حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

میرے انگنے میں- ثمینہ مشتاق

.. حد ہو گئی
مرزا بھائی نے اخبار کے اشتہار کو دیکھ کر ایسا منہ بنایا جیسا وہ اکثر بھابی کے ہاتھ کی بنی بھنڈی یا ان کے جد امجد کو دیکھ کے بناتے تھے ۔مجھے مغالطہ ہوا کہیں کوئی اخلاق سے پرے تصویر منظر نامے پہ ابھر نہ آ ئی ہو.
میں نے مذکورہ اشتہار دوبارہ دیکھا مگر نہیں وہاں تو لاکھوں دلوں کی دھڑکن عبید اسلم اپنے میوزیکل بینڈ آبشار کے ساتھ ہاتھ میں مائک تھامے سر بکھیر رہا تھا پس منظر میں چند اور موسیقی کے دیوانوں کی سر دھنتی شہبہ محو رقص تھیں جو مجھے تو کہیں سے بھی قطعی نامعقول نہیں لگ رہی تھیں ورنہ اخلاق سے گری ہوئی تصاویر تو یہ اخبار والے نہیں چھاپتے تھے اور اخلاق سوز رسالے ہمارے گھر میں ممنوعہ تھے.
میں اپنی عقل کو ڻڻول رہی تھی مگر سمجھ سے بالا تر تھا آخر مرزا بھائی کے پاس یہ ہنر کب آیا کے وہ بھی دیکھ سکیں جو موجود نہیں۔
یہ تو اس ہی میوزکل نائٹ کے دعوت نا مے کا اشتہار تھا جو ابھی کل ہی مرزا بھائی کو موصول ہوا جہاں بڑے بڑے نامور موسیقار اپنے فن کا جادو جا گا رہے تھے جو ہمارے سروں پہ چڑھ کے بولتا تھا
یہ دعوت نامہ کوئی عام دعوت نامہ نہ تھا بلکہ شہر کے چیدہ چیدہ خاص لوگوں کو ہی موصول ہوا تھا جن میں سیاسی سماجی اور ادبی شخصیات شامل تھیں اور مرزا بھائی ادبی حلقوں میں ایک جانا پہچانا نام تھے….
مگر ان کے نزدیک یہ میوزیکل نائٹ نری بے ادبی تھی جس کا ادب سے دور دور تک کا واسطہ نہ تھا انہوں نے اس محفل موسیقی کے دعوت اشتہار پہ نگاہ غلط ڈالی اپنی جناح کیپ سر پہ جمائی اڻھ کر اچکن کی سلوڻیں انتہائی نفاست و پیار سے سیدھی کیں پان سائیڈ کے دانتوں میں دبایا چھڑی کو مضبوطی سے تھاما اور چند الفاظ اگلے..
ہم نہیں جائیں گے.
اس کے ساتھ ہی میرے سماعتوں میں ایک صدا گونجی نہیں نہیں نہیں کہہ دو کے یہ جھوٹ ہے..
میرا دل چاہا کے کاش یہ انکار ایک بھیانک خواب کے سوا کچھ نہ ہو میری آنکھ کھلے تو اماں پاندان کے سامنے سروتا لئےچھا لیا نہ کتر رہی ہوں ان کے برابر قلابتو اور گوڻھے کے کام سے مزین غرارہ زیب تن کیے بیڻھی دلہن بیگم ( جن کی شادی کو 12 سال ہو گئے تھےاور خیر سے چھ عدد بچے بھی تھے ) پان سے شوق نہ فرما رہی ہوں اور مرزا بھائی …کالی اچکن کی جان چھوڑ چکے ھوں جس کو اّبا نے 8 سال پہلے ترکے میں چھوڑا تھا…
کاش یہ بلیک ین وہائٹ منظر بدل جاۓ اور حقیقی زندگی رنگین ہو … حقیقت کو رنگین کر نے کا یہ نایاب موقع تھا اور اب میں نے اس بے رنگ خواب کا پردہ چاک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مرزا بھائی نہ سہی اماں کو قابو کرنا میرے لئے آسان تھااماں میری بات ڻال ہی نہیں سکتی تھیں.مرزا بھائی کے بعد صرف میں تھی….اور میں بھی بڑی منتوں مرادوں کے بعد اس دنیا فانی میں آ ئی.
اگر میری زبان اماں کے سامنے لڑکھڑاتی تھی تو محض اتنی وجہ تھی کے اماں کا خاندانی جاہ وجلال میری نظروں کے
سامنے گھوم جاتا تھا ان کا نسب نہ جانے کون سی پشت سے مگلوں …میرا مطلب ہے مغلوں سے جا ملتا تھا
اب مغل رہے نہ تاج و تخت مگر محض جلال چھوڑ گئے جو کے اماں نے خاندانی میراث سمجھ کر کلیجے سے لگا رکھا تھا.
ہمارے گھر میں یہ مثال تو صادق آتی ہی تھی کے کوئی چڑیا اماں کے حکم کے بغیر پر نہیں مار سکتی تھی نہ کوئی پتا ہلتا تھا …مگر گھر سے باہر جانے پہ بھی سخت قانون نافذ تھے ۔ اب ایسی نائڻس بار بار تھوڑی آتی ہیں
اپنے گھر میں تان سین کے پکے راگ سن سن کے اب میرے کان بھی پک چکے تھے مجھے اس تازہ ہوا کے جھونکے کی شدید ضرورت تھی ورنہ عین ممکن تھاکہ میں بھی ایک تمبورا تھامے گھر کے کسی کونے میں نظر آؤں۔
… آخر کار جی کڑا کر کے میں نے اماں کے سامنے اپنا مدعا رکھ ہی دیا جسے سن کر اول تو اماں کو یقین ہی نہ آیا کے میں جو ازل سے خاندانی ماحول میں پل بڑھ کر چند دن قبل ہی زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکی ھوں ان کی دانست میں ایسی نامعقول جگہ جانے کے لئے اصرار کر سکتی ھوں مگر جب میں نے ایک پانچ ستارہ ہوڻل کے جاو حشمت نظم و ضبط ،طعام و انتظام کا چرچا کیا اور تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے تو اماں بھی سوچ میں پڑ گئیں ….مگر انگریز اور انگریزی نظام سے چڑ پھر میری راہ میں حا ئل ہو گئی لہذا انگریزی کو سائیڈ پہ کر کے موسیقی کو دیسی تڑکہ لگانا پڑا۔
کیا ….محفل ادب …؟ کون کون سے شعراکلام پیش کریں گے ؟ اماں نے شوق سے پوچھا
اماں اتنے ادبی لوگ ہیں کے کیا بتاؤں اتنے سارے شعرا ہوں گےفیض احمد فیض …غالب …اقبال …احمد فراز …پروین شاکر …جون ایلیاءمیں نے جلدی جلدی ان شعرا کے نام گنوا دیے جو مجھے یاد تھےمگر اماں پہ ان ناموں کا خاطر خوا اثر نہ ہوا بلکہ ماتھے پہ بل پڑ گئے تیوریاں چڑھا کر بولیں
نگوڑا مشاعرہ عالم ارواح میں منعقد ہو رہا ہے
اماں نے ایک گلوری منہ میں دبائی اور کتھے سے رنگے ہاتھ مہندی زدہ بالوں سے پونچھ لئے۔۔۔۔۔
میں سمجھی نہیں …میں نے بے نیاز بیڻھی اماں کی جانب معصومیت سے دیکھا
آے یہ سب اللہ‎ میاں کو پیارے ہو گئے ہیں بیچارے اللہ‎ بخشے تمہارے اّبا کے زمانے کے شاعرہیں کوئی زندہ شاعر بھی ہو گا وہاں یا یہ لوگ آسمان سے خطاب فرمائیں گے ؟
میری زبان گونگی ہو گئی صدمہ ہی اتنا گہرا تھا کبھی سوچا ہی نہیں تھا اتنے عظیم شعرا جن کو رٹ رٹ کر جان آدھی سے زیادہ خشک ہو جاتی ہے اس دنیا کی بے ثباتی کا شکار ہو چکے ہوں
یا اللہ‎ میں نے قریبی دیوار کا سہارا لیا.
اف ہمارا ادب تو ادب سے خالی ہو چکا اب کس با ادب کا حوالہ دوں صدمے کی وجہ سے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا
دل نے کہا چھوڑو ادب کو …سیاسی شخصیات بھی تو ہماری زندگی اور معاشرے کا اہم ترین جزو ہیں میں نے بات بدلی۔
اماں وہاں نہایت اہم ترین سیاسی رہنما بھی تشریف لائیں گے
اچھا !!!اماں کی آنکھیں پھر چمکیں۔۔۔۔۔
اماں کو سیاست سے بےحد شغف تھا سارا دن سیاست میں مشغول رہتیں مجال ہے جو کبھی دلہن بیگم کا کوئی داو اماں پہچل جاۓ ایسا دھوبی پاٹ دیتیں کے دلہن بیگم چاروں شانے چت اماں بنا شراکت غیرے گھر کی واحد حکمران تھیں.
بھلا کون کون آرہا ہے ؟وہ …اب میرے دماغ نے مطالعہ پاکستان کھنگالنا شروع کیا
قا ئدا عظم ….میرے منہ سے نکلا مگر اماں کے تیور دیکھ کے مجھے اندازہ ہوا کے اتنی اچھی ہماری قسمت کہاں
نہیں وہ تو نہیں آسکتے
میں نے دوسرا نام سوچنا شروع کیا مگر لیاقت علی خان …سر سید ….مو لا نا محمد علی جوہر کے علاوہ دماغ میں کچھ نہیں آیا خواتین پہ عقل کے گھوڑے دوڑآئے تو …بھی بیگم رانا لیاقت علی محترمہ فاطمہ جناح جیسی ہستیاں دماغ کے پردے پہ ابھریں اور زبان سے پھسل کر اماں کی سماعتوں سے ڻکرا گئیں ایک بار پھر اماں کا منہ سرخ ہو گیا خدا جانے شرم سے یا خوشی سے
مگر فرط جذبات آنکھوں سے ابل پڑے زبان بولنے سے قاصر تھی کیونکہ منہ پان کی جگالی فرما رہا تھا.
مگر اماں نےاگال دان میں منہ دے کر سارا غبار دل بھی اگل دیا
اری کم بخت …کیوں بیچاری نیک روحوں کو سیاست میں گھسیٹ رہی ہے یہ کوئی سیاست دان تھوڑی تھے یہ تو محب وطن لوگ تھےجن کا کام محض وطن کی ترقی تھا… سیاست تو کبھی کی نہیں انہوں نے …..کی ہوتی تو حشر پھر مغلوں جیسا ہو جاتا اب میرا مزید سر مت دکھاؤ میری شکل پہ انتہائی مسکینی چھا گئی
مگر اماں وہاں ….بڑے بڑے لوگ آئیں گئے طرح طرح کے کھا نے ہوں گے …میں نے آخری کو شش کی۔
کیا فائدہ …اماں پھر بیزار ہو کر بولیں
وہاں میں کھانا کیسے کھاؤں گی مجھے نہیں آتے انگریزی کھانوں کے نام ۔
او ہو !! اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ..آپ سے کوئی کھانے کا پوچھے تو کہہ دیجیۓ گا..
کھاؤں گی تو پر نام نہیں بتاؤں گی ….میں نے مشورہ دے کر مسلہ حل کر دیا.
جو کے اماں کی سمجھ تو نہ آیا مگر انھیں پّسند ضرور آیا اور انہوں نے ا ثبات میں سر ہلایا ۔
خیر۔۔۔۔ اب بلاوا آہی گیا ہےتو بڑی بے ادبی کی بات ہےگر ہم نہ جائیں …کوئی بلاۓ تو جانا ہی چا ہیے ….تم میرا ..بنارسی زری کے کام والا غرارہ نکال دو ہم پورے خاندانی تہذیب و ذوق کے ساتھ محفل ادب میں شرکت کریں گے۔
اماں کی باتیں سن کر اب تو مجھے بھی لگنے لگا تھا کے میں کسی نائٹ میوزیکل کنسرٹ میں نہیں کسی یاد گار پہ موم بتیاں جلانے جارہی ہوں مگر مرتا کیا نہ کرتا …چار و ناچار مجھے اماں کی بات ماننی ہی پڑی.
اور بلآخر ہم شہر کے سب سے بڑے فائیو سڻار ہوڻل میں موجود تھے جہاں ہر طرف گہما گہمی تھی لوگ عبید اسلم کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب تھے اس ماحول میں مغلیہ شان و شوکت کی حامل اماں کسی عجوبے سے کم نہ تھیں جو زری کے کام سے سجے سفید غرارے میں ملبوس گڑیا سی لگ رہیں تھیں وہ متلاشی نظروں سے چاروں جانب دیکھ رہی تھیں اور مایوس ہو کر ان کی بے چینی بڑ ھتی ہی جا رہی تھی
تم نے تو کہا تھا بڑے لوگ …کہاں ہیں بڑے بڑے عظیم قابل لوگ یہاں تو مجھے صرف لوگوں کا ہجوم نظر آرہا ہے قابل اور قابل قدر شخصیت تو کوئی نہیں۔
میری بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا …کروں تو کیا کروں اماں کو لے تو آئی تھی مگر اب اماں کو سمجھانا محال تھا
مجھے رہ ره کے غصہ بھی آرہا تھاکوئی قابل شخصیت آخر آجاتی نائٹ کنسرٹ میں تو کسی کا کیا چلا جاتا..کیا قابل لوگ جاز اور راک نہیں سنتے محض ڻھمری دادرا غزل اور قوالی ہی موسیقی میں شمار ہوتا ہے..
یہ قابل قدر عظیم لوگ بھی کس قدر شدید الجھے ہوۓ افراد ہیں نجانے ہمیشہ ان کو مشکل چیزیں ہی کیوں پّسند ہوتی ہیں میری شکل پھر رونے والی ہو گئی.
اچانک کانوں سے فلور منجر کی آواز ڻکرائی
Me Excuse
May i help u ma’am
انتہائی شستہ لہجہ کانوں میں راس گھول گیا
یہ کون ہے اماں نے منیجر کو سر سے لے کر پاؤں تک گھورا
یہ …چوکیدار ہے یہاں …میرے ناقص دماغ میں فلور مینجر کا یہ ہی ترجمہ آیا
تم چوکیدار ہو …بڑا افسوس ہوا …بندوق تو چلانی آتی ہو گی؟
اماں کی بات سن کر چوکیدار نے اپنی بڑی بڑی پلکیں جھپکائیں اثبات ،حیرت یا حسرت سے یہ میرے لئے سمجھنا محال تھا اگلی بات اس سے بھی حیران کن بلکہ پریشان کن تھی مگر تیر کمان سے نکال چکا تھا جو سیدھا چوکیدار کے دل پہ لگا
ڈاکو جب آتے ہیں تو سب سے پہلے بیچارے چوکیدار کو گولی مارتے ہیں۔۔
اماں کی بات سن کر فلور منیجر واقعی سن ہو گیا.
آآ آ .. آپ مجھے پلیز بتا دیں گے کہ اس دعوت نامے کے لئے کھانے کی نشستیں کہاں مخصوص ہیں؟
میں نے انتہائی شرمندگی سے مذکورہ دعوت نامہ اسے دکھایا۔ فلور منیجر ابھی تک سکتے کی حالت میں تھا اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں سیدھی جانب جانے کا عندیہ دیامیں مسکرا کر آگے بڑھ گئی میوزیکل نائٹ ہوڻل کے بیرونی حصے میں شروع ہو چکی تھی مگر میں کسی اور ہی محاذ پہ نبرد آزما تھی
ایک بڑے ہال میں آنے کے بعد میں ابھی ارد گرد کا جائزہ لے ہی رہی تھی کے اماں ایک بار پھر چہکیں
ارے شبراتی تم..
اپنا،نام سن کر سوٹ بوٹ میں ملبوس ایک

باوقار شخصیت اماں کی جانب متوجہ ہوئی جن کا وقار اماں کو دیکھ کر پسینے کی صورت ماتھے پہ نمودار ہو گیا تھا……عالم آرا باجی ..آپ !!
ان کو بھی اماں کو یہاں دیکھ کر اتنی ہی حیرت ہو رہی تھی جتنی اماں کو انھیں دیکھ کر۔
ارے شبراتی …اسکول کے بعد اب نظر آئے ہو
مگر زرا نہیں بدلے وہی رونی بیزار صورت میں تمہیں تمہاری تیل سے چمکتی پیشانی سے پہچانی اسکول میں بھی بال نہ.. ہونے کے با عث سارا تیل پیشانی پہ جمع رہتا تھا۔۔۔۔مجھے سب یاد ہے تم ہماری جماعت کے سب سے نکمے ناا ہل نکھڻو کن ذہن بچے تھے اور ہمیشہ اسکول دیر سے آنے پر استاد جی سے مار کھاتے تھے یا اسکول ہی سے غیر حاضر رہتے تھےکبھی کوئی کام وقت پہ نہ کرنے کا اعلی ریکارڈ تھا تمہارا ….پر ..یہ کیا۔۔۔۔تم سے یہ امید نہیں تھی
کمر میں پڻہ گلے میں رسی …یہ لباس انسانو ں کے لئے بنا ہی نہیں اس کو پہن کر ویسے ہی گردن تن جاتی ہے میں تو کہتی ہوں انگریزی لباس چھوڑ کر واپس اچکن پہن لو اپنی سوچ کا دروازہ کھولو تاکہ عقل و دانش کی چڑیا تمہارے دماغ میں گھونسلا بنا سکے۔۔
نہیں عالم آرا باجی یہ لباس اب ہمارا اخلاق فر یضہ ہے ۔ اگر ہم ایسے مو قعوں پر اسے زیب تن نہ کریں تو ماحول میں انتشار کا اندیشہ رہتا ہے لوگ ہیجانی کیفیت کا شکار ہو کر ماحول سے عجیب الجھن بے زاری اور گھڻن کا اظہار کرتے ہیں می میں اس کھلی دہشت گردی کا انجام کار نہیں بن سکتا شبراتی انکل نے تفصیلی جواب دیا
کیا شہر کے کوتوالی ہو گئے ہو شبراتی انکل کی بات سن کر اماں نے سرگوشی کی نہیں عالم آرا باجی …میں تو ایک مہذب شہری ہوں اور ایک سرکاری ادارے میں اعلی عہدے پہ فائز ہوں..شبراتی انکل کی بات سن کر اماں مسکرائیں میں نے تو پہلے ہی کہا تھا تم بالکل نہیں بدلے ویسے کے ویسے ہی ہو..
میز پر کھانا چنا جانے لگا تھا لہذا شبراتی انکل نے میز کا ایک کونا جو کے ہماری نظروں سے کافی پرے تھا منتخب کیا تاکہ کھانے سے انصاف کر سکیں …میں بھی اماں کے ساتھ ایک مناسب جگہ بیڻھ گئی
کھانے کی میز کو دیکھ کر اماں کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں …ویڻر نے اماں کے نزد یک آ کر پوچھا
What can i serve u maam
اماں نے حیرت سے اسے دیکھا
انگریز چلا گیا انگریزی چھوڑ گیا یہ ہی پلٹ میں رکھ کے لا دو اماں کی بات سن کر ویڻر نے زرا برا نہ مانا
آپ کیا کھانا پسند کریں گی؟
اس نے دوبارہ پوچھا …مگر اصل مسلہ ہی یہ تھا کے اماں کھائیں گی کیا..!!!
اماں نے میرا رڻایا ہوا جواب دیا
میں کھاؤں گی تو پر نام نہیں بتاؤں گی
اماں کا جواب سن کر ویڻر نے شکریہ کے ساتھ اپنی جھکی کمر سیدھی کی اور سیدھا ہی چلا گیا۔
پوری میز پہ تربوز وہ واحد ڈش تھی جس میں اماں کو مبآ لغہ نہ تھا میری بھوک..۔۔۔ میرے ارمانوں کے ساتھ فوت ہو چکی تھی۔
گھر آنے کے بعد اماں کئی دن تک اپنے بور میرے نامعقول تقریب کے بد ذوق اور مگلیا میرا مطلب ہے مغلیہ سلطنت کے زوال پذیر ہونے پرسیر حاصل تبصرہ کرتی رہیں اور اس تمام تر حادثے کے بعد میں نے بھی میرے انگنے میں بلیک ان وائٹ ادب کو رنگین ادب کے ڻانکے لگانے سے توبہ کرلی تھی

فیس بک تبصرے