حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

پرنٹڈ لان ،سیکنڈ ایڈیشن:ابن فاضل

۔
سمجھ نہیں پایا ،یہ خواتین کے کپڑے بیچنے والے پتہ نہیں معیشت کا کونسا اصول پڑھے ہیں ۔ دیکھیں نا، شیمپو بیچنے والے غلط یا صحیح لوگوں کو باور کروا رہے ہیں کہ روزانہ نہائیں یا نہ نہائیں ،شیمپو روزانہ لگائیں ۔ سر پر بال ہیں یا نہیں شیمپو ضرور لگائیں ، بلکہ دل ہی دل میں تو یہاں تک سوچتے ہونگے کہ سرہے بھی یا بیگم صاحبہ کھا چکیں ، شیمپو ضرور خریدیں۔ روزانہ شیمپو استعمال کرنے سے سے خشکی آگئی ہے تو خشکی بھگانے والا لگالیں مگر لگائیں ضرور تاکہ شیمپو زیادہ سے زیادہ بکے۔
بسکٹ بیچنے والوں کی منطق ہے کہ بھوک لگی ہے کھانا مت کھائیں بسکٹ کھائیں۔ بارش ہورہی ہے۔ چھتری لے کر کھائیں ،باہر تیزدھوپ نکلی ہے برآمدہ میں آکر کھالیں،مگر بسکٹ ضرور کھائیں ۔ دونوں ہاتھ مصروف ہیں ،منہ سے ہی پکڑ کر چائے میں ڈبولیں، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔بسکٹ ضرور کھائیں، دیکھیں اگر ہمارا بسکٹ پھسپھسہ یا بد ذائقہ ہے تو اوپر کسی اچھی کمپنی کا مزیدار سا جام یا مکھن لگا کر کھالیں، پھیکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میٹھی چائے میں ڈبو کر کھائیں مگر خدارا کھائیں ضرور، اور مقصد اس ساری مہم کا یہ کہ زیادہ سے زیادہ بسکٹ بکیں۔
اور یہ سر درد کی گولی والے تو حد کرتے ہیں ، اتنے سیانے ہیں کہ اشتہار ہی ایسا بناتے ہیں ،بس دیکھتے ہی سر میں درد ہو جائے پھر انسان گولی ڈھونڈتا پھرے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے ہر صنعتکار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مال زیادہ سے زیادہ بکے۔
لیکن یہ لان بیچنے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔اف ۔۔۔۔ایک تو “اشتہاری “لڑکیاں ایسی نحیف و نزار ڈھونڈتے ہیں جن کو زیادہ سے زیادہ گلوکوز یا دمہ اور مرگی کی دواوں کے اشتہارات میں جلوہ افروز ہونا چاہیئے۔ وجود اتنا ہوتا ہے کہ اگر جی بھر کپڑے بھی پہننا چاہیں تو زیادہ سے دو روٹیوں والے رومال میں بہترین پوشاک تیار ہوجائے ،بلکہ اس میں سے بھی جھاڑ پونچھ کیلئے تھوڑا سا کپڑا بچ رہے۔ اس پربھی ستم دیکھیئے کہ اس نے بس احتیاطا یا احتجاجا ہی جسم کے تھوڑے سے رقبہ پر کپڑے سے پہنے ہوتے ہیں۔ بازو ڈھکنے کا تو خیر اب سوال ہی نہیں رہا کہ شاید کسی اٹھارویں کپڑوی ترمیم میں ان کو ہمیشہ کیلئے ڈھانپنے سے استثنا دے دیا گیا ہے۔ رہی باقی کرتی تو وہ کل چار گرہ کی ہوتی ہے۔ وہ غالبا ،غالب نے کہا تھا

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

گمان غالب ہے کہ غالب نے اگر جدید پرنٹڈ لان کا ایک بھی اشتہار دیکھ رکھا ہوتا تو یہ شعر یوں کہتا

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا کرتا ہونا

ڈھٹائی ایسی کہ ایک تو سالم کرتی کیلیئے محض چار گرہ کپڑا مختص کیا ہے اور اس پر بھی دریدہ دامنی عن الشمال والجنوب کا یہ عالم کہ وسعت چاک کا تخیل شاید حضرت علامہ کے چاکِ دامنِ یزداں سے لیا گیا ہے کہ اختتام اس کا بغل سے بس آدھی بالشت قبل ہی ہوتا ہے۔ اور دوسرا شیاطین اور سائنسدانوں کی مسلسل محنت سے لان کا کپڑا بوجود خود اتنا باریک کہ پہننے کے بعد بھی جملہ جغرافیائی تفصیلات ِ مرمریں کوئی بہت زیادہ مبہم نہیں ہوئیں۔
خوب پردہ ہے کہ لان سی مڑھے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

غالبا ڈھاکہ کی ململ کے بعد یہ لوگ سوئی کے ناکہ میں سے پورا لان کا تھان گذارنے کے متمنی ہیں۔ بلکہ شاید اس ہدف کہ بہت قریب۔ اور بعید نہیں کہ ان کا اگلا حدف تھان مع اشتہاری لڑکی سوئی کے ناکہ میں گذارنے کا ہو۔
رہا شلوار کا قضیہ ،تو وہ تو کب کی قصہ پارینہ ہوچکی۔ کہ
بلبل نے چمن سے گھونسلہ اٹھا لیا ہے
اب چاہے بوم بسے یا ہما رہے
البتہ پائجامہ کے نام پر ٹانگوں پر جو ہونہار شاعر کے تخیل سے بھی باریک کپڑا کی ایک ملمع کاری سی کررکھی ہے اسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ لیلتھ دیوی کی مورتی کے جسم پر چاندی کا ورق مڑھا ہو۔ یہ کسی الف لیلوی حسینہ کے گیسوئے آبدار سا رقیق و عمیق پیراہن ،اس قدر لگاو کے ساتھ جلد پہ چسپاں ہوتا ہے کہ بعض اوقات تو غلط فہمی سی ہونے لگتی ہے کہ یہ چند ریشہ ہائے کپاس اسی قطعہ جسم پر ہی مانندِ کائی اگے ہیں اور نمو پارہے ہیں۔
بھئی اللہ کے بندو کپڑا بیچنا چاہتے ہو تو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ کپڑا استعمال کرنے پر راغب کرو ۔ ایسے نمونے متعارف کرواو جس میں کپڑا بھی خوب لگے اور مقدور بھر پردہ بھی ہو۔ ہمارے اس اعتراض پر قابل خرگوشوی فرما تے ہیں کہ آپ ایسے کور عقل، غیر معیشت دان انکی گہری چال نہیں سمجھ پائے۔ بھئی اس حربہ سے رقم باقاعدہ پورے سوٹ کی وصول کرتے ہیں اور بدلے میں دیتے ہیں سوٹ کی جگہ چند کترنیں۔ یعنی معاوضہ پوری فلم کا اور دیا فقط ٹریلر۔ اس پر ہمیں اپنے خاندان کا ایک بچہ یاد آگیا ۔ تیسری جماعت تھا کہ اپنے والد سے ایک روز کہنے لگا ،ابا آپ گاڑی کیوں نہیں لیتے۔ والد صاحب شریف آدمی تھے۔ فرمایا ، بیٹا ابھی پیسے نہیں۔ تو اس بچہ نے چند لحظہ سوچ کرایک تاریخی جملہ کہا ، “لیں ابو اس میں کیا مشکل ہے ،جتنے کی گاڑی آتی ہے اتنے کی موٹر سائیکل بیچ دیں”۔ سچی بات ہم تو بہت متاثر تھے اس بچہ سے ،ہمیں تو یقین تھا یہ بچہ بڑا ہوکر اسحق ڈار بنے گا۔ لیکن وہ تو اور بھی سیانا نکلا۔۔۔۔ملک ریاض بننے کی کوشش کررہا ہے۔
میری بیٹیو اور بہنو ! شخصیت علم وعمل اور کردار سے بنتی ہے۔ جن کے پاس علم اور کردار ہو ان کو اپنی شخصیت کی تکمیل کیلیئے برانڈز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ برانڈز سے شخصیت کی تکمیل کے خواہش رکھنے والے بنیادی طور پر احساس کمتری اور کسر شخصیتی کا شکار ہوتے ہیں۔ جو اپنی ذات کی کمیاں مہنگے برانڈز سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی دوڑ سے باہر نکلیں علم وعمل سے شخصیت کو سنواریں۔ اور دوسری اور اہم بات کسی بھی جدیدیت اور کسی بھی سائینسی انقلاب یا معاشرتی اکھاڑپچھاڑ سے اللہ کے احکامات ساکن یا باطل نہیں ہوجاتے ۔ اللہ کریم واضح حکم دے رہے ہیں کہ

[24:31] Al-Nūrسورہ النُّوْر
اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاو۔ ۔

اللہ کریم فکروعمل کی توفیق عطا فرمائے۔

فیس بک تبصرے

ابن فاضل

تبصرہ شدہ

تبصرے کے لیے دبائیں

  • آپ جس فکر اور جس انداز میں قرآن کریم کی ترویج کر رہے ھیں وہ بے مثال ھے- بہت شستہ اور عمدہ تحریر ھے- ا اللہ کریم اجر عظیم کے ساتھ ساتھ آپ کے قلم میں اور طاقت عطا فرمائے- آمین