حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

سانحہ ساہیوال :منصور ندیم

.
ساہیوال جعلی پولیس مقابلہ نہ ہی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوگا۔
قریب سال بھر سے میں نے ان موضوعات پر لکھنا ہی چھوڑ دیا تھا،
کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسے ہر واقعے کے بعد بس ایک ہی بات سمجھ آئی ہے، کہ یہاں سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے لکھاریوں کی دو قسمیں ہیں، ایک تو وہ جو اس ریاست کے موجود مروجہ نظام کی حمایت کرتے ہیں، اس کے موجود گندگی اور مافیاز کے جواز کو ثابت کرتے ہوئے اس میں مزید اضافہ کرتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ان عسکری اداروں (جو کہ اب مافیاز بن چکے ہیں) کی طرف سے کی جانے والی بے انصافی، استبداد و استحصال کو کبھی مصلحت اور کبھی حب الوطنی کے لبادے میں لپیٹ کر تقدیسی شکل میں اطاعت و غلامی کا سبق دیتے ہیں، مجھے ان تمام خاموش دانشوروں اور حب الوطنی کی جھوٹی تقدیس میں لتھڑے اور تصنع اور لفظوں کی جادوگری سے لکھنے والے دانشوروں کے سماجی اور سیاسی شعور پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے، بجائے کہ ایمانداری اور سچائی سے موجود نظام سے سمجھوتہ کرنے کے عزت نفس اور آبرومندی کا احساس کریں ۔ یہ کبھی وقت کے دھارے کو بدلنے کے لئے ، ازکار رفتہ اور متروک قدروں پر اعتراض کرکے کبھی نظام بدلنے کی بات نہیں کرتے۔ دوسری قسم کے وہ چند لکھاری ہیں جو تلخ سچ لکھنے کی ہمت کر بھی لیں تو ایسے ایسے حب الوطنی کے جام لنڈھائے دانشور بیٹھے ہیں جو ان کے لئے غداریوں کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

ویسے سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے تمام ہی عسکری ادارے، چاہے پولیس ہو، ایف آئی اے ہو، ایم آئی ہو یا سی ٹی ڈی ہو، یہ تمام ہی کسی نہ کسی صورت میں مافیاز بن چکے ہیں، اس واقعے پر اگر کسی کو استعفی مانگنا ہے تو تمام عسکری اداروں کے سربراہان سے مانگنا چاہیئے، ویسے بھی اس واقعے پر بننے والی ، جے آئی ٹی سے کوئی نتیجہ نہیں آنے والا، کیونکہ یہ ریاست جس کا کردار ماں کے بجائے ایک ڈائن جیسا ہوگیا ہے ،اسے اپنے ہی بچوں کا خون چاہیئے ۔

سی ٹی ڈی کے کراچی سے لیکر پشاور تک کے کارناموں کو جاننے کے لئے اتنا کی کافی ہوگا کہ اگر اس ادارے کے صرف انسپکٹر لیول کے کسی بھی افسر کے اگر بنک اکاونٹ اور منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی تفصیل لے لی جائیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ کوئی بھی افسر کروڑ پتی یا ارب پتی سے کم نہیں ہے ۔
کراچی میں سیاسی کارکنان کا قتل ہو، یا جہادی یا مذہبی افراد کا ماورائے عدالت قتل ، راو انوار ہو یا چوہدری اسلم یہ سب ایک ہی مافیاز کے تانے بانے ہیں، حیرت تو یہ ہے کہ ان اداروں میں سے کسی ایک ادارے کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں مارے جانے والوں میں سے اکثر چھہ ماہ یا سال بھر پہلے کسی اور ادارے نے گھر سے اٹھایا ہوتا تھا، اب یہ کون نہیں سمجھ سکتا کہ ان اداروں میں ان مقتولین کا جعلی مقابلوں کے لئے تبادلہ ہوتا ہے، ان کو نجی عقوبت خانوں میں رکھا جاتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی موقع پر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے، اکثر لا پتہ کیے گئے افراد کے بدلے تاوان لیا جاتا ہے ، لیکن کیا کیجئے کہ ایک ایسے تقدیسی حب الوطنی میں لتھڑے دانشوروں کی سوچ پر وہ پھر بھی ان کے گھناؤنے جرائم کے لئے جواز تراش لیتے ہیں ۔ حالانکہ وہ یہ تک نہیں سوچتے کہ پولیس کی پیٹرولنگ گاڑیاں پیٹرول تک عوام کی جیب سے رشوت کی صورت نکلوانے کے لئے صبح سے شام تک سرگرداں ہوتی ہے وہ انصاف یا جرائم کا تدارک کیا خاک کرے گی ۔۔۔

بقول عابی مکھنوی!
پھر سارے زندان کی دیوار میں چن کر حاکم نے
پاگل کتے چھوڑ رکھے ہیں ہماری رکھوالی کو

فیس بک تبصرے