حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

جے صاحب سر منگے باہو : ابو بکر قدوسی

جے صاحب سر منگے باہو
ہرگز ڈھلّ نہ کریئے ہو ۔
نام سنا سنا سا لگا ، پھر روشنی ہو گئی ، یہ تو ہمارے باپ کا قاتل ہے –
“جتنا مول لگتا ہے دے دو ، اس قیدی کو لے لو اور اپنا دل ٹھنڈا کر لو ”
بھائی کی تجویز نے دل میں گھر کیا اور وہ قیدی کو لے کے گھر آ گئے – یہ خبیب بن عدی تھے – بدر کی جنگ میں حارث بن عامر ان کے سامنے آیا اور جان سے محروم ہوا – حارث کے بیٹوں کو باپ کی موت کا علم ہوا تو غم میں ڈوب گئے – غم کے بدل چھٹے تو انتقام کی آروز دل میں پلنے لگی ..لیکن انتقام کی بھلا کیا صورت ہو ، یہ سوچ کے مایوسی غالب آ جاتی –
بدر کی جنگ ختم ہوئی تو خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ عبادت کی طرف لوٹ گئے کہ وقت کے ایک بڑے عابد تھے – دن گزرتے گئے کہ ایک روز ایک مہم کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم نے دس صحابہ کا گروہ بھیجا خبیب بھی اس کا حصہ تھے –
کفار کو سن گن ہو گئی تو ان کے پیچھے نکلے – یہ بنی لحیان تھے مکے کے نواح کے باسی – تیر انداز ڈھونڈ ڈھونڈ تھک ہارے ، مگر نشان نہ ملا …..ایک کہ بہت قیافہ شناس اور کھوجی تھا ، رکا اور چونک پڑا – کھجور کی گٹھلی دکھائی دی اور ہاتھ میں لیے سوچتا رہا ….
“میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ …یہ یثرب کی کھجوریں ہیں ..ان گھٹلیوں کی راہ راہ چلے آؤ …….”
وہی ہوا کہ دس کے دس افراد نظر میں آ گئے – صحابہ نے بھی ان کو دیکھ لیا – امیر نے حکم دیا کہ پہاڑ پر چڑھ جاو ….لیکن یہ بہت زیادہ تھے …..سو گھیرے میں آ گئے – کفار نے پیش کش کی کہ خود کو حوالے کر دیں تو جان بچ جائے گی – امیر قافلہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مشرکین کی پناہ سے موت کی پناہ اچھی سمجھتا ہوں اور مقابلہ شروع ہو گیا —ایک کے بعد ایک اور آٹھ مسلمان شہید ہو گئے –
سیدنا خبیب اور سیدنا زید بن دثنہ نے جان کی امان کے وعدے پر خود کو ان کے حوالے کر دیا …..
اب یہ غلام تھے ، قیدی تھے اور پھر منڈی کا مال ہو گئے –
جی ہاں آج خبیب اور زید کی نیلامی تھی …لیکن وہ تو بہت پہلے کے ہی خود کو بے مول بیچ چکے تھے اب کیا سود اور کیا زیاں ؟؟
دور جا کر قریب ہو جتنے
ہم سے کب تم قریب تھے اتنے
اب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گے
وصل ہجراں بہم ہوئے کتنے
خبیب کا نام پکارا گیا ….. حارث کے بیٹوں کو کچھ یاد آ گیا …دھندلی دھندلی سی یاد روشنی میں بدل گئی اور خبیب خریدے گئے –
حارث کے گھر میں قید ، صبح شام اللہ کا نام اور بس ……ایک روز ایک بچی کھیلتی کھیلتی خبیب کے پاس آ گئی ..زنجیر سے بندھے خبیب کو جانے کیا ہوا کہ بے اختیار بچی کو گود میں لے لیا …دور مدینے میں بہت کچھ موجود سب یاد آ رہا تھا ..کہ بچی کی ماں کی نگاہ پڑ گئی …. ممتا تڑپ اٹھی ، قیدی کے ہاتھ میں بیٹی اور موت کا قیدی تو بندہ مایوس ہی ہوتا ہے ، کچھ بھی کر گذرے کون جانے ؟
ماں کو تڑپتا دیکھا تو مسکراتے ہوے بچی کو گود سے اتار دیا ..بھلا مدینے کے مسافر بھی کسی سے ظلم کرتے ہیں ؟؟
محبت کو آزمانے کا دن آ گیا –
خبیب کو مقتل کو لے چلے ، صلیب گاڑی گئی – خبیب کی طرف سے نماز کی اجازت مانگی گئی – نماز پڑھی اور ایسی پڑھی کہ شائد کبھی نہ پڑھی تھی – دل چاہ رہا تھا کہ بس وہ نماز پڑھتے رہیں اور دیکھا کرے کوئی –
لیکن مختصر کر دی اور بولے :
اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرلو کہ میں موت سے خائف ہوں تو میں ضرور اس نماز کو مزید طویل کرتا۔
ایک کے بعد ایک تیر آنے لگا ، آپ اشعار پڑھنے لگے
وذلك في ذات الإله وإن يشأ
يبارك على أوصال شلو ممزع
فلست أبالي حين أقتل مسلماً
على أي جنب كان في الله مصرعي
یہ جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی محبت میں اگر وہ چاہے تو ان کٹے ٹکڑوں پر برکت نازل کرےگا
اگرمسلمان رہ کر میں ماراجاؤں تو مجھے غم نہیں کہ کسی پہلو پر خدا کی راہ میں میں پچھاڑاجاتا ہوں۔
زخمی زخمی خبیب کے پاس حارث کا بیٹا آیا ….
آفر لے کے ، آس دلانے آیا …
امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ
“خبیب ! ایک بات کہوں ؟”
زخمی خبیب نے نیم وا آنکھوں سے لہو کی برستی برسات کے بیچ اسے دیکھا ….آنکھوں میں سوال دیکھ کے عقبہ بولا :
خبیب …او خبیب …کیا تجھے پسند ہے ، ہاں بول نا تجھے پسند ہے کہ تجھے چھوڑ دیا جائے اور اس جگہ محمد ہو جسے یونہی مصلوب کیا جائے ”
خبیب میں جانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی ، بہت بلند آواز سے بولے :
“اللہ کی قسم خبیب کو تو یہ بھی پسند نہیں کہ میرے حضور کے پاؤں میں کانٹا چبھے اور میں اپنے اہل عیال میں پرسکون بیٹھا ہوں ”
جگ تے تو جیویں
تے
تیری آس تے میں جیواں
خبیب نے جانے ایسے لمحے میں کیا کیا سوچا ہو گا …کسی کس طرح نہ اپنے محبوب پر قربان ہوا ہو گا ..کیسے کیسے نہ اپنے لہو کی اک اک بوند کے نکلنے کا ” مزہ ” لیا ہو گا …
ہاں نا …. یار جب محبوب سر مانگے تو خون کی ایک ایک بوند بھی نکلتے ہوے مزہ دے جاتی ہے
جے سر دِتّیاں یار ملے
فیر سر دے ون کی کَس ہے
مدینے میں آسمان سے خبر پہنچی کہ حبیب آپ کا حبیب خبیب رخصت ہوا – آسمانوں سے ہرکارہ آیا اور آ کے ایک ایک پل کی خبر دے گیا کہ
خبیبؓ نے آسمان کی طرف رُخ کرکے بہت مان سے اپنے رب سے کہا تھا :
” اے اللہ! ہم نے تو تیرے رسولﷺ کا پیغام پہنچا دیا۔ اب تو بھی اپنے رسولؐ تک اس کی خبر پہنچا دے جو ہمارے ساتھ ہوا ہے”
……………………….

فیس بک تبصرے