حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

ملک ایک عیدیں دو کیوں -امجد اسلام

یہ مسئلہ اج کل کا نہیں ہے بلکہ تب سے چلا آ رہا ہے جب ہم نے بلوغت کے دہلیز پر قدم بھی نہیں رکھا تھا، تب ہماری سکونت ہمارے اپنے آبائی گاؤں میں تھی، اس وقت سے روزے اور عیدین میں ہمارا اِختلاف تھا،یعنی اُس وقت سے ہی ہمارے حکامِ آعلی میں اِتنی قابلیت نہیں تھی کہ اِس مسئلے کا ٹھوس حل نکال کر عوام کو مُتفقہ عید اور روزے کا تحفہ دے سکے۔

آج بھی یاد ہے کہ اکثر سحری کے قریب قریب اعلانات کر دئیے جاتے کہ کل روزہ ہے، یا عید، کیونکہ دور دراز سے شہادتیں موصول ہونے میں اکثر دیر ہو جاتی تھی، اس وقت موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی۔

روئیت حلال کمیٹی کا مقصد ہرگز نہیں کہ اِس کمیٹی کا کوئی ممبر خود ہی چاند دیکھ کر اعلانِ عید یا روزہ کرے، بلکہ اس کمیٹی کا مقصد یہ ہے کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کی جانچ پڑتال کر کے فیصلہ ثبت کر دے، لیکن بدقسمتی سے ہماری مرکزی کمیٹی اکثر مغرب کے نماز کے بس چند لمحے بعد ہی شواہد نا موصول ہونے اعلان کر دیتی ہیں، یہی سے
“آپ کی اپنی عید اور ہماری اپنی عید”
والی جنگ چھیڑ گئی۔

پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مقابلے میں پختون خواہ سے زیادہ شہادتیں موصول ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ طنزاً یہ کہہ دیتے ہیں کہ جو چاند پورے ملک میں نہیں دیکھا گیا وہ “کے پی” والوں کو کیسے دیکھ جاتا ہے۔

کئی وجوہات ہیں اِسکے، لیکن جو غیر ٹیکنیکل وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ٹل، کرک، پاڑاچنار، بنوں، دوآبہ، درسمند، ہنگو, مردان، چارسدہ وغیرہ یہ وہ علاقے ہیں، جو پنجاب سمیت ملک کے باقی علاقوں کے نسبت زیادہ غیر آلودہ ہیں،یہاں مطلع اکثر و بیشتر باقی علاقوں کے نسبت زیادہ صاف ہوتا ہے، جس سے چاند دیکھنے میں آسانی رہتی ہے۔

یہاں کے لوگ بھی نسبتاً زیادہ مذہبی ہے، یہ لوگ اپنے مدد آپ کے تِحت خود ہی چاند کی تلاش میں کوشاں رہتے ہیں، اور کامیابی بھی مل جاتی ہے ان کو، لیکن بدقسمتی سے آج تک اِن لوگوں کی گواہی کو قابلِ قبول نہیں سمجھا گیا۔

پشاور ہجرت کی تو مسجد قاسم علی خان اور پاپولزئی صاحب کو نا صرف قریب سے دیکھا، بلکہ وہاں کئی دفعہ بیٹھے ہوئے نجی کمیٹی میں جانے کا اِتفاق بھی ہوا۔

یہ سو فیصد حقیقت ہے کہ وہاں شہادتیں لاتعداد موصول ہوتی ہیں، لیکن وہاں کی انتظامیہ ان میں سے صرف شرعی لحاظ سے درست افراد کو اگلے مرحلے میں بھیج دیتی ہیں، پھر ان افراد سے خلف لیا جاتا ہے، اس کے بعد چاند دیکھنے کے متعلق سوالات جوابات ہوتے ہیں، آخری مرحلے میں جن کے جوابات تسلی بخش ہوئے اُن کی شہادت قبول کی جاتی ہیں باقی کو رد کر دیا جاتا ہے، تو جو بیس، بائیس افرد کے شہادت کو قبول کر کے عید یا روزہ کا اعلان کیا جاتا ہے، یہ افراد سو، دو سو افراد میں سے نکالے گئے ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں آج بھی اسی فیصد لوگوں کو معلوم نہیں کہ ٹیکنیکل وجہ کیا ہوتی ہے، لیکن جن کو ٹیکنیکل وجہ کا پتہ ہے، وہ یہ سوال نہیں اٹھا سکتے کہ جناب اتنے حساس معاملے میں کوئی کیونکر جھوٹی گواہی دے گا وہ بھی کئی لوگ اور مختلف مقامات سے۔

تمام علماء بشمول مفتی منیب الرحمن صاحب ورثہ الانبیاء کی نسبت سے ہمارے سر کے تاج ہے، ہم گناہگار ان کے پاؤں کے دھول کے برابر بھی نہیں، لیکن انہی معزز افراد کی وجہ سے حالیہ رمضان المبارک ایک دفعہ پھر متنازعہ بن گیا۔

مولانا عتیق الرحمن جو بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں نے بارہ لوگوں سمیت چاند دیکھا، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو مطلع کیا گیا لیکن وہاں سے یہ کہہ کر شہادتیں نامنظور کرلی گئی کہ سائنسی نقط نظر سے آج چاند کا دیکھنا ناممکن ہے، گویا مطلب یہ ٹھہرا کہ آپ سمیت بارہ لوگ غلط بیانی کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب کے اس دفعہ کے پی کے ساتھ رمضان نا کرانے کے بعد یہ معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا، ایک جنگ چھیڑ گئی جو بعد میں لسانی لڑائی میں تبدیل ہو گئی۔

یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ اغل بغل کے کچھ لوگ ملک میں لسانی فسادات کے لیئے کوشاں ہیں، ان کے ہاتھ یہ موقع کسی غنیمت سے کم نہیں تھا، اسے بنیاد بنا کر پختون اور پنجابیوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی، جو کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔

کچھ پیڈ لکھاریوں نے اس مسئلے کو اور ہوا دی تاکہ معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کر جائے، سوشل میڈیا پے ایسے ایسے پوسٹ اپلوڈ کی گئی جس سے نفرت میں اضافے کو تقویت ملی، سادہ لوح عوام نے بنا تحقیق کئے اس پے یقین کر لیا۔

جس طرح خیبر پختون خواہ نے بہت ساری قربانیاں دی ہیں اسی طرح پنجاب بھی بہت ساری قربانیاں دے رہا ہے، پورا ملک پنجاب کا صرف نمک ہی نہیں کھا رہا بلکہ آٹا، دال چنا، ٹماٹر پیاز آلو بھی پنجاب ہی کا کھایا جاتا ہے، پنجاب کے سینے میں اللّہ نے بہت بڑا دل رکھا ہے، بہت سارے پشتونوں کو با عزت روزگار کے ساتھ ساتھ بہترین رہاشگاہیں فراہم کی ہیں۔

مذہبی لحاظ سے بھی پنجاب بہت زرخیز ہے، عظیم الشان تبلیغی اجتماع کو پنجاب ہر سال بخوبی سرانجام دے پاتا ہے، بہت سارے دینی درسگاہوں کا مرکز ہے پنجاب۔

حکومتی نا اہلی، مولیوں کے ضد اور فسادی ٹولے کی وجہ سے ملک میں نفرت کی فضاء قائم ہو چکی ہے،فسادی ٹولہ ملک میں انتشار کے لیئے کوشاں ہیں، اس کے لیئے انہیں خطیر رقم باہر سے موصول ہوتی ہیں، یہ لوگ نا صرف پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ پاکستان کی بٹوارے کے خواب دیکھ رہے ہیں، ملک مزید کسی بٹوارے کا متحمل نہیں، اہل علم اور کرسی پے براجمان سرکار کو اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

رہی بات پٹھانوں اور پنجابیوں میں نفرت پیدا کرنے کی، تو دشمنوں کو یاد دلاتے ہیں کہ
پنجاب ہمارا ہے
اور
ہم پنجاب کے ہیں۔

فیس بک تبصرے