حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

یوم پاکستان کی خوشیاں : حسام درانی

،23 مارچ کی چھٹی اور گھر میں مہمان 21 تاریخ سے آنا شروع ہو گئے۔۔
خیال تھا کہ 23 مارچ کے دن مہمان مزار اقبال، مینار پاکستان اور واہگہ بارڈر جانے کا کہیں گے اور یہ ہی سوچ لے کر پروگرام بناتا رہا کہ اس دن کی مناسبت سے کیا کچھ کرنا ہے اور کیسے ان سب کو لے کر جانا ہے۔ 22 کی رات بندہ نا چیز اپنے ہم زلف کے ساتھ بیٹھا چائے نوش جان کر رہا تھا اور بحث ہو رہی تھی کہ 23 کو یوم پاکستان ہے کہ یوم جمہور اچانک زوجہ ماجدہ نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہماری گفتگو کو روکا اور اعلان کیا

” میرے عزیز ہم وطنوں ”

‘ہم دونوں بہنوں نے پروگرام بنایا ہے کہ کل شام کو ہونے والے کوک فوڈ اور میوزک فیسٹیول میں شرکت کی جائے، تاکہ یوم پاکستان کی خوشیوں کو بھرپور اور پورے قومی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جائے”-
اور جاتے جاتے ایک حکم اور صادر کر گئیں کے ابھی ٹکٹس کی خریداری کی جائے۔
میں نے منمناتے ہوئے کہا ملکہ عالیہ اس وقت تو آواز آئی ” ہاں ں ں ں ”
خیر ہم زلف کی جانب دیکھا تو وہ اپنی زوجہ (سیکنڈ ان کمانڈ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر) کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے صوفے میں اور گھسے جا رہے تھے۔
خیر جان کی امان دل میں ناں اور لب پر ہاں جی رکھ کر حاصل کی فورا ایک نئے شادی شدہ جوان کو فون کیا جو کہ پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ اس پر نور محفل میں جانے کا پروگرام بنا بیٹھا ہے۔ کہ یار میرے لیے بھی ٹکٹس خرید لو جب تعداد بتائی تو کہنے لگا، بھائی کیوں دوسری شادی کی بارات لے کر جانی ہے تو قسم
سے دل خون کے آنسو رونے لگا خیر ہنستے ہوے کہا نہیں یار تیری بھرجائی کے گھر والے سب آئے ہیں اتنا سننا تھا کہ اس مرد مجاہد کی بھی بولتی بند ہو گئی۔

جیسے ہی اطلاع دی گئی کہ آپکی خواہش پوری کر دی گئی ہے اسی وقت سمسیا پڑ گئی کہ کل کونسا سوٹ زیب تن کیا جائے (شیروانی یا یونیفارم)۔۔
اللہ اللہ کر کے دن گزارا اور شام 3 بجے پتہ چلا کہ ہمشیر نے بھی قدم رنجہ فرمایا بمعہ تین بچوں اور اپنے حاضر سروس میجر صاحب کے ساتھ۔
اب میری سمسیا میں اور اضافہ ہو گیا کہ پانچ اور ٹکٹس اور سواری کا انتظام کیسے ہو گا۔۔
لیکن ہمشیر کیونکہ ابھی بیماری سے شفا یاب ہوئی تھی اس لئے انکار کر دیا ساتھ جانے سے۔
خیر پورے چھ بجے معہ لاؤ لشکر کے گھر سے نکلا تو لاہور کی سڑکیں ایسی ٹریفک سے بھری ہوئی تھیں جیسے چیونٹیاں قطار بنائے چل رہی ہوں، 20 منٹ کا سفر انتہائی سبک رفتاری سے پورے 60 منٹ میں طے کیا اور کنسرٹ کی لوکیشن سے پورے دو کلومیٹر دور گاڑیاں پارک کر کے اور بچے کاندھوں اور کمر پر لٹکاے جب میدان جنگ، معذرت کنسرٹ ایریا میں داخل ہونے لگے تو ایسا گھمسان کا رن پڑا کے مائیں اپنے بچے اور خاوند بیویاں بھولے پڑے تھے لیکن اس موقع پر بھی حواس قابو میں رکھے اور زوجہ کی بازو پکڑے بھیڑ میں سے گزرتے ہوے جب پہلا چیک پوائنٹ کراس کیا تو پتہ چلا کہ بچہ تو اپنا ہی کندھے پر ہے پر بغل میں زوجہ نہیں بلکہ کوئی اور ہی قتالہ ہے نا چاہتے ہوئے بھی تھوڑا دور ہوا اور معذرت کی کہ رش میں پتہ نا چلا۔۔۔۔
اور قتالہ اک شان بے نیازی سے سگٹ سلگا کر بولی ” اٹس اوکے ” اور میں نے دوبارہ ایک گہرا سانس لیا اور اس رش کے سمندر کودنے ہی والا تھا کہ ایک کونے سے سرکاری نابیناء کی فوج کی طرح ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھے گھر والے وارد ہوے۔
خیر اللہ اللہ کر کے دو مزید چیک پوائنٹس پاس کئے اور جیسے ہی میدان میں داخل ہوے، تو چست جینز و ٹی شرٹس میں ملبوس لڑکیوں نے نا صرف یوم پاکستان کی مبارکباد دی بلکہ بسکٹ اور ٹافیاں بھی پیش کیں۔
واہ کیا بات تھی اتنی سعادت مند اور ملک کی محبت سے بھری ہوئی لڑکیاں لیکن نا جانے زوجہ کو وہ لڑکیاں کیوں پسند نا آئیں شاید کہ انہوں نے کالے رنگ کی پی کیپس پہن رکھی تھیں اور وہ شاید ان کے کپڑوں کے ساتھ میچ نا کر رہی ہوں۔

قصہ مختر دھکم پیل اور کان پڑی آواز نا آنے کے باوجود ایک جری جوان کی مانند میں نے پیش قدمی جاری رکھی اور اس وقت جا کر رکا جب سکیورٹی گارڈز اور باونسرز نے کہا پائین اس سے آگے اسٹیج شروع ہو گیا ہے آپ تو جنگلہ گرانے لگے تھے، تب احساس ہوا کہ یوم پاکستان کی خوشی میں اپنے جذبات پر قابو کھو گیا تھا یا پھر اپسراوں کی موجودگی اسکا سبب تھا۔
جیسے ہی کنسرٹ شروع ہوا تو ایسا لگا کے میں شہباز شریف کے دعوئ کے مطابق پیرس پہنچ گیا ہوں، مرد و زن نے ملک سے محبت کا اظہار ہر ڈانس نمبر کے بعد پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگا کیا۔

اسی دوران میں بشری حاجت کو پورا کرنے کے لیے رش سے باہر نکلا تو کیا دیکھا کے درجنوں کی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں جگہ جگہ جوڑوں اور ٹولیوں کی شکل میں مختلف اقسام کا دھواں اڑا رہے ہیں اور ایک دیوار کے ساتھ چند سائے نظر آئے میں سمجھا کے شاید ادھر ہی لڑکے اپنا پریشر کم کر رہے ہیں لیکن قریب جانے پر معلوم ہوا کہ مشروب مغرب سے لطف اندوز ہونے والوں میں لڑکیوں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوکہ ہر گھونٹ کے بعد میوزک کی لے پر تھرکتے اور پاکستان زندہ آباد کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔۔

پائین چھ گھنٹے پروگرام میں گزارنے کے بعد بندہ اس پوائینٹ پر پہنچا ہے کے پیسوں اور گوڈوں دونوں کا ضیاع لیکن بیگم و بچوں کی تفریح

اللہ آلیو کوئی دم درور کرو کوئی صدقہ خیرات کرو ان بیگمات کو مت آئے پہلے ایسے پروگرامز میں جانے کو اوتاولی ہوتی ہیں اور پھر عین وقت رقص و سرور جب جوان بچیاں اپنے حال سے بے حال انتہائی فاشٹ میوجک پر بھی دھمال ڈالتے ہوئے بندے پر گرتی ہیں جس نے ایک ہاتھ میں اپنے بچے کو بھی تھاما ہوتا ہے کہ کہیں بیگم کو سنبھالنا نا پڑے اس پر ایسے گرم ہوتی ہیں جیسے کہ بندہ کسی شجرہ ممنوعہ کے پھل توڑنے لگا ہو۔
اب بھیا پھل توڑنا تو ایک طرف بندہ ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا کیونکہ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کس جانب دیکھے کیونکہ ہر طرف ہی پکے ہوے پھلوں کی ڈالیاں لچک رہی ہوتی ہیں۔

لیکن اس بات کا احساس ہوا کہ 23 مارچ یوم پاکستان نہیں بلکہ یوم جمہور کے طور پر منانا چاہیے، کیونکہ جمہور میں انسان کو ہر وہ چیز کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے جو کہ وہ کرنا چاہتا ہے۔۔

فیس بک تبصرے