حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

رانگلا: دعا عظیمی

.

پھولوں کی دوکان موتیے، گلاب اور چمبیلی سے سجی تھی اور اس کے ساتھ ہی گرما گرم جلیبیوں کی میٹھی میٹھی خوشبو سرما کی ٹھنڈی ہوا کے سنگ ناچتی پھر رہی تھی اور بے وجہ راہگیروں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔
رانگلا اس دوکان کا پکا گاہک تھا۔ کسی روز وہ صرف جلیبیاں خریدتا اور گھر چلا جاتا اور کسی روز گجرے اور جلیبیاں دونوں چیزیں خریدتا اور چوراہے سے بائیں گلی میں مڑ جاتا، جہاں اس کی قلو پطرہ کا بالا خانہ تھابلکہ کوچہ جاناں تھا۔
ساری بستی سو چکی تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ سرشام بےفکری سے سو جانے والی کلثوم کی آنکھوں سے آج نیند کوسوں دور تھی۔ جانے آج “وہ” پھر کدھر رہ گیا تھا؟ سامنے لکڑی کی تپائی پر رکھی چھوٹی سی گھڑی پر بار بار نظر اٹھتی اور بے بس ہو کر لوٹ آتی۔
کوارٹر کا دروازہ ابھی تک کھلا تھا۔ وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ اس چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی جو اس کے خیال میں کوارٹر تھا۔
اسے زندگی سے کوئی شکوہ نہیں تھا، وہ تو ہر روز شکر کی تسبیح پڑھتی تھی۔ اسے سارا دن کوٹھیوں میں رہنے کے باوجود کبھی یہ خیال نہ ستایا تھا کہ وہ کسی کوٹھی میں ہی پیدا ہو جاتی یا دوسری عورتوں سے کچھ بڑھ کر حسین ہوتی۔ وہ تو اپنی دنیا اپنی جنت میں مست تھی۔
اس کے موٹے موٹے ہاتھوں میں ایک عجیب سا جادو تھا جن سے وہ سب کو اپنا اسیر بنا لیتی تھی، سب کام سمیٹتی۔ محنت اس کے پور پور میں رچی بسی تھی۔
شادی کے شروع میں وہ بھولی بھالی لڑکی تھی، مگر اب اس نے شہری لڑکیوں کے سارے اطوار سیکھ لیے تھے۔ سیدھی ابرو کے کمان کاڑھ لیے تھے، سرمے کی جگہ کاجل اور دیسی صابن کی جگہ ریشمی زلفوں کو خوشبودار شیمپو سے نکھارنےکا ڈھنگ آ گیا تھا۔ حتیٰ کہ اپنے مرد کو ریجھانے کے سب گر وہ ہر بیاہتا سے پوچھنے لگی تھی۔ اس کا جی چاہتا کہ اس کا رانگلا بس اسی کا ہو کر رہے۔ جب کبھی وہ سنتی کہ رانگلا کسی دوسری عورت کے پیچھے ہے اس کے اندر کوئی کچی دیوار بھر بھر زمین پہ گرنے لگتی۔ بڑی مشکل سے وہ اس کی لیپائی پوتائی کرتی۔۔۔۔۔۔رانگلا توری کی بیل کی طرح پھیلتا ہی جاتا۔ گھر کی دیوار سے دوسرے کے گھرکی طرف، تو کبھی اس سے بھی آگے۔۔۔۔۔۔

اللہ رکھا عرف رانگلا ہر روز پہلے سے ذیادہ دیر سے گھر آنے لگا تھا۔ جانے آج پھر وہ کدھر رہ گیا تھا۔
رات کے جانے کس پہر وہ لوٹا۔ کھٹکا ہوا تو سارے دن کی تھکی ہاری نے چونک کر پوچھا، “کھانا گرم کروں؟ آج اتنی دیر کر دی۔”
وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا “کام بہت تھا، بہت تھک گیا ہوں، بھوک نہی ہے۔”
کلثوم کے سینے پر شک کے سانپ لہرائے۔ وہ کاٹھ کی بڑی سی چارپائی پر ایک طرف کو ہو لی۔ اپنے دونوں بچوں کو پرے کھسکا کر رانگلے نے اپنے لیےجگہ بنائی۔ آج اس کا انداز محبوبانہ نہیں تھا، بلکہ عجب بے زاری لیے تھا۔ ورنہ وہ تو اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر سونے کا عادی تھا۔
“آج یہ پھر وہیں سے ہو کے آیا ہے” اس کے دل نے سرگوشی کی۔ اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھا اور نیچی چھت کے بیسیوں بار کے گنے ہوئے بالے گننے لگی۔ کلثوم اس کی چال سے جان جاتی تھی کہ آج وہ کہاں سے آیا ہے۔
رات خاموش تھی ،پراسرار، ڈائن کی طرح۔ نیند میں بھی ڈراؤنے خیالوں کے ناگ اسے ڈستے رہے، وہ رات بھر کروٹیں بدلتی رہی۔
صبح ہوتے ہی اس نے لجاحت سے پوچھا “سچ سچ بتا تو رات کہاں گیا تھا؟” وہ ہنس پڑا۔ اس ہنسی میں خجالت تھی۔ وہ دُکھی ہو گئی۔
ویسے تو اسے معلوم تھا کہ وہ آج کل بالا خانہ والی کے چکر میں ہے لیکن پھر بھی نجانے کس آس پر اس سے پوچھنے لگی، “رانگلے! میرے رانگلے! مجھے یہ بیری بستی والے کہتے ہیں کہ تم اس کالی، موٹی، بھدی، حرافہ کوٹھے والی سے پیار کرتے ہو؟ وہ سب جھوٹ بکتے ہیں ناں!
” وہاں تو کبھی کبھی جاتا ہوں۔ میرے دل کی رانی تو بس تو ہے۔ تیرے سوا کوئی نہیں۔” اس نے لاڈ سے کلثوم کو اپنے ساتھ لگایا۔ “جھوٹا! جھوٹا! رانگلا تو جھوٹا ہے، وہ بے بسی سے چلائی۔ “جب سےتم نے اس عورت کا قصہ اپنے منہ سے سنایا ہے، مجھے تمہاری کسی بات کا بھروسہ نہیں۔” کلثوم رو دی۔ “کس عورت کا؟ میں تو تجھے روز ہی نیا قصہ سناتا ہوں، بس تجھے چڑانے کے لیے۔ تجھے معلوم ہے غصے میں تو اور پیاری لگتی ہے۔” وہ زور سے ہنسا۔ “ایک تو چوری، اس پہ سینہ زوری” کلثوم چڑ گئی، “کیا بات ہے تیری!”۔ وہ جھینپ گیا۔ “اچھا اچھا جانے دے ہر وقت غصہ نہ دکھایا کر۔”
وہ قالینوں کی دوکان پر کام کرتا تھا محنت مزدوری اور ہوشیاری سے کام کر کے وہ اچھی خاصی رقم کما لیتا کلثوم بھی ساری تنخواہ لا کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیتی مسلۂ صرف یہی تھاہر دوسرے دن وہ کہیں پھنس جاتا ، ہر کوی اسے بات کرتا کلثوم کی اسے کوئ پرواہ ہی نہی تھی کیسے جلتی تھی جیسےچولہے میں کسی نے سوکھا بالن ڈال کراوپر مٹی کےتیل کا تروکا لگایا ہو۔
اپنی بیوی سے پیار کے باوجود قدرت اسے کسی نئ آزمائش میں ڈال دیتی، کوئ مٹیار کوی نار اسکی رنگیلی طبیعت کو ایسے اچکتی کہ گزارا مشکل ہو جاتا مگر یہ آخری والی اُف توبہ لوگ کہتےتھے کہ وہ دھندا کرتی ہے پر اس کے دل کو وہ آسمان سے اتری ہوی دیوی دکھائ دیتی جسے زمانے نے ڈھیروں پتھر مارےہوں، اس کا دل چاہتا کہ وہ ان سارے زخموں کو اپنے جذبوں کے گلابوں سے دھو ڈالے،جب اس کا اداس حسن رکھے کی محنت سے کھل جاتا تو رکھے کو ایسے لگتا جیسے کسی پجاری کی پوجا سفل ہو گئ ہو ،ہر وہ محبت جس کی جڑوں میں غیر عورت کے لیے ہمدردی کا پانی ہو بڑی زور آور ہوتی ہے۔
کلثوم اس کے تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھی سب اسے خوش رہنے کا کہتے مگر خوشی تو ایک پل ہاتھ آتی اور اگلے لمحے پانی کی طرح بہہ جاتی،اس نے بھی پوری بستی کو اپنے رنگیلے جھوٹے کے پیچھے لگا رکھا تھا پل پل خبر ملتی رہتی ،اب وہ کہاں ہے کس سے بات کی کہاں کہاں خرچہ کیا پر کسی وقت وہ تنگ پڑ جاتی وہ کئ بار سوچتی جانے وہ کچھ چھپا کے کیوں نہی کرتا لیکن اگر وہ کچھ چھپا کے بھی کرتاتو اس کی ہانڈی بیچ چوراہے کے پھوٹ جاتی جیسے قدرت کے سارے کارندے اسی کی مخبری پہ مامور ہوں ،
اسے دوسری عورت کیوں اچھی لگتی ہےرانگلا بھی بار بار سوچتا جو اس کی کچھ بھی نہی لگتی اس میں کشش کیوں؟
اس کی مسکان میں ،آواز میں کیسا جادو ۔؟جو بازار میں بکتی تھی بھلاکیوں وہ عورت اسے اپنی جانب کھینچتی تھی بہت بار اس نے توبہ تائب ہونے کی کوشش کی پر کوئ غیر مرئی قوت‎
‎ اسے اسی چوراہے پہ دے مارتی ویسے تو لڑکپن سےہی عورت زات اسے اپنی طرف مائل کرتی تھی اوپر سے اس کی شاہ خرچ طبیعت جو ہوتا سب لٹا دیتا ،لٹا دینے کا سرور لٹانے والا ہی سمجھتا ہے،مگر شادی کے بعد معاملہ بگڑ گیا تھا وہ چاہتا تھا اس کا گھر بھی بسا رہے مگر اس روز کڑا کے دار لڑای ہوئ روز روز کے معاملے سے تنگ آکر اس شام کلثوم ناراض ہو کر سامان باندھ کر میکے چلی گئ گھر والی کے بغیر گھر کاٹ کھانے کو دوڑا وہ نہا دھوکر داتا صاحب گیا معافی شافی مانگی ،خدا کے سامنے رویا گڑگڑایا یا آللہ مجھے بچا میرا گھر اجڑ جاے گا، ایک بار وہ واپس آجاۓ “اب کبھی نہی جاوں گاوہاں اس نے ارادہ باندھا، ،سسرال
پہنچا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی بڑی مشکل سےمعاملہ سلجھا بڑے بہنوئ نے اپنی ضمانت دی کلثوم مان گئ
گھر کی رونق واپس آگئ شکر کا کلمہ پڑھا ،کلثوم نے جلدی جلدی ہاتھ چلاے ، گھر کبا ڑ خانے سےدوبارہ گھر بنادیا،جھونپڑی ہو یا کوٹھی گھر والی کے دم سے ہی آباد ہے کچھ دن سکون سے گزرے،،،،کلثوم سمجھی خاوند کی عقل ٹھکانے آگئ ہے اور اسکی منتیں مرادیں رنگ لے آئ ہیں۔
بازار میں پھولوں کی دوکان اسی طرح سجی تھی ساتھ ہی گرما گرم جلیبیوں کی سوندھی سوندھی خوشبو رانگلے نے چپ چاپ ادھر ادھر دیکھا گلی میں کوئ شناسا نہی تھا ،،،اس کا دل چاہا جا کے دیوی کے چرن چھو لے کتنے دن ہوے تھے وہ ادھر گیا ہی نہی تھا کتنا انتظار کیا ہو گا کہیں ناراض ہی نہ ہو گئ ہوبھلا ناراضگی کیسی؟آپ ہی اپنے سوالوں کے جواب دیتا ہواسب بھول بھلا کرایک ہاتھ میں جلیبیاں اور دوسرے میں گجرے پکڑےاس نے قدم ہوٹل کے بالا خانےکی طرف بڑھاےاوربھاگتا ہوا ہوٹل کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

فیس بک تبصرے