حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

روزہ اور بھوک : منصور ندیم

رمضان ہمارے لئے مذہبی اعتبار سے انتہائی معتبر، بابرکت اور فضائل والا شمار کیا جاتا ہے، جس میں ہم خود پر مخصوص گھنٹوں کے لئے کھانا پینا ممنوع قرار کرلیتے ہیں، ان چند گھنٹوں کی بھوک کو طاری کرنے کے بعد ہم افطار کے وقت کو کھانے پینے کی روایتی و غیر روایتی ہر طرح کے انواع و اقسام کی ڈشز سے بھر لیتے ہیں، عموما کئی ایسے بھی کھانے جو ہم نے خصوصا رمضان کے لئے مخصوص کرلئے ہیں یعنی اس ایک جز وقتی بھوک کے بعد ایک بڑی فہرست سے بھرپور دسترخوان ہمارے سامنے ہوتا ہے۔

رمضان آتا ہے تو خلیجی ممالک میں اشیاء صرف آدھی یا آدھی سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے ، لیکن پاکستان میں قیمتیں اپنے اصل سے چار گنا بڑھ جاتی ہیں ، پاکستان میں شائد قیمتیں اس لئے بڑھ جاتی ہوں گی کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ رمضان میں رزق میں اضافہ ہوجاتا ہے، اسی لئے تاجر اپنے رزق میں اضافہ کرتے ہونگے۔ تاکہ ہر سال عمرہ و حج کرسکیں، ویسے بھی پاکستان کے عمرہ زائرین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

لیکن کتنی عجیب بات ہے، ہمارے ہی آس پاس سینکڑوں یا لاکھوں لوگ اس بھوک کے لامحدود وقت سے ہر روز پورا پورا سال گزرتے ہیں۔ لیکن ہم کبھی احساس نہیں کرتے۔ ایسے بھی بچے ہونگے جب وہ اپنا رزق کچرے کے تھیلوں میں، ہوٹلوں پر 10 گھنٹے شدید مشقت یا روڈوں پر بوٹ پالش یا پھول بیچ کر حاصل کررہے ہونگے اس وقت ہم پرسکون گھروں میں بیٹھ کر اپنے پسندیدہ مشروبات و مرضی کے کھانوں سے اپنے پیٹ بھر کر اللہ کی جنتوں کے منتظر ہونگے۔

یقینا اگر چند گھنٹوں کی بھوک کو مذہب کے لئے خود پر طاری کرنے سے آپ کو اگر واقعی سکون ملتا ہے ، کوئی روحانی طاقت ملتی ہے تو ایک بار یہ ضرور عہد کر لیجئے کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کے پیٹ کا جہنم بھی بجھائیں ۔ جو مجبوری میں پورے سال ہی روزے کی کیفیتوں سے گزرتے ہیں اور جب کھانے کو ملتا ہے تو ہماری طرح افطار سے من پسند دسترخوان نہیں بلکہ بمشکل پیٹ کا ایندھن بھرنے کا سامان کر پاتے ہیں ۔

مجھے نہیں لگتا کہ میرے رب کے نزدیک میرے روزے کسی بھی صورت اہمیت رکھتے ہوں گے، جب خلق خدا کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی موجود ہو، جن پر پوری زندگیوں کے لئے بھوک کے روزے فرض کردئیے گئے ہوں۔

منصور

فیس بک تبصرے