۔ سختی سے ہی بچہ پڑھ سکتا ہے ۔ شفقت اور نرمی سے بھی کام لیا جا سکتا ہے پھر یہ بھی ہے کہ تمام بچے ایک جیسی ذہنی۔ صلاحیت کے مالک نہیں ہوتے ہو بھی سکتا ہے کہ استاد کا نرم رویہ سٹوڈنٹس کو کامیابی۔ سے ہمکنار کر دے

فیس بک تبصرے