حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

پیغام آزادی : عمار راجپوت

“مان ، عزت ، وقار، الگ تشخص، آزادی اظہار اور احساس تحفظ”

یہ چند الفاظ دراصل وہ اینٹیں ہیں جن کو تحریک پاکستان کی بلند و بالا عمارت کی نیو میں بطور بنیاد استعمال کیا گیا تھا۔ الگ ملک کے نام پر دکھائے جانے والے سارے خوابوں، لگائے جانے والے سارے نعروں اور دئیے جانے والے سارے دلاسوں کا تعلق براہ راست ان ہی چند الفاظ سے وابستہ ہے۔ اور یہی وہ الفاظ ہیں جن کو جلی حروف میں لکھنے کی خواہش میں ہزاروں بلکہ لاکھوں جانوں نے اپنے خون کو سیاہی کے طور پر پیش کر دیا تھا۔

آج ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اگر من حیث القوم ہم خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ہم نے یہاں وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جس کے لیے ہم نے اتنی بڑی اجتماعی ہجرت کی تھی کہ جس کی مثال معلوم انسانی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ تو یقیناً حاصل ہونے والا جواب ہمارے سر جھکا دے گا لیکن ہمیں اپنے ان جھکے سروں کے بیچ سے بھی اپنا پیارا پرچم بلند کرنا ہے، کیونکہ اگر ہم آج تک ان نعمتوں سے محروم ہیں تو اس کے قصور وار ہم خود ہیں نا کہ نظریہ پاکستان یا مشاہیر پاکستان۔

ہمیں اپنے ان اجتماعی خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے آسمانی مدد کا انتظار کرنا ہے اور نہ ہی موجودہ یا سابقہ حکومتوں اور حکمرانوں کو لعن طعن، بلکہ ہمیں اپنی اپنی سطح پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

بزرگوں کا احترام ، چھوٹوں سے نرمی، لسانی، طبقاتی، اور صوبائی عصبیتوں سے دوری، ظلم سے نفرت، مظلوم سے محبت ، امیر اور غریب کے ایک جیسے یکساں انسانی حقوق اور اس جیسی چھوٹی چھوٹی دوسری بے شمار چیزیں، دراصل ان چیزوں کی حیثیت ہمارے مقصد کی راہ میں سنگ میل کی سی ہے۔ اور یہی اس چودہ اگست کا اصل پیغام ہے، خود سے شروعات کریں اور پھر اس کا دائرہ کار گلیوں، محلوں، بازاروں حتی کہ ایوانوں تک بڑھاتے چلے جائیں۔

امید ہے ایک دن ہم زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں آتی دیکھیں گے جو اس دائرہ کار کا حصہ ہوں گے اور ہمارے خوابوں کی تعبیر۔

دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

فیس بک تبصرے