حمد باری تعالیٰ

بھٹ پئی شاہی : ابو بکر قدوسی

بھٹ پئی شاہی…………….
تے میں یار دا دامن پھڑ ساں
مول نہ ھل ساں..**
گرمی کی شدت روح اور بدن سب کو جھلسائے دے رہی تھی.. کھجوریں پک کر تیار ہونے کو تھیں..کسانوں کی محنت جب رنگ لا رہی ہوتی ہے تو دل خوشی سے اچھلتے تو ہیں ہی ، لیکن اسی بیچ اندیشہ ہائے دراز بھی دل میں جنم لے رہے ہوتے ہیں – ہر دم یہ دھڑکا کہ کہیں یہ نہ ہو جائے ، کہیں یوں نہ ہو جائے –
..ایسے میں طبل جنگ بجا اور اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھیوں کو تیاری کے لیے کہا…….
…قصہ اس روز شروع ہوا جب ساتھی سفر کو جا چکے ..
“ہاں مجھے کھجوروں کے ٹھنڈے سائے اور پھلوں سے رغبت سی ہو رہی تھی”…سیدنا کعب نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوۓ آہ بھری..
… ساتھی تیار ہورہے تھے…اور کعب سوچ رہے تھے کہ کل تیاری کر لوں گا اور پھر مزید کل….کل اور کل کرتے گئے –
لشکر نکل گیا..ساتھی بچھڑ گئے..اور کونج ڈار سے بچھڑ گئی –
جب اونٹوں کے سائے بھی دور نکل گئے تو پھر احساس زیاں نے آن گھیرا – تب کعب نے جانا چاہا ، لیکن وقت گزر چکا تھا.- اب لشکر سے ملنا ممکن نہ تھا
“یلیتنی فعلت”………….کاش میں چلا ہی جاتا….
لشکر تبوک کے نواح میں پہنچ چکا اور کعب مدینے میں تھے –
وہ رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نظر میں تھے…نبی کو ان سے محبت تھی – ان کی یاد نبی کو آتی ہی تھی جو تبوک پہنچ کر پوچھا :
“ما فعل کعب بن مالک؟…..کعب نے کیا کیا؟ –
لہجہ دکھی دکھی سا تھا ، دوست عزیز دوست کعب سے آپ کو یہ امید نہ تھی – لہجے میں دکھ بھر آیا –
کچھ روز گزرے…لشکر واپس آ گیا…
کعب (رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ :
“مجھے غم نے آ لیا ، پچھتاوا رگوں میں اتر رہا تھا – میں سوچ میں تھا کہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیا کہوں گا ، آپ کا سامنا کیسے کر پاؤں گا – حاضر ہوا تو غصے میں بھی آپ مسکرا دئیے”
…لیکن چہرہ دوسری طرف کو موڑ لیا…کعب تڑپ اٹھے.
“واللہ ! میں منافق نہیں ہوا،
واللہ ! میں شک میں نہیں مبتلا ہوا
واللہ ! میں نے کفر اختیار نہیں….
پھر اعراض کیوں؟
نگاہیں کیوں پھیر لیں؟
دامن کیوں چھڑا لیا ؟…..
جواب آیا
………………….ما خلفک؟
کس چیز نے تجھے پیچھے رکھ لیا؟.
…………دو لفظ ہی توتھے… لیکن کعب کا دل دہل گیا….
سچ کہوں..خاموش رہوں…جھوٹ بول دوں….ہزار خیالات ان کے دل میں آ کر نکل گئے….نظریں جھکا لیں:
“ہاں مجھے کوئی عذر نہ تھا… رکنے کی کوئی وجہ نہ تھی..”
…..رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پھیر لیا….کعب نامراد خالی ہاتھ ، خالی دامن گھر چلے آئے
ان کی محفل سے ہم یوں اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
….قبیلے کے لوگ چلے آئے ..ملامت کی کہ کیوں سچ بول کے “عزت” گنوائی..ایک بارگی تو کعب ڈول گئے..کہ ناحق سچ بولا – لیکن کسی نے خبر دی کہ دو اور ساتھی بھی سچ پرقائم ہیں – کعب کا دل سچ پر جم گیا…
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے ، بیٹھ گئے
..کچھ ہی روز میں سب کو کعب سے ترک تعلق کا حکم آ گیا…..
…مدینہ اجنبی ہو گیا جن گلیوں میں کھیلے، جوان ہو گئے…وہ اب پہچانتی بھی نہ تھیں کہتے ہیں:
” میرے لیےساری زمین ہی بدل گئی…میری اپنی ذات میرے لیے اجنبی بن گئی”
ہم کہ ٹھہرے اجنبی ……..
دل سے ہوک اٹھتی ، لیکن بے بسی تھی ، شائد جرم بڑا تھا –
ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
دن لمبے اور راتیں ویران ہوتی چلیں گئیں….
امید کا دیا جلتا اور بجھ جاتا ..ہر پل امید کہ ابھی غم دل کا نصیبہ جاگ جائے اور محبوب سے اذن ملاقات کا پیام آئے –
لیکن امتحان باقی تھے.
..غسان کے بادشاہ نے ان کو خط لکھا :
” کعب ! سنا ہے تم اپنی ہی بستی میں اجنبی ہو گئے –
کعب ! سنا ہے اب سورج نہیں چمکتا –
کعب ! سنا ہے اب چاند نہیں نکلتا –
کعب ! سب رنگ بے رنگ ہووے
ہم سے آن ملو…آ جاؤ ہم تمہیں اپنے اموال میں بھی ساتھی بنا لیں گے ، اس ذلت والی جگہ پر نہ رہو ، ہاں ھم سے آن ملو ”
کعب تڑپ تڑپ اٹھے…آنکھوں میں آنسو بھر آئے…اللہ یہ وقت بھی آنا تھا…دھیرے سے اٹھے اور بادشاہ کا خط جلتے تنور میں ڈال دیا
بھٹ پئی شاہی…………….
تے میں یار د دامن پھڑ ساں
……………………..مول نہ ھل ساں….
…..دل کچھ ٹہر گیا ، لیکن کے روز؟…..اک روز بے کلی جب حد سے گذری تو ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پر جا چڑھے…ہائے وہ ابو قتادہ جو بچپن کے یار تھے ، لنگوٹیے یار – بہت دل کا رشتہ ہوتا ہے یہ – پھر “چاچا” کے بیٹے بھی تھے…شدید محبت تھی ان سے لیکن آج قیامت ہو گئی کہ یار نے رخ پھیر لیا – کعب کے دل میں شکوہ اتر آیا
نداند رسمِ یاری بے وفا یارے کہ من دارم
بہ آزارِ دلم کوشد دل آزارے کہ من دارم***
لیکن پھر غم بھلا کے ، ہمت بڑھا کے ، کعب نے پھر قسم دے کر پوچھا کہ:
” یار ! تم تو جانتے ہو میں اللہ اور رسول سے پیار کرتا ہوں …بولو نا یار …بولو نا….”
کعب کی آواز نہ تھی درد کی لہرتھی کہ یار کا دل بھی تڑپ اٹھا ، لیکن دوسری طرف اللہ کے دوست کا حکم تھا…ابو قتادہ بس اتنا ہی کہہ پائے:
“اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں”
کعب آنکھوں میں آنسو بھرے واپس پلٹ آئے…..ہاں آپ رو پڑے…ہاں ہم مسلمانوں کے پاس ایمان کے سوا کیا ہے.؟..اور وہ بھی صحابی رسول کا ایمان…ستم یہ کہ بچپن کا دوست جو خود صحابی رسول …اور ایمان کی تصدیق سے انکاری……….
چالیس روز گذر گیے….امید بندھتی ٹوٹ جاتی ، مایوسی اب جان کو آ رہی تھی . تنہائی عذاب جان ہو رہی تھی –
اک روز پیام بر آیا – پر امید کعب مستعد ہوۓ کہ دیکھئے کیا پیام آیا ہے؟
“رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیویوں سے الگ ہو جاؤ”
پیغام کو سنتے ہیں نظریں جھک جاتی ہیں کہ ابھی ضبط کے امتحان باقی ہیں….
“طلاق دے دوں….؟”
“نہیں ! بس پاس نہیں جانا”……پیغامبر نے دھیرے سے کہا اور چل دیا
..آپ گھر داخل ہوۓ…دکھ سکھ کی ساتھی کو کہا کہ والدین کے گھر چلی جائے…اور تنہا کعب گھر میں بیٹھ گئے – لیں اب وقت آ گیا تھا …
مشکل؟….
ارے نہیں بھائی ..اب تو وقت آیا تھا….کہ کعب تھے اور ان کا رب……….بس نہ کوئی دوست نہ رشتہ نہ ساتھ نا انسان…بس کعب اور ان کا رب……
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
کبھی تو جی چاہتا کہ محبوب کی درگاہ کو چلے جائیں اور پاؤں میں سر رکھ دین پھر یاد آجاتا کہ ضبط لازم ہے بھلے دکھ قیامت کا ہو –
پھر اک روز جب تنہائ نے سب بند طور دئیے ، دور سے آواز آئ
….ابشر یا کعب……….مبارک ہو کعب….
ہاں جبل سع پر چڑھا کوئی آواز لگا رہا تھا..
“کعب تمہاری توبہ اللہ نے قبول کر لی..وحی آگئی..”
جو گھڑی بھر پہلے پہچان بھی نہ رہے تھے وہ کعب کے گھر کو بھاگے….ایک ساتھی نے شان دار گھوڑا بھجوایا…سب خوش تھے..اور دور سے جیسے آواز آ رہی تھی

…..بھٹ پئی شاہی…
………..تے میں یار دا دامن پھڑ ساں
……………….مول نہ ھل ساں….**
..
……………………….ابوبکرقدوسی
..
**بادشاہی کو آگ لگے… میں نے اپنے محبوب کا دامن تھاما ہے .اور میں اسے کبھی نہ چھوڑوں گا
***میرا بے وفا یار دوستی کی رسم نہیں جانتا۔ میرا یارِ دل آزار میری دل آزاری میں مصروف رہتا ہے

فیس بک تبصرے