حمد باری تعالیٰ

ریاست سے چند سوال : منصور

گر آپ سچ بولنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو کوئی بات نہیں لب سی لیجئے لیکن خدارا جھوٹ کو جذباتیت بھرے الفاظ کا لبادہ اوڑھا کر مشورے بھی مت دیجئے۔ مجھے آپ کی طرح لفظوں سے کھیلنا نہیں آتا، لیکن مظلوم کا بہتا لہو ضرور نظر آتا ہے۔

ایک ایسے استاد کو جس کا باپ ٹرک ڈرائیور تھا، جس نے کوئلے کی کان میں مزدوری کی ، جس نے گزرتے وقت میں ہمت ہارے کے بجائے درزی کا کام سیکھا اور اپنی تعلیم کا بوجھ خود اپنی محنت سے اٹھایا، جس نے قبائلی زندگی میں رہتے ہوئے اپنی بہن کی تعلیم اور سوشل ایکٹوٹی میں اس کا ساتھ دیا۔ کیا صرف اس کے سیاسی نظریات کی بنا پر اس کے قتل پر خاموش رہنا انسانیت کہلاسکتا ہے؟
اس ریاست کے طول و عرض میں جہاں غربت، بھوک، افلاس و ظلم و جبر ننگا ناچ کررہا ہو، وہاں کے کھیتوں، کارخانوں ، ہوٹلوں، کوئلے کی کانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والے کتنے بچے ایسے ہونگے جو اپنے گھر کا بوجھ ڈھونے کے بعد علم کی روشنی کا دیا بنتے ہونگے، ابراہیم ارمان لونی ایک ایسا دیا تھا، جسے ریاست نے اپنی جہل اور ظلم کی ظلمتوں کو دور کرنے کے بجائے خود ہی بجھا دیا۔

آپ پی ٹی ایم سے ہزارہا اختلاف کیجئے، میرے پاس بھی کوئی ایسا پیمانہ نہیں کہ میں پی ٹی ایم کے ملک دشمن یا دوست ہونے پر کوئی رائے دے سکوں، لیکن خدارا ایک استاد کے بہیمانہ قتل پر آپ کی خاموشی ناقابل معافی جرم ضرور ہے۔

ابراہیم ارمان لونی تو خود لورالائی واقعے کے خلاف احتجاج کر رہا تھا وہ تو خود ابراہیم ارمان لونی پولیس اہلکاروں کی ہی ہلاکت پر آواز اٹھا رہا تھا اور احتجاج کررہا تھا ،اور خود پولیس کےاہلکاروں نے ہی انہیں غیر انسانی تشدد کے بعد شہید کردیا جو نہایت ہی شرمناک ہے۔ کیا ریاست خود اس جواز کو تقویت نہیں دے رہی کہ بلوچ قوم کے اساتذہ، دانشور اور تعلیم یافتہ طبقے کو چُن چُن کر اٹھایا گیا اور پھر انہیں زیر حراست تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی ریاست دانستہ طور پر مظلوم قوموں کے تعلیم یافتہ افراد کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ انہیں ہمیشہ کیلئے اندھیروں کی طرف دھکیل دیا جائے، گلالئی اسماعیل کو پہلے حراست میں لیا گیا پھر زیر حراست غائب کردیا گیا، کیا ریاستیں اپنے شہریوں سے ایسا سلوک کرتی ہیں، آج ریاست پاکستان کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرلینی چائیے کہ قومیں مرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتی ہے اور بنگال کی مثال ابھی تازہ ہے شاید پاکستان اس سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کرسکا ہے ورنہ کیا اس بات کے لئے کوئی جواب دے سکتا ہے؟

کیا ارمان لونی ملک دشمن تھا؟

ایسا کیا تھا کہ جو اس کو ملک کی کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا تھا؟

ابراہیم ارمان لونی کے قتل کو کس طرح جسٹیفائی کیا جاسکتا ہے، مزید الزام لگا کر؟

ایک قتل کے رد عمل پر دئیے گئے ایک بیان پر، جس کی ہم خود مذمت کرتے ہیں، کیا اس پر واویلا کرنا درست ہے، جس بات کا وجود ہی نہیں ہے اس بات کو لے کر حب الوطنی کے ڈھنڈورے پیٹے جارہے ہیں۔

چند دن سے دیکھ رہا ہوں کچھ دانشور ریاست کی طرف سے کئے جانے والے تواتر اور تسلسل سے کیے جانے والے مظالم کو اپنے مشوروں اور جوابی الزامات سے توازن کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

صاحبان علم و دانش سے بس اتنا ہی کہنا ہے، کہ ریاست کا چہرہ تو ان ٹھیکیداروں نے اتنا سیاہ کردیا ہے کہ اب اتنی سی کالک کا کوئی احساس نہیں ہوتا لیکن آپ کی اس جھوٹی حب الوطنی اور گھٹیا توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کہیں آپ کی انسانیت کے توازن کو نہ خراب کر دے۔

فیس بک تبصرے