حمد باری تعالیٰ

اسلام میں کیسی نرمی؟ نعیم الرحمٰن

.
اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے دین کے طور پر پسند فرمایا اور اسے ایک مکمل اور مربوط نظام کی شکل میں دنیا میں بھیج دیا۔ اور ساتھ فرمایا کہ ہم نے تمھیں پیدا کیا تاکہ ہم آزمائیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے اور کون روگردانی کرتا ہے؟
اسلام اپنے فیصلوں، اصولوں اور عملوں میں بڑا سخت ہے۔ جب کوئی انسان اسے قبول کرتا ہے، تو اسے نماز کا سختی سے حکم دیا جاتا ہے۔ حتی کہ بچوں کے لیے بھی سات سال کی عمر میں اسے فرض قرار دیا اور دس سال کی عمر میں سختی کرنے اور مارنے اور پھر برتن تک علیحدہ کر دینے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ لیکن ہم نے سمجھا کہ اسلام بڑا نرم ہے اس لیے نماز پڑھو، یا ایک پڑھ لو چار چھوڑ دو کوئی مسئلہ نہیں۔
اور ہم میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کا مقصد ہے کہ بس حاضری لگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کہ لیے فرماتے ہیں کہ ہلاکت ہے نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز میں دکھاوا کرتے ہیں۔ یہ تو نماز پڑھنے والے ہیں، تو سوچیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ صحابہ کرام متفق تھے اس بات پر کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، بندے اور کافر کے درمیان حد فاصل نماز کو ٹھہرایا گیا اور ہم نے کہا نہیں اسلام تو بڑا نرم ہے۔ اور جان چھڑوا لی۔
پھر بات آئی اخلاقیات کی اور انسانیت کی۔ اسلام کہتا ہے کسی کا حق نہ کھاؤ، ہمسائے سے اچھا سلوک کرو۔ عبادتیں چاہے لاکھ کرتے پھرو لیکن اگر ہمسایہ ناراض ہوا ، اسے تنگ کیا تو جنت میں نہ جاسکو گے۔ اس سے بڑی سختی اور کیا ہوسکتی ہے؟ لیکن ہم نے کہا اسلام تو نرم ہے اس لیے جس کا چاہے حق کھا جاؤ، جسے چاہے گالی دو اور ہمسائے کا تو جینا حرام کردو ، سب کچھ معاف ہے کیوں کہ اسلام میں تو بڑی نرمی ہے۔
پھر معاملہ آیا محبت اور نفرت کا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے لیے بڑے سخت ہیں اور مومنوں کے لیے بڑے نرم۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے بغض رکھا، اللہ کے لیے دیا اور اللہ ہی کے لیے روک لیا تو اس نے ایمان مکمل کرلیا۔ لیکن ہم تو ٹھہرے بھائی بڑے نرم دل والے، نفرت تو ہم میں ہی نہیں حالاں کہ اللہ خود کفار سے دوستیوں سے منع کررہا ہے۔ اور جناب رسول کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ جس نے جس قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔ لیکن ہم تو بڑے نرم گوشہ رکھنے والے نکلے، تہوار بھی منائیں کافروں کے اور مبارکبادیں بھی انھی کو دیں۔ او جی نفرتیں تو پہلے بہت پھیل چکیں ، اسلام تو بڑا نرم ہے۔
اسلام نے کہا جہاں برائی دیکھو اسے ہاتھ سے روکو، زبان سے روکو، نہیں تو دل میں برا خیال کرو۔ مگر ہم نے کہا نہیں جی شادی بیاہ، پارٹی ، مہندی، یہی تو ہے بچے ہیں کرلینے دیں کیا ہوتا ہے۔ اسلام تو رعایت دیتا ہے، بڑا نرم ہے نا۔
بات پہنچی پردے کی تو ہمارے دلوں کے پردے آ گئے جب کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی بیویوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ اپنی چادریں اپنے اوپر اچھی ڈال لیا کرو تاکہ تمہاری پہچان ہوسکے اور لہجے میں سختی رکھو یہ نہ ہو کہ کسی مریض کے دل میں مرض جاگ اٹھے۔ نہیں جی یہ تو عورتوں کی آزادی کے خلاف ہے جب کہ اسلام تو عورت کو آزادی دیتا ہے۔ اسلام میں تو سختی ہے ہی نہیں بڑا نرم ہے۔
اسلام نے کہا کسی پر لعن طعن اور فتوے کسو گے تو تم پر لوٹا دیے جائیں گے،لیکن ہم نے تو اسلام کو اپنے ہاتھ میں کرلیا کافر بھی قرار دیا ، لعن طعن بھی کی اور ساتھ میں ٹھیکیدار بھی بنے اور اسلام کی اس سختی کو بھلا ہی دیا کہ کسی کو کافر، فاسق ، فاجر کہنے کی کیا سزا ہے اور کتنی سخت ہے۔
غرض یہ کہ اسلام کے ہر پہلو کو ہم نے اپنے مطابق ڈھال کے، اپنی پسند کے طریقے نکال کے، دل و دماغ کی فرحت کے لیے نئے نئے حیلے نکال کے کہا کہ اسلام تو بڑا نرم ہے اس میں تو سختی ہے ہی نہیں اور نہ ہی جبر ہے۔
او میرے بھائیو۔۔۔ اسلام پر عمل کرنا سخت نہ ہوتا، تو بتاؤ مومن کے لیے یہ دنیا قید خانہ کیسے ہوگئی؟ ایک لکیر کھینچ کر اس کے گرد مزید لکیریں کھینچتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کیوں فرما رہے تھے کہ یہ لکیر انسان ہے اور باقی اس کے گرد پریشانیاں؟ کیوں جناب جبریل علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا: مولا تیری جنت کا راستہ تو اتنا کٹھن، سخت اور دشوار ہے کہ کوئی کوئی ہی اس جنت تک جاسکے گا؟ کیوں سید الانبیاء جناب محمد ﷺ اپنے جانثار کے لیے فرما رہے تھے کہ جناب عمر رضی للہ عنہ میری امت میں اللہ کے معاملے میں سب سے سخت ہیں۔ اور پھر خواب میں دیکھ رہے ہیں کہ عمر کا لباس پاؤں میں پڑ رہا ہے اور اسے علم سے تعبیر کیا۔ کیوں اللہ تعالیٰ اسی سخت عمر رضی اللہ عنہ کے مشوروں کو اسلامی احکام میں بدل رہا تھا۔
اللہ تعالیٰ کتاب حق میں فرماتے ہیں کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کا حکم آجائے تو اسی طرح مان لیا کرو، جھگڑے نہ کیا کرو۔ اسلام انسان کو سختی سے کاربند کرتا ہے کہ اس کا اخلاق بھی خوبصورت ہو، لباس بھی درست ہو، بات بھی عمدہ ہو اور کام بھی اعلیٰ ہو، حیلے بہانے، نرمی، رعایتیں اسلام میں نہیں ہیں۔ اسلام ہر فرد کی زندگی میں ایک بدلاؤ لاتا ہے جس سے معاشرہ بنتا ہے۔ اسلام ہی سے وہ دوسروں کے حقوق کا پتا کرتا ہے تو پھر امن و خوش حالی آتی ہے۔
؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ایک واقعہ یہاں لکھنا مناسب سمجھوں گا کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اسلام پر بیعت کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور ساتھ کہا کہ جہاد اور صدقہ میرے بس میں نہیں ہے میں اس پر رعایت چاہتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ واپس ہٹا لیا اور فرمایا کہ اگر نہ جہاد کرو گے اور نہ صدقہ دو گے تو جنت میں کیسے جاؤ گے؟ میرے محترم بھائیو یہ ہے اسلام کی وہ سختی جس کے مطابق پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اور ان باتوں کو نہیں لینا جو دل کو بھائیں بلکہ ہر اس چیز پر سختی سے عمل کرنا ہے جس کا حکم اسلام نے دیا ہے۔ چاہے وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد۔ اس سب کا معاملہ ایک بندے کی ذات سے ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات معاف کرنے والی ہے وہ یقینا جس کے گناہ چاہے گا معاف کردے گا مگر ہمیں اس کے بھیجے ہوئے دین پر مکمل کاربند ہونے کی اشد ضرورت ہے، ورنہ قیامت کو ہونے والے ایک بھی سوال کا جواب ہم دے نہیں پائیں گے۔ گناہ انسان کی سرشت میں شامل ہیں۔ اور حدیث نبوی ﷺ بھی ہے کہ اگر یہ دنیا والے گناہ کرنا چھوڑ دیں تو اللہ تعالی ان کو ختم کرکے ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں اور اللہ سے معافی طلب کریں۔ اور مزید فرمایا کہ: ہر انسان گناہ گار ہے اور سب سے اچھا گنہگار وہ ہے جو توبہ کرلے۔ اللہ تعالی ہم سب کو پورے کے پورے دین میں داخل فرمائے اور راہ راست پہ استقامت نصیب فرمائے۔ آمین

فیس بک تبصرے