حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

سنتے ہیں کہ عید آئ تھی از قلم عمار راجپوت

کام سے لوٹے تو گھڑی صبح کے تین بجا رہی تھی چار بجے فجر تھی اور اس کے آدھ پون گھنٹے بعد نماز عید۔۔۔ یعنی عید یقین سے بھی زیادہ قریب آچکی تھی۔ مگر اب کہ یہ کیسی عید آئ تھی کہ کوئی جانور دیکھا نہ منڈی گشت کیا، کسی سے بھاؤ تاؤ کیا نہ اسی ہزار والا جانور کا چالیس ہزار لگایا۔ کسی راہ چلتے سیدھے سادھے بیوپاری کو روکا نہ کسی راہ جاتے سے پوچھا کہ بھیا کتنے میں بنا۔ ایک وقت تھا ہم کو رہا ہے!

ہم شغل ایک ساتھی کہنے لگے چونکہ نماز میں ابھی کچھ وقت باقی ہے تو کیوں نا اس وقت کو نہانے دھونے اور تیار ہونے میں ضائع کیا جائے، میرے پاس اپنا کوئی ترتیب دیا ہوا نقشہ تو تھا نہیں کہ ایسا کرنا ہے یا ویسا، لہذا اثبات میں سر ہلا دیا۔ اشنان کیا، بال بنائے، فجر پڑھی، ہاتھ اٹھانے تھے کہ بے خیالی میں مصلی اٹھا دیا، دعا جو آسمان میں جا کے اٹکتی یا پھر ذخیرہ اعمال میں جمع ہوتی، بے سفر ہی رہی۔ خیر۔۔۔ یار زندہ دعا باقی!

کمرے سے نکلے تو سامنے گہری گندمی رنگت والا وجیہہ چہرہ ایک اور دوست سفید چوڑی دار پائجامَہ کے اوپر نارنجی رنگ کے کڑتے میں بری طرح پھنس کے کھڑا تھا۔ دریافت کرنے پہ کھلا کہ پنڈت جی کا عید پڑھنے کا ارادہ ہے۔ یہ ہمارے پنڈت دوست بہت ہی مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک اور انتہا یار باش قسم کے آدمی ہیں، زبان اور دل پر انہیں رتی برابر اختیار نہیں، جو ذہن میں سوچتے اور دل سے محسوس کرتے بغیر لگی لپٹی کہنے کے عادی ہیں، پیدا ہندو ہوئے ہیں، گوشت میں بیف اور کتاب میں بائبل ان کی پسند ہے۔ زاکر نائیک کو فرصت سے سنتے اور محبت اپنا مذہب بتاتے ہیں۔ ارادہ وہ باندھ چکے تھے اور منع ہم کر نہیں سکتے تھے سو انہیں ساتھ لیا اور عید پڑھنے کو نکلے، پہنچ کر دیکھا کہ مسجد میں نمازی تو ابھی نہیں آئے البتہ دروازے پر چند بھکاری عورتیں ملجگیں برقعوں میں نحیف و لاغر سے بچوں کو لیے بیٹھی ہیں ۔ یہ وقت سے پہلے آ سکتی ہیں تو نمازی کیوں نہیں کیا بھوک عبادت سے بڑی ہے؟

کیسا واہیات سا سوال تھا۔ سر جھٹکا اور وقت گزاری کو مسجد کے صدر دروازے کے قریب ہی موجود ایک تھڑے پر نشت جمائ اور آپس میں گپیں ہانکنے لگے۔ کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ بلدیہ کی گاڑی سڑک صفائی کے نام پر بیٹھی ہوئی گرد بھی اڑاتی ہماری طرف چلی آئ۔ گاڑی کے پیچھے لگے کھرچوں کی آواز ایسی تھی کہ جیسے وہ ہم سے کہہ رہے ہوں کہ نہیں، یہ تھڑا بازی یہاں نہیں چلے گی۔شاید ہم تو امام صاحب کی آواز آنے تک باھر ہی بیٹھتے لیکن گرد و غبار سے بچنے کی خاطر اندر چلے گئے، نفل اور تلاوت میں باقی وقت گزارا، پنڈت جی مسجد میں بھی اسی فریکوئنسی اور ٹون پر چل رہے تھے بلکہ بج رہے تھے جو ان کی پہچان ہے۔ ہم نے انہیں سائلنٹ موڈ پر لانا تو چاہا مگر کچھ سوچ کر ایسا کرنے سے باز رہے، یہ جو “کچھ” ہم نے سوچا تھا یہ مسجد نبوی میں پیش آنے والے چند واقعات تھے جو غیر مسلموں کی ناواقفیت کے سبب مختلف ادوار میں واقعہ ہوئے تھے، خیر  امام صاحب آئے، نماز پڑھی خطبہ ہوا اور وہاں آئے اپنے کچھ یار دوستوں سے بانہیں چار کیں، بانہیں چار کرنے کی اس ورزش نے اچھی خاصی بھوک لگا دی، مسجد سے نکلے تو قریب ہوٹل تھا جا پلیٹ میں گرے۔

کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھی تھی اور اب سو کر اٹھنے کے بعد الحمدللہ کہتے ہوئے پتہ چلا ہے کہ ایک سال کی مسافت طے کر کے عید نامی کوئی شے جو آج صبح ہی یہاں آئ تھی اسے جاتے ہوئے سورج واپس اپنے ساتھ لے گیا ہے۔
تمت بالخیر

فیس بک تبصرے