حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

حکمران کا انتخاب کیسے کریں : ابوبکر قدوسی

۔
اسلام نے اپنے نظام سیاسی میں بنیادی اصول اور ضابطے اس حد تک طے کر دئیے کہ جزیات تک زیر بحث آ گئیں …انداز حکمرانی ہو یا نظام عدل ، حالت جنگ میں انسانی حقوق ، جنگ کے ضوابط ہوں یا امن کے دنوں میں مملکت کے معاملات چلانے کے طریق …بچوں کی تربیت سے لے کر خواتین اور غلاموں کے حقوق حتی کہ راستوں کے جمادات اور نباتات تک کے حقوق ….
آپ کو قران و حدیث کے عظیم الشان ذخیرے میں کوئی پہلو تشنہ دکھائی نہیں دے گا- ..صرف ایک مثال دیتا ہوں ..جنگ کا میدان سجا ہوا ہے رسول مکرم اپنی تلوار اٹھاتے ہیں اور داد شجاعت کے طلب گار بن کے امیدواری کا سوال کرتے ہیں کہ کون ان کی تلوار لے کر اس کا حق ادا کرے گا ..رسول کریم کے چچا سمیت امیدوار نگاہوں سے صحابہ آگے بڑھتے ہیں ..آپ ایک صحابی کو تلوار دیتے ہیں ، جو داد شجاعت دیتے دشمن کی صفوں کو چیرتے عقب تک جا پہنچتے ہیں .. دیکھتے ہیں کہ ایک بلند قامت سیاہ پوش لشکر کے سواروں کا حوصلہ بڑھانے کو رجزیہ اشعار اور حوصلہ مندی کی باتیں کر کے انگیخت کر رہا – صحابی چشم زدن میں اس کے سر پر جا پہنچتے ہیں ..تلوار جو بلند کی تو اندازہ ہو گیا کہ خاتون ہے کہ جو سیاہ لباس پہنے میدان میں پہنچی ہوئی ہے …پہچان بھی گۓ کہ (سیدہ ) ہندہ تھیں …قبل از اسلام …
تلوار کو روک لیا کہ ہادی و مرشد نے عورتوں کو قتل کرنے سے روکا تھا ……
مثال کا مقصود یہ تھا کہ نظام حیات کی اس قدر جزیات طے کر دینے والا دین نظام حکمرانی کے اہم ترین جزو بارے خاموش ہے … یعنی حکم ران کا چناؤ کیسے کیا جائے گا ؟ —-
خلفائے راشدین( سب ) کے چناؤ کا طریقہ مختلف تھا – سیدنا ابو بکر کو مختصر لیکن تلخ اختلاف رائے کے بعد چنا گیا اور جب چن لیا گیا تو ان پر اتفاق بھی کر لیا گیا اور ان کی سب نے بیعت بھی کر لی – لیکن اس بیعت سے پہلے جو لوگ سیدنا علی کو خلافت کا حق دار سمجھتے تھے ان کے پاس دلیل قرابت داری اور بنی ہاشم کا ہونا تھا ، اب رک کے ذرا سوچیے کہ جناب علی کے حامی بھی صحابہ رسول تھے اور ان کا فہم خاندانی اور نسبی بنیاد پر جانشینی کو غلط نہیں سمجھتا تھا …. جب کہ انصار کا موقف تھا کہ وہ مدینے کی زمینوں کے مالک ، اسلام اور پغمبر اسلام کے میزبان اور رکھوالے ہیں سو خلافت ان کا حق ہے .. مہاجرین کا موقف اپنی قربانیوں کی داستان لیے ہووے تھا اور ان میں بلا شبہ برگزیدہ ترین شخصیت سیدنا ابوبکر ہی تھے …
قصہ مختصر اختلاف کے بعد سب کا اتفاق سیدنا ابو بکر پر ہو گیا …لیکن یہ اختلاف رائے ظاہر کرتا ہے کہ حکمران کے چناؤ کا کوئی طریقہ واضح نہ تھا جو اختلاف ہوا —
سیدنا عمر کا انتخاب سابقہ خلیفہ کی ذاتی صوابدید ، اور براہ راست نام زدگی کے ذریعے ہوا…یہ پچھلے انتخاب سے یک سر مختلف تھا
جب سیدنا عمر زخمی ہو کے جان بلب ہو گئے تو انہوں نے چھ رکنی کمیٹی بنائی اور کہا خود میں سے کسی کو منتخب کر لو …. چار اصحاب اپنے حق سے دست بردار ہو گئے ….میدان میں جناب عثمان اور سیدنا علی رہ گئے ..اب معاملہ سیدنا عبد الرحمان بن عوف کے سپرد کیا گیا کہ وہ جو چاہے فیصلہ کریں ….. اب رک کے دیکھئے کہ کیا انہوں نے اپنی رائے اور مرضی سے فیصلہ کیا ؟…. وہ مدینے کے بازاروں میں نکل گئے ، نخلستانوں کا رخ کیا ، پردہ دار بیبیوں کی طرف گئے …کہتے ہیں :
“میں نے سب سے پوچھا خلیفہ کس کو چاہتے ہو ؟…اکثریت نے عثمان کی طلب کی “…. سو فیصلہ سیدنا عثمان کے حق میں آ گیا … کیا اس طریقے کو ہم ایک چھوٹا موٹا انتخاب کہہ سکتے ہیں ؟..
تین خلفاء تینوں کا طریقہ انتخاب فرق ..اس سے کیا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اسلام نے حکمرانوں کا چناؤ عوام کی ذاتی صوابدید پر رکھ چھوڑا ہے ..کہ وہ جیسے چاہیں اپنا حکمران منتخب کر لیں ….
لیکن حکمران منتخب ہونے بعد اسلام کے ان ان ضوابط کا پابند ہو گا ….اسلام کے قانون کو نافذ کرے گا ..دین کی اقدار کی حفاظت کرے گے …اور عوام بھی اس کی اطاعت کریں گے ..بھلے وہ کسی طریقے سے منتخب ہوا ہو گا ……
اب میں سوچ رہا ہوں کہ اگر جمہوری طریقے سے کوئی اپنا حکمران منتخب کر لیتا ہے تو اس میں اسلام کے کس حکم کی خلاف ورزی ہے ؟؟؟؟

فیس بک تبصرے