حمد باری تعالیٰ

پاکستانی سماج کو درپیش چیلنجز : حیدر جاوید سید

۔
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ پاکستان مذہبی آزادیوں پر عمل پیرا ہے۔ اس ضمن میں مزید اقدامات بھی کریں گے۔ سبز ہلالی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کا ہے وہ پاکستان میں برابر کے حصے دارہیں۔
مذہبی امور کے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارت کرتارپور کراسنگ کو سیاسی رنگ نہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ
” بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے پاکستان میں صورتحال بھارت کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے”۔
یہ امر بجا ہے کہ چند افسوسناک واقعات اور شکایات کے باوجود پاکستان میں دیگر مذہبی برادریوں کے حالات تسلی بخش ہیں البتہ یہ عرض کیا جانا بھی ضروری ہے کہ بہتری کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
سندھ کے علاوہ اب بلوچستان سے بھی یہ شکایات مل رہی ہیں کہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی نوجوان بچیوں کے اغواء اور تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں سے مسیحی برادری کے بچوں کیساتھ تعلیمی اداروں میں نامناسب برتاؤ کی شکایات ہیں۔ وزارت مذہبی امور کو دیگر وزارتوں کیساتھ ملکر ان شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے۔
اسی طرح اگر حکومت ملک میں مسلم مکاتب فکر کے درمیان دوریاں بڑھانے کیلئے سرگرم عمل عناصر کی سرگرمیوں کا بھی نوٹس لے تو یہ بہت مناسب ہوگا۔
امر واقعہ یہ ہے کہ مذہبی آزادیوں اور سماجی ربط وضبط کے حوالے سے صورتحال کو قدرے بہتر تو کہا جا سکتاہے تسلی بخش ہرگز نہیں۔
پچھلے دنوں قومی نصاب کونسل کے اختتامی اجلاس میں بھی اس صورتحال کے حوالے سے بعض شخصیات نے اپنی تشویش ظاہر کی اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے شرح خواندگی میں اضافے کو ضروری خیال کرتے ہوئے تجویز دی کہ ملک میں اگر یکساں نصاب تعلیم کو رواج دیا جائے اور نصاب تعلیم کی تیاری میں انسان سازی کو افضل سمجھا جائے تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
مذکورہ خیالات اور تجاویز پر دو آراء ہرگز نہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جو 1970ء کی دہائی میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور اگلے مرحلہ میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کے ہاتھوں گھائل ہوا ہو اسے ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے

مذہبی آزادیوں اور ہم آہنگی وبرداشت کے حوالے سے اچھی تقاریر اور تسلیوں سے زیادہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دیگر مذہبی برادریوں کیلئے سرکاری سطح پر چند اقدامات یقینا حکومت کی وسعت قلبی کا اظہار ہیں مگر حکومت صرف اپنے اداروں اور اقدامات تک محدود نہیں ہوتی۔
مذہبی آزادیوں‘ ہم آہنگیوں اور سماجی انصاف کے حوالے سے مثالی معاشرہ قائم کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب نصاب تعلیم میں اولیت انسان سازی کو حاصل ہو اور ریاست اس امر کا دو ٹوک اعلان کرے فرد یا طبقے کے مذہبی ومسلکی حقوق اور آزادیوں کے منافی کسی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نرم سے نرم الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ ایک مثالی ریاست اور معاشرے کی تشکیل کیلئے بہت ضروری ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی 11اگست 1947ء والی تقریر سے رہنمائی لئے بغیر کی جانے والی کوششیں مثبت نتائج دینے سے قاصر رہیں گی تو یہ غلط نہ ہوگا۔
مذہبی ومسلکی انتہا پسندی اور اس حوالے سے تقسیم کو بڑھانے اور عدم تحفظ کو دوام دینے والے رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔
سکھ برادری کیلئے کرتارپور کراسنگ کا قیام ایک کوشش ہے جبکہ ہماری ضرورت یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مقیم دیگر مذہبی برادریاں بھی مذہبی امتیازات کا شکار نہ ہونے پائیں تاکہ مثالی انسانی سماج کی تشکیل ہو پائے۔ یہاں اس سوال پر بحث مقصود نہیں کہ وزارت مذہبی امور کا ماضی میں اس حوالے سے کیا کردار رہا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اب اس وزارت کی سربراہی خانقاہی نظام کی صلح کل کی دعوت دینے والے معروف خانوادے کے ایک صاحب علم اور انسان دوست شخص کے پاس ہے اس لئے لوگ یہ توقع کر رہے ہیں جناب پیر نورالحق قادری کی وزارت سے ماضی کے ادوار میں جو بلنڈر سرزد ہوئے حال اور آنے والے سالوں میں ان سے نہ صرف محفوظ رہا جائے گا بلکہ وہ ذاتی طور پر ملک میں مقیم دیگر مذہبی برادریوں کی نمائندہ شخصیات کو بلا کر ان کی شکایات اور مسائل سنیں گے اور ان کے ازالے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کریں گے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور کو اس حوالے سے دو میدانوں میں جرأت کیساتھ اپنے کام کا آغاز کرنا ہوگا اولاً غیر مسلم برادریوں کے تحفظات وشکایات کا ازالہ اور ثانیاً مسلم مکاتب فکر میں موجود انتہا پسندی کو ختم کرکے اعتدال کو فروغ دینے کی حکمت عملی۔
مکرر عرض ہے کہ مذہبی ومسلکی شناختوں کی بنیاد پر پچھلی انتہا پسندی اور عدم برداشت سے پچھلے 40سالوں کے دوران بہت نقصان ہو چکا اس حوالے سے ملکی وبین الاقوامی رپورٹوں کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے نا سامنے کی حقیقتوں سے منہ موڑا جاسکتا ہے۔
کرتارپور کراسنگ ایک اچھا اقدام ہے ہمیں اپنے سماج کے اندر بھی کرتارپور کراسنگ جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مذہبی حقوق وتحفظ اور سماجی مساوات کو رواج دیکر ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جو انصاف‘ مساوات‘ فروغ علم تحقیق اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہو اور پاکستان اقوام کی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر پائے۔
حرف آخر یہ ہے کہ نظام اور دیگر معاملات کے حوالے سے غیر مسلم برادریوں میں موجود تحفظات کے خاتمے کیساتھ ساتھ خود مسلم مکاتب فکر میں بھی خوشگوار تعلقات اور برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ امید واثق ہے کہ ان گزارشات پر توجہ دیتے ہوئے اصلاح احوال کیلئے ضروری اقدامات میں تاخیر نہیں برتی جائے گی۔

فیس بک تبصرے