حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

قطر میں قطری خط کپتان کے آگے لہراتا رہا:وسی بابا

.
پاکستان اس وقت جی جان سے افغان امن مذاکرات کو ریس دے رہا ہے ۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جو ممکن ہے وہ کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوشش اتنی ضرور ہے کہ اب امریکی بھی اور افغان حکومت بھی اس کی ڈھیلی ڈھالی سی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔

زلمے خلیل زاد امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے ہیں۔ خود افغان ہیں ، امریکی بھی ہیں تو معاملات کو دو طرح اور بہتر سمجھتے ہیں۔ عراق اور کابل میں امریکی سفیر بھی رہے ہیں۔ لڑائی کے دوران سفارت کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

امریکی صدر افغانستان کی لڑائی کو کوئی فیصلہ کن رخ دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ بالکل نہیں چھپاتے کہ انہیں افغان جنگ بے معنی لگتی ہے۔ وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی سمجھ نہیں آتی۔ وہ اس لڑائی کا خاتمہ چاہتے ہیں ، بظاہر۔

ایسے میں امریکہ کے خصوصی نمائندے ہر اس جگہ جا رہے ہیں جہاں سےانہیں افغان امن مذاکرات میں مدد مل سکے۔

افغانوں کی افغان مسلے کی بات ہو ۔ دنیا میں آپ کہیں بھی چلے جائیں پاکستان کے ذکر اور حاضری بغیر یہ بات بنے بھی تو آگے نہیں بڑھتی۔ یعنی وہی جہاں مامتا وہاں ڈالڈا۔ افغان طالبان پر پاکستان اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس دباؤ کی طالبان کافی مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اپنی مرضی پر اصرار کر رہے ہیں۔ طالبان پر ہی دباؤ بڑھانے کو سعودی عرب اور یو اے ای کو اس امن عمل میں شامل کیا گیا تھا۔

مذاکرات کا ایک راؤنڈ یو اے ای میں بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلا راؤنڈ سعودی عرب میں ہونے کی بات ہوئی۔ کہا گیا کہ سعودی عرب میں جو مذاکرات ہونگے وہاں افغان حکومت کو بھی طالبان کے ساتھ براہراست بات چیت میں شامل کیا جائے گا۔ طالبان نے یہ ساری خبریں اور ٹویٹ پڑھ سن کر پہلے تو افغان حکومت کے ساتھ کسی بات چیت کو رد کیا۔ اس کے بعد سعودیہ میں مذاکرات سے ہی انکار کر دیا۔ طالبان کی اس “جاؤ لگے رہو ہم نہیں مانتے” نے ہر طرف کرنٹ دوڑا دیا۔

اس دوران ہوا یہ کہ قطر نے جو ایک عرب ریاست ہے ۔ عرب مزاج ہی کی نمائندہ ہے۔ یو اے ای مذاکرات میں شامل ہونے پر اپنی خفگی کا اظہار کیا۔ طالبان کے قطر میں موجود نمائندوں کے سفری پرمٹ منسوخ کرنے کو تیار ہو گئی۔ طالبان نے امریکہ کے ساتھ قطر میں مذاکرات کے اگلے راؤنڈ کا اعلان کر دیا۔

امریکہ نے قطر میں مذاکرات سے گریز کیا۔ طالبان پر بے تحاشہ دباؤ آ گیا۔ زلمے خلیل زاد آ کر اسلام آباد بیٹھے رہے۔ میڈیا میں رپورٹ آتی رہیں کہ طالبان نے تمام تر دباؤ کے باوجود اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے گریز ہی کیا۔ سائیڈ پر ہی رابطے مفاہمت کی سہ طرفہ کوششیں جاری رہیں۔ ان تمام کوششوں کا کیا ہوا خبریں باہر نہ آئیں ۔ بس یہ پتہ لگا کہ اکیس اور بائیس جنوری کو قطر میں طالبان اور امریکہ کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

طالبان امریکہ کے مذاکرات بحال ہوئے تو وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی قطر پہنچے۔ ان کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ آج کل وہ وقفے وقفے سے باہر آ جا رہے ہیں۔

ابھی تک وہ چین ترکی سعودیہ یو اے ای اور قطر جا چکے ہیں۔ یہ سب ملک افغان مسلے سے متعلق ہیں اور بااثر بھی۔

ہمارے ایک دوست کالم نگار آج کل کپتان کی خارجہ امور پر مہارتوں کے صدقے واری جا رہے ہیں۔ ان مہارتوں کا تو پتہ نہیں، ہندکو کی ایک مثال یاد آئی ہے، ڈنگیاں لتاں تے پولس مقابلے یعنی ٹیڑھی ٹانگوں کے ساتھ پولیس مقابلے۔

بے وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے دورے میں کپتان نے ترک صدر کے بارے کھل کر اظہار خیال کیا۔ جس نے ہماری مشکلات میں اضافہ کیا۔ دبئی کے شیخ نے ہمارے وزیراعظم سے گوادر پر گو سلو کا مشورہ دیا کہ آپ یہاں تب تک کام کی رفتار کم رکھیں جب تک ہم اپنے لیے متبادل بندوبست نہیں کر لیتے۔

یو اے ای کے ساتھ امداد کے معاہدے پر ہم نے دستخط کر دیے ہیں۔ گوادر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بہت کچھ بتا دے گی۔ وہاں آئل سٹی بنانے کی تجویز سی پیک کے بڑے پارٹنر کو کیسی محسوس ہوتی ہے، یہ بھی پتہ لگ ہی جائے گا۔

ہمارے بے وثوق کا دعوی ہے کہ سعودی امداد کے ساتھ ایک درخواست نوازشریف کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کی بھی نتھی کی گئی تھی۔ اس دعوے کا، جو گپ ہی لگتا ہے، ضمنی حصہ یہ ہے کہ نوازشریف نے ایسی کوئی سہولت لینے سے صاف انکار کر دیا۔ جس کے بعد حکومتی پارٹی نے مل کر “این آر او مانگ رہے ہیں” کا الاپ شروع کر دیا۔

یہ ساری لمبی اور بے تکی تمہید یوں باندھی ہے کہ آپ کو اپنے بے وثوق اور بے خبر کی تازہ گپ سنانی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ کپتان کا قطر میں بہت اچھا استقبال ہوا۔ ایک پرجوش خیرمقدم کیا گیا۔ قطری ولی عہد ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھے اور کپتان غلط سائڈ سے گاڑی میں بیٹھا اور اترا۔

اس دورے میں بھولا بسرا پاٹا پرانا قطری خط لوٹ آیا۔ وہی خط جو پاکستان میں ایک مذاق بن چکا ہے۔ جسے اپنے دفاع کے طور پر نوازشریف کے وکلا بھی ترک کر چکے، وہ خط وزیراعظم کے سامنے لہراتا رہا۔

جب ملاقات شروع ہوئی تو رسم ہیلو ہائے کہ بعد قطری میزبان نے ہمارے وزیراعظم سے جو پہلی بات پوچھی وہ یہ تھی کہ نوازشریف کیسے ہیں۔ اس رنگ فق کر دینے والے غیر متوقع سوال کا ڈھیلا سا جواب آیا ۔

اگلا جملہ میزبان کا یہ تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ان کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ اس کا کوئی جواب نہیں آیا ۔ تو اس کے بعد اگلا سوال نما گلہ کیا گیا۔ جب ہم کہہ رہے تھے کہ یہ ہمارا خط ہے تو اسے کیوں اہمیت نہ دی گئی؟ جب ہم لکھ کر دے رہے تھے کہ ہمارے والد کا کاروبار تھا تو اس کا خیال کیوں نہ کیا گیا ؟ آخری بات یہ تھی کہ آپ اپنی سپریم کورٹ میں بلا کر ہماری کیوں توہین کرنا چاہتے تھے۔ یہ تو دو برادر ملکوں کے تعلقات کا معاملہ تھا۔

خدا بہتر جانتا ہے کہ آخری تین سطروں میں جو لکھا ہے، کبھی اس کی تصدیق ہو سکے گی یا نہیں؟ خبر لانے والا ہی بے وثوق ہے تو اس پر اصرار کیا کرنا۔

فیس بک تبصرے