حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

غرور : از قلم بشری نواز

فردوس بیگم کو اپنے اعلی خاندانی۔ ہونے کا بے حد غرور تھا بے حسن اور بے حساب دولت نےرہی سہی کسر بھی پوری کر دی جوانی آ ئ تو رشتے آنے بھی شروع ہو گے مجال ہے جو کوئی رشتہ والدین کو پسند آیا ہو کوئی لڑکا مراد علی شاہ کو۔ پسند نہیں آ رہا تھا وقت تھا کہ گزرتا جا رہا تھا سینتیس سال کی ہو گیئں۔ اب کے جو رشتہ آیا بس وہاں نا نہیں ہو گی۔ مہر بیگم۔ نے فیصلہ سنا دیا اب یہ تقدیر کا ہی لکھا تھا کہ تیسرے دن مہر افضل۔ کا رشتہ آ گیا مناسب دیکھ بھال کہ بعد ہاں۔ ہو گئی۔ اب یہ تقدیر ہی تھی جو عام سی صورت اور معمولی۔ حثیت کا شوہر فردوس بیگم۔ کو۔ ملا مہر افضل جو۔ پہلے ہی سسرال کی حثیت سے متاثر تھا بیوی کو دیکھتے ھو سو جان سے فدا ہو گیا آنکھیں کھلی اور منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ۔ کچھ منہ بیوی کے میکے سے آئ رقم جو فصل بکنے سے آتی بند ہی رہتا،
فردوس سسرال کیا آ ئیں سسرال والوں کا آنا ہی ناگوار لگنے لگا کسی سے بات کرنا بھی اس کو اپنی توہین لگتا شان کچھ اور بڑھ گئی جب جڑواں بیٹوں۔ کی پیدائش ہوئی وقت گزرا ان کے سکول جانے کی عمر ہوئی بیگم بچوں کو سکول دا خل کروا دیں۔
یہ سنتے ہی بیگم دھاڑ یں۔ جاو میاں اپنا کام کرو مجھے نہیں بھیجنے اپنے شہزادے کیوں بیگم۔ پڑھائی ضروری ہے ما سٹر مارتے ہیں بچوں کو میرے بیٹوں کو پیسوں۔ کی۔ کیا کمی۔ جو پڑھائی میں خوار ہوتے رہیں بیچارے مہر افضل چپ ہو رہے،لیکن اگلے ہفتے وہ پھر اصرار کرتے رہے منت سماجت کام آ گئی اور یوں مہر ابرار اور مہر اظہار سکول جانے لگے ۔ کچھ دن تو امن رہا ۔ پھر لڑکوں نے پر پرزے نکالنے شروع کر دئیے کسی کی کتابیں پھاڑ دیں۔ کسی کا سر اور جو قسمت کا مارا شکایت لے کے گھر آتا تو فردوس ایسی بے عزتی کرتیں کہ آ نے والا کانوں کو ہاتھ لگاتا چلا جاتا وقت گزرتا رہا سا تویں میں دو بار فیل ہونے کے بعد پڑھائی کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا ۔ اب سارا دن آوارگی گلی کی آتی جاتی لڑکیوں۔ سے چھیڑ چھاڑ۔فلمیں دیکھ دیکھ کر دو نوں بھائی خود کو ہیرو سمجھ بیٹھے تھے۔
محلے والوں کی شکایت کا بھی کوئی اثر نہیں تھا آخر ایک دن محلے والوں کے مشورے سے ایک رشتے کروانے والی کو بھیجا گیا – سلام کے بعد بولیں میں۔اسی محلے میں رہتی ہو ں رشتے کرواتی ہوں۔ آپ کے بیٹے ماشاءالله جوان ہیں۔۔لڑکیاں ہیں اچھے گھروں کی۔ آپ اگر رشتہ کرنا چا ہیں۔ تو اتنی ہی بات سن کے فردوس بیگم بھڑک اٹھی۔
ارے ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے مشکل سے تیس سال کے ہوئے جاو ۔بی بی۔ کوئی اور گھر دیکھو۔ رشتے والی حیران مہر برادر پریشان۔
آج بھی مہر ابرار دوست کی طرف جانے کا کہہ کر نکلا جانے کن خیالوں میں تھا سا منے آیا رکشہ نظر نہیں آیا اور ابرار سڑک کی سا ئیڈ پہ بنی جھگیوں مین با ئیک سمیت جا گرا رکشے والا تو بھا گ گیا جہاں مہر ابرار گرا قریبی جھگی کے باہر لڑکی اپنی۔ اماں کی جو ئیں نکال رہی تھی ما ں کو چھوڑ کے ابرار کی طرف لپکی ماتھے پہ تھوڑی چوٹ آئ تھی۔ کچی زمین۔ کی وجہ سے زیادہ چوٹ نہیں آئ تھی ۔لڑکی نے جلدی سے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور ابرار کو پٹی باندھ دی اس کی ما ں نے سہارا دے کے چار پائی پر بٹھایا پانی پلایا چار گالیاں رکشے والے کو دیں اور ابرار کو بولی جا پت گھر جا کے آرام کر ابرار اس دن تو واپس آ گیا لیکن دل وہاں۔ ہی چھوڑ آیا اب وہ اکثر جھگیو ں میں جانے لگا آخر کار ایک دن اس نے نیناں کو اپنے ساتھ بھاگنے پر آمادہ کر ہی لیا اس نے سوچا کے پہلے اسے ہو ٹل لے جاۓ گا پھر کورٹ میرج کر کے گھر لے جاۓ گا وہ جانتا تھا کہ اس کی خود پسند ماں ویسے اس کو کبھی بہوتسلیم نہیں کرے گی – نینا کا منگیتر جو نینا کے بدلتے رویے کی وجہ سے ان۔ پر نظر رکھے ہوئے تھا ہوٹل تک آتے ہی سامنے آ گیا اور اینٹ مہر ابرار کے سر پے دے ماری سر پھٹ گیا لوگ جمع ہو گے بات گھر تک جا پہنچی رقم دے کے جھگی والوں سے جان چھڑ ائ۔
فردوس بیگم پھر بھی شرمندہ نہیں ہوئی بولی تو بس یہ ہی یہ جھگی وسلے ہوتے ہی نیچ لوگ ہیں۔ پیسوں کے لیے کیا کیا کرتے ہیں چلو۔ جی بات ختم۔ – مہر اظہار کو پارلر والی کومل پسند آ گئی بات مؤبائل اور بیلنس سے اگے بڑھ گی ۔ لڑکی سمجھدار تھی خالی تحفوں پہ نہیں رہی کہنے لگی شادی کرو نہیں تو اپنی راہ لو ۔ اگلے دن دونوں نےکورٹ میرج کر لی۔
مہر اظہار دلہن لے کے گھر آیا تو فردوس بیگم کو جیسے سکتہ ہو گیا یہ وہی کومل تھی جس سے کئی بار فردوس نے بال رنگواۓ آئ برو بنوائے ، جب حواس بحال ہوئے تو چلا نے لگی، تو کس نائن کو دلہن بنا لا یا میرے اعلی خاندان کے نا پر کیچڑ مل دیا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا اب سوچا ابرار بھی کچھ ایسا نا کر دے بڑے مہر جی جو گم سم تھے ،ان کو ساتھ لے کر انکے بھائ کے گھر پہنچ گئیں ، اتنے سالوں بعد بھائی بھابی کو دیکھ کے بہت حیران ہوئے فردوس بیگم سے آ نے کی وجہ پوچھی بڑے غرور سے بولیں۔ میں ابرار کے کے لیے آپ کی بیٹی کا رشتہ لینے آئ ہوں۔ یہ سنتے ہی مہر یٰسین۔ بولے عمر گزر گئی آپ نے ہمیں ملنا تک گوارا نہیں کیا اور آپ کو کیا معلوم میری بیٹی کتنی بڑی ہو گئی ہے فردوس بیگم کو شرمندہ ہونا تو آتا ہی نہیں تھا بولیں۔ آخر اتنا تو پتا چلتا ہی ہے نا ۔
مہر یاسین بولے بھابی پہلی بات تو یہ کہ میری بیٹی کا نکا ح ہو چکا ہے ۔ اگر نہیں بھی ہوا ہوتا تب بھی میں اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کے بدنام بیٹے کو نا دیتا مجھے پتا ہے جب وہ جھگی والوں کی بیٹی بھگا لا یا تھا آپ نے رشتے داروں کو ہمیشہ کمتر سمجھا انہوں نے ایک غصے بھری نظر بھائی پر ڈالی مجھے آپ سے کوئی رشتے داری نہیں کرنی آپ کے بیٹے کو کوئی عزت دار گھرانہ اپنا دا ما د نہیں بنا سکتا فردوس بیگم کو ایسا لگا جو انہوں نے اپنے گرد اعلی خاندانی ہونے کا خول چڑھایا تھا وہ آج اتر گیا اور ان کی اؤقات ہوا کے ساتھ ہوا ہو گی ہے۔

فیس بک تبصرے