حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

میرا سپر ہیرو : ویب ڈیسک

۔
پاکستان پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے ہماری فلمی صنعت اس میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوکر آفت زدگان کی مدد کرتی ہے ۔پاکستان کی فلمی صنعت متحدہ پاکستان کے زمانے میں باقاعدگی کے ساتھ کراچی اور ڈھاکا میں امدادی کرکٹ میچ کھیلوں کا اہتمام کرکے خیراتی اداروں کو فنڈز مہاکیاکرتی تھی ۔1973میں جب پاکستان کی تاریخ کا تباہ کن سیلاب آیا تو اس بار فلمی صنعت کی دو شخصیات اداکار سلطان راہی اور اداکار رنگیلا نے کراچی میں فلمی دنگل لڑکر سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کی تھی ۔یہ ایسا موقع تھا جب پاکستان میں سیاسی میدان میں بھی شدید بحران پیدا ہوچکا تھا ۔سیلاب کی وجہ سے بھٹو کی حکومت بھی ڈوبنے والی تھی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سیلابوں نے بھی کئی حکومتوں اور حکمرانوں کی تقدیر کا فیصلہ کیا ہے ،ان مشکل ترین حالات میں جس حکمران نے حوصلے سے کام لیا اس نے قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے بحران کو ٹالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کی ۔1973میں دریائے سندھ میں آنے والی طغیانی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تووزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی جانا ٹھہر گیا تھا ۔اس دور میں ہی بھٹو امریکی صدررچرڈ نکسن سے ملاقات کے لئے امریکہ جارہے تھے کہ عین وقت پر امریکی صدر نکسن کی صحت خراب ہونے سے انہیں دورہ ملتوی کرنا پڑا جس کی وجہ سے اپوزیشن نے ان کی ناکام خارجہ پالیسی کو بری طرح نشانہ بنایا لیکن عین وقت پر دریائے سندھ سے اٹھنے والے سیلاب نے جب ملک میں کاٹن اور چاول کی کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا تو ملکی معیشت زیرو پر آکھڑی ہوئی جس سے پورا ملک ڈنواڈول ہوگیا تھا ۔اس موقع پر امریکہ نے فوری طور پر بھٹو کی استدعا پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے ریسکیو ٹیمیں بھیجیں اور 30ملین ڈالر سیلاب کی مد میں فراہم کردئیے جبکہ ایک لاکھ ٹن گندم بھی فراہم کی جو اس دور تک امریکہ کی پاکستان کے لئے سب سے بڑی امداد تھی ۔امریکی امداد ملنے سے بھٹو نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا تاہم سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے پوری قوم کو آگے بڑھنے کی اپیلیں کی گئیں ۔اس موقع پر پاکستان کے مشہور پہلوانوں بھولو پہلوان رستم زماں نے سیلاب زدگان کی مالی مدد کے لئے کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم میں کشتیاں کرانے کا اعلان کیا اور تمام پہلوان کو اس قومی مقصد کے لئے رضا مند کرلیا ۔اس وقت قوم کا جذبہ مزید بڑھانے کی ضرورت تھی جس کے لئے بھولو پہلوان نے اداکار سلطان راہی سے بات کی اور انہیں بھی دنگل میں شریک ہونے کا مشورہ
دیا جس پر سلطان راہی نے انہیں دنگل میں عوام کی دلچسپی بڑھانے کے لئے اداکار رنگیلا کے ساتھ کشتی لڑنے کی تجویز دی ۔

1973کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے لئے کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا دنگل تھا جو 12 ستمبر 1973کو لڑا گیا۔ان مقابلوں کو فلمی دنگل کا نام دیکر عوام کی دلچسپی بڑھائی گئی اور سینماگھروں ہوٹلوں اور ریس کورس میں تین روپے سے پچاس روپے تک ٹکٹ فروخت کئے گئے ۔فلمی دنگل میں تاریخ ساز ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا اور اسکی کمائی سیلاب متاثرین کو فراہم کی گئی ۔اس موقع پر جو پوسٹر شائع کیا گیا اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے دو معروف اداکاروں کی کشتی دیکھتے ہوئے لوگوں نے غیر معروف پہلوانوں کی کشتیوں کو بھی شوق سے دیکھا تھا ۔اداکار رنگیلا اور سلطان راہی نے پہلوانوں کے سٹائل میں لنگوٹ کس کر کشتی لڑی ۔تماشائی رنگیلے کی حرکات دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے ۔وہ جب بھی سلطان راہی کے ہاتھوں چت ہوتے ،تماشائی پھر سے انکی کشتی کرانے کا تقاضا کرتے تھے۔یہ کشتی کافی دیر تک جاری رہی اور دونوں پہلوان ایک دوسرے کوکئی بار پچھاڑنے کے باوجود کشتی لڑتے رہے تھے ۔حتِی کہ ان کی کشتی کا مقصد پورا ہوگیا۔
فن کے سلطان ،سلطان راہی 80ء کے عشرے میں پنجابی فلموں کے معروف ہیرو رہے ہیں انہوں نے 15برس تک فلمی دنیا پر راج کیا اورسات سو سے زائد فلموں میں اداکاری کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیاہے جن میں پانچ سو فلموں میں انہوں نے بطور ہیرو کردار ادا کیا ہے۔پنجابی فلموں کے نامور ہیرو سلطان محمد المعروف سلطان راہی1938ء کو بھارت کے شہر سہارن پور میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔
سلطان راہی نے 1971ء میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اس دوران پنجابی فلم ’’ بشیرا ‘‘ کی کامیابی نے انہیں سپر سٹار بنا دیا سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بن گئی ان کی فلم ’’ مولا جٹ ‘‘ نے باکس آفس پر کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ’ سالا صاحب، چن وریام،اتھرا پتر،ملے گا ظلم دا بدلہ، ’ وحشی جٹ ‘ ، ’ شیر خان ‘ ، ’ شعلے ‘ ، ’ آخری جنگ ‘ ،جرنیل سنگھ، دو بیگھے زمین،شیراں دے پتر اور دیگر قابل ذکر ہیں سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 12اگست 1981ء کو ان کی پانچ فلمیں’ شیر خان،ظلم دا بدلہ،اتھرا پتر،چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز ریلیز ہوئی تھیں ان فلموں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے تھے۔
سلطان راہی نے سات سو سے زائد فلموں میں کام کیا جو کہ ورلڈ ریکارڈ ہے سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں موجود ہے انہیں 150سے زائد فلمی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے ۔ سلطان راہی کی مقبول ترین فلمی ہیروئن میں آسیہ،انجمن،صائمہ،گوری،نیلی،بابرہ شریف قابل ذکر ہیں۔ فن کے سلطان سلطان راہی کو 9جنوری 1996ء کو گجرانوالہ کے قریب نامعلوم ڈاکوئوں نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا سلطان راہی کی المناک موت کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موت کے وقت بھی سلطان راہی کی 54فلمیں زیر تکمیل تھیں اوریہ بھی ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔

فیس بک تبصرے