حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

نجی زندگی/پرسنل لائف:صفدر چیمہ

ہر عام اور خاص انسان کی اپنی ایک نجی زندگی ہوتی ہے جو دوسرے افراد کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہےـ

کسی انسان کی نجی زندگی کی جاسوسی کرنے یا ٹوہ میں رہنے جیسے عمل کو اسلام اور دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی پر مبنی الہامی احکامات اور قوانین بھی موجود ہیں اور ان قوانین کو اس وقت تک کسی بھی فرد کی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جب تک کہ وہ اپنی نجی زندگی کے معاملات کو خود اپنی مرضی سے یا اپنی غیر دانشمندی سے عوامی سطح پر ظاہر نہ کرےـ

نجی زندگی کے حوالے سے یہ اصول صرف عام افراد کے لیے ہے لیکن جب کوئی فرد کسی بھی سطح پر عوامی نمائندگی یا اصلاح معاشرہ کے حوالے سے متعارف ہوتا ہے تو اسے نجی زندگی کے حقوق سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں،کیونکہ اب وہ معاشرے کا عام فرد نہیں رہا بلکہ وہ عوامی ملکیت کی طرح ہے،اس کی گفتار اور اس کے کردار یعنی کہ اس کے ہر عمل پر ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا اختیار ہے،اس کے چاہنے والے اس کی اچھائیوں کو اچھالیں گے اور مخالفین اس کی برائیوں اور کمزوریوں کو،لہذا دعوی رہنمائی کرنے والوں کو اپنی عوامی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی نجی زندگی کی تنہائیوں کے حوالے سے بھی انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے لیکن دوسروں کو پھر بھی اخلاقاً اور قانوناً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ معروف لوگوں کی نجی زندگی کی جاسوسی کر کے ان کے خفیہ معاملات کو منظر عام پر لائیں یا عام لوگ منظر عام پر آنے والے کسی ایسے معاملے کو اپنی عوامی مجلسوں کا موضوع بنائیں ـ

نجی زندگی کی تنہائیوں کو پاک اور محفوظ بنانے کے تین طریقے ہیں

01: میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے،دو لکھنے والے ہر وقت میرے ساتھ ہیں اور میں نے مر کر اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہےـ

02: اگر ہم پہلی ایمانی کیفیت سے ابھی تک محروم ہیں تو اس کیفیت کے حصول تک ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تنہائیوں اور بشری کمزوریوں کے عوامی شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالی کی ” ستاریت ” کی چادر میں پناہ لیتے ہوئے اپنی نجی زندگی کی تنہائیوں کو محفوظ بنائیں یعنی اپنی بشری کمزوریوں کو اپنے کریم و ستار رب اور اپنی ذات تک محدود رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور یہ بات یاد رہے کہ ان باتوں کا پردہ رکھنا منافقت کے زمرے میں نہیں آتاـ

03: بس اس بات پر کامل یقین کے ساتھ زندگی گذاریے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ـ

حاصل کلام! دعویٰ رہنمائی کرنے والے وہ حضرات جو ان تینوں باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی عمل کرنے کی فی الوقت استطاعت نہیں رکھتے تو انہیں چاہیے کہ خود کو رضاکارانہ طور پر کسی بھی سطح کے عوامی اصلاحی و انتظامی منصب سے الگ کر لیں اور اس وقت تک ایک عام انسان کی زندگی گذاریں جب تک اوپر بیان کی گئی تینوں کیفیات میں سے کسی ایک کیفیت کا حصول ممکن نہ ہو جائےـ

طالبِ دعا: صفدر چیمہ

فیس بک تبصرے