حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

نبی کریم کے ارادہ خود کشی کا فسانہ اور صحیح بخاری پر جھوٹا الزام – ابوبکر قدوسی

سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے مسائل کو لے کر ، مرچ مسالا لگا کے پیش کیا جاتا ہے کہ جو حقیقت میں مسائل ہوتے ہی نہیں – یا جن پر امت کو ماضی میں کبھی کوئی الجھن نہ ہوئی –
عموما ایسا دو وجوہ کی بنا پر کیا جاتا ہے
پہلی وجہ ! یہ کہ صاحب کو خود پر “محقق” ہونے کا گمان ہو جاتا ہے ، کوئی خود کو مال روڈ پر نصب بھنگیوں کی توپ سی کوئی شے جاننے لگتے ہیں اور ادھوری سی تحقیق پر ، آدھی کچی آدھی پکی فہم کے سہارے محدثین پر چڑھ دوڑتے ہیں یا الزام تراشی اور انکار کا رویہ اختیار کرتے ہیں – پھر ان کے مریدین میں واہ واہ ہوتی ہے ، لیکن اہل علم جب گرفت کرتے ہیں تو ایسی پوسٹ دلیلٹ کر کے بھاگ جاتے ہیں یا شرمندہ ہووے بغیر اگلے جھوٹ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں –
دوسری وجہ ! “ریٹنگ ” کا چکر ہوتا ہے – وہی جو ہمارے الیکٹرانک چینل اختیار کرتے ہیں کہ معاشرہ بھلے تباہ و برباد ہو جائے ، واہ واہ ہونی چاہیے – ان کی تو ایک مجبوری کاروبار یعنی “مال پانی” بھی ہوتا ہے ، لیکن ہمارے یہ فیس بکی محقق بے چارے محض چند لائیکس کی خاطر اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں –
انہی مسائل میں ایک مسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود کشی کے ارادے کا قصہ ہے – اس معاملے میں حسب معمول بخاری شریف کی ایک روایت کو لے کر طعن تشنیع کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے – کبھی محدثین کے لتے لیے جاتے ہیں اور کبھی امام بخاری کے بارے میں طنزیہ گفتگو کی جاتی ہے – آئیے ذرا اصل روایت کو دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان احباب کا اصل چہرہ بھی –
صحیح بخاری کے اندر یہ روایت یوں موجود ہے:
وَفَتَرَ الوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ….. فِيمَا بَلَغَنَا …… حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقِرُّ نَفْسُهُ، فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
اور ایک مدت تک وحی بند ہو گئی ، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے -جیسے کہ ہمیں خبر پہنچی- کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے اپنے آپ کو لڑھک جائیں، لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: “ائے محمد آپ اللہ کے برحق رسول ہیں”۔ اور اس کی وجہ سے آپ کا ضطراب تھم جاتا اور نفس کو قرار آجاتا، اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑجاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لئے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے-
اصل میں یہ اس طویل روایت کا اگلا حصہ ہے جس میں نبی کریم پر وحی کے نزول کا مکمل قصہ اور کیفیت ، جبرائیل کا آنا ، آپ کی گھبراہٹ اور سیدہ خدیجہ کی آپ کو تسلی مرقوم ہے – یہ وہی مشھور روایت ہے جس کی وجہ سے آج تمام امت کو پہلی وحی کا تمام قصہ معلوم ہے ….اور کبھی کسی نے اس نہیں جھٹلایا – اسی روایت کے آخر میں وہ حصہ ہے جس کو بنیاد بنا کر ہمارے یہ “عطائی محقق ” بخاری شریف کا سیاپا کرنے لگ جاتے ہیں – ان کا وہ عالم ہے کہ :
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون مکاں گئی
اب روایت کے اس حصے پر غور کیجئے جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے – اس کی پہلی لائن میں ہی آپ کو الفاظ ملیں گے :
” فیما بلغنا ” ان الفاظ کا مطلب ہے کہ ” ہمیں خبر پہنچی ” – فن حدیث میں ان الفاظ کے بعد آنے والی روایت کے حصے کو ” بلاغات ” کہا جاتا ہے یعنی روایت بیان کر کے راوی اس میں مزید اضافہ کرتا ہے کہ بعض لوگوں سے یہ بات بھی سنی ہے – اس کا مقصد بسا اوقات گزری بات کو تقویت دینا ہوتا ہے اور کبھی کبھی محض اس سے متعلقہ موضوع ہونے کے سبب بیان کر دی جاتی ہے –
اور واضح رہے کہ بلاغات کرنے والے کوئی بھی راوی ہوں ان کی اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ان کی بات حتمی ہے ، درست ہے اور صحیح ہے – بلکہ مقصود محض یہ ہوتا ہے کہ ” اس حوالے سے یہ بات بھی سنی گئی ہے ” –
لیکن ان کو کیا خبر کبھی یہاں پر فیس بکی ” محککین ” بھی آنے ہیں ورنہ اس حصے کو الگ رکھتے –
اور قابل غور پہلو ہے کہ امانت و دیانت کا انتہائی خیال رکھتے ہوئے راویان اس کو “فیما بلغنا ” جیسے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں تا کہ اصل با سند روایت سے یہ الگ رہے اس کا حصہ نہ گردانا جائے –
اور ان کے بارے میں محدثین کا فیصلہ ہے کہ محض ان بلاغات سے حکم یعنی حجت نہیں پکڑی جا سکتی ، نہ ان کو بلا سند مانا جائے گا ، ہاں جب تک کہ اس کی صحیح سند نہ مل جائے –
اب بخاری کی اس روایت میں “فیما بلغنا” کے بعد آنے والے الفاظ کا فیصلہ تو ائمہ محدثین کے اس اصول پر ہی ہو گیا کہ یہ الفاظ قابل حجت نہیں ہیں – اس کے بعد بھی اگر کوئی دھوکہ دہی سے کام لے کر بخاری میں آنے والی ہر شے کو حدیث باور کروا کر اپنی دکان داری چلانا چاہے تو ضمیر کی موت کے سوا کیا کہا جائے گا ؟-
اب ان الفاظ کی بابت بات کرتے ہیں ، بخاری کی اس روایت میں فیما بلغنا کے بعد جو قصہ درج ہوا ہے اس کا تو آپ جان چکے کہ وہ روایت کا حصہ نہیں- اب یہ اضافہ کہ “ہم نے یہ بھی سنا ہے ” کس نے کیا ہے – بعض بزرگ جیسا کہ حافظ ابن ہجر اس “فیما بلغنا ” کو امام زہری کے نام کرتے ہیں – ابن ہجر لکھتے ہیں:
“و معنی الکلام ان فی جملہ ما وصل الینا من خبر رسول اللہ فی هذه القصہ و ھو من بلاغات زہری و لیس موصولا ،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ الفاظ زہری کے بلاغات میں سے ہیں موصول روایت نہیں ہے (مکمل سند والی )
جبکہ ابن ملقن اس کو امام زہری کے شاگرد معمر کی طرف منسوب کرتے ہیں ابن ملقن لکھتے ہیں:
“و هذا من بلاغات معمر ، و لم یسندہ و لا ذکر راویہ ، ولا انہ صلی اللہ علیہ وسلم قالہ ،”
یعنی یہ اضافہ معمر کی بلاغات میں سے ہے ، اور جب کہ معمر نے اس کی کوئی سند بیان نہیں کی اور نہ ہی اس کے راویوں کا ذکر کیا ہے ، اور نہ ہی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ رسول نے ایسا کہا ہے ”
یہاں ابن ملقن کی رائے میں زیادہ وزن ہے کیونکہ نزول وحی کی یہ روایت اور بھی راویان سے بیان ہوئی ہے ، لیکن اس میں یہ اضافہ نہیں ہے – جب کہ زہری کی دوسری اسناد میں بھی یہ اضافہ نہیں ہے – صرف معمر کی سند میں یہ اضافہ مرقوم ہے – اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معمر کا اضافہ ہے جو انہوں نے کہیں سے سنا اور ذکر کر دیا ، لیکن انہوں نے بھی یہ اہتمام کیا کہ اس کو اصل روایت کا حصہ نہیں بنایا بلکہ “فیما بلغنا ” کے ساتھ ذکر کیا –
– اب ہر دو صورت میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ حصہ قابل حجت نہیں اور(مسند اور موصول ) روایت سے الگ ہے کہ جو اصل میں صحیح بخاری ہے –
آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کس طرح بخاری میں آنے والی ہر شے کو صحیح بخاری قرار دے کر کھلے بندوں دھوکہ دیا جاتا ہے – مکرر عرض کرتا ہوں کہ ” اکبری منڈی ” کے ان جھوٹے مذہبی دکانداروں سے اپنا دامن بچائیے اور ان کے دام ہم رنگ زمین کو جانئے ، کہ جو گرم مصالحے میں اپنا راتب ملا کے دین فروشی کرتے ہیں –
اسی طرح معلقات بخاری کا معاملہ ہے کہ جس میں امام صاحب ترجمہ الابواب (بخاری ) میں آثار یا وہ احادیث جو امام صاحب کی شرط پر پورا نہیں اترتی لے کر آتے ہیں ،( اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلے کو مزید نکھار دیں) ان کو بھی کتاب بخاری میں ہونے کے باوجود صحیح بخاری نہ سمجھا جائے گا – یعنی محض ان سے حکم نہیں لیا جائے گا – بالکل یہی معاملہ “بلاغات ” کا ہے جسی کی مثال آپ نے اوپر پڑھی اور جس ریت کے گھروندے پر دوست خود کشی کا محل کھڑا کیے بیٹھے ہیں –
اور بات سخت ہے لیکن کیا کیجیے کہ :
بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر
جو احباب ایسی باتوں کو لے کر محدثین پر اعتراض کرتے ہیں ان کے لیے مشورہ ہے کہ اپنی جہالت کا علاج کروانے کے لیے کسی مدرسے میں اصول حدیث پڑھ لیں –
اب ذرا اس اضافے پر نظر کیجئے کہ کیا س سے شان رسالت میں کوئی کمی آتی ہے ؟
اگر کوئی گہری اور عمیق سوچ رکھتا ہوں ، دماغ میں منفی سوچیں اور محدثین کے متعلق محض نفرت نہ پالے ہووے ہو تو اس کے لیے یہ ایک معمولی سی بات ہے – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ابتدائی کیفیت کا دور ہے جب وحی کا نزول شروع ہوا – آپ کے لیے خود یہ سب کچھ حیران کن تھا ، بلکہ اس سے بڑھ کے پریشان کن – ایسی حالت میں محض ایسا خیال آ جانا کوئی ایسا عجیب نہیں کہ طوفان کھڑا کر دیا جائے -اور خیال پر گرفت ہے نہ اختیار –
اب یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ باتیں محض فسانہ تھیں تو محدثین نے درج کیوں کیں ؟
اس کا تفصیلی جواب مکمل مضمون کا متقاضی ہے – مختصر عرض ہے کہ اسلام کے احکام کو درست طور پر محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ہر درست اور صحیح بات کو سند کے ساتھ درج کر دیا جاتا اور ساتھ میں سند میں آنے والے ہر فرد کا ” بائیو ڈیٹا ” اسما الرجال (تاریخ ) کی کتابوں میں درج کر دیا جاتا ہے –
دوستو ! اب صورت حال یہ ہے کہ حدیث کے ہر ہر راوی کے حالات محفوظ ہیں.. وہ سچا تھا ، یا جھوٹا – بھلکڑ تھا یا مضبوط حافظے والا – حدیثیں گھڑتا تھا یا انتہائی نیک اور ایمان دار —-
یقین کیجئے کہ ہر کسی کے حالات درج ہیں – اگر کسی کے نہیں ملے تو اسے مجھول قرار دے کر اس کی روایت کو ضعیف قرار دے دیا گیا ، قصہ ختم –
اس تمام تر محنت کا یہ فائدہ ہوا کہ آج بھی اگر کوئی کسی حدیث پر نئے سرے سے تحقیق کرنا چاھے تو اس کے لیے راستہ موجود ہے – اگر بنا کسی سند پر تحقیق کے ، خود سے فیصلہ کر کے ، ضعیف روایات کو ختم کر دیا جاتا تو بہت ممکن تھا کہ کسی کی “غلط ” تحقیق کے نتیجے میں کوئی درست بات منظر سے غائب ہو جاتی ، اور اسلامی احکام کا حصول ہی ممکن نہ رہتا –
اور یہ بھی ممکن تھا کہ جب سند کا وجود ہی نہیں تو کوئی کسی بھی جھوٹ کو نبی سے منسوب کر کے حدیث قرار دے دیتا – اب خود بتائیے کہ کس طرح ممکن تھا کہ اسے مان لیا جاتا اور کیا یہ آسان تھا کہ منہ بھر کے اسے جھوٹ قرار دے دیا جاتا ؟؟-
اس لیے محدثین نے دن رات کی محنت شاقہ سے یہ محیر العقول کارنامہ انجام دیا کہ ہزارہا افراد کے حالات کو محفوظ کر دیا – جس کی مثال دنیا کا کوئی مذھب پیش کرنے سے قاصر ہے ….

فیس بک تبصرے