حمد باری تعالیٰ

میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے ۔۔۔۔۔ :زارا مظہر

.

مرد حضرات نہاتے وقت اتنا شور کیوں کرتے ہیں ۔۔۔ آ ااااخ ، بااااخ ، شوووووں ، شاااااں ، اووا ۔۔۔۔ لااااا ۔۔۔ اور بھی مزید مشکل مشکل سی آ وازیں ۔۔۔ اور پھر گانا بھی ۔۔۔
اوووو ۔۔۔۔ آ ااا
ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے نہانا چاہیئے
گانا آ ئے یا نہ آ ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گانا چاہیئے
آ ج بھی حسبِ معلوم عقبی دیوار والے پڑوس کے رانا صاحب کی صبح ان ہی آ وازوں سے ہوئی تھی ۔۔۔ اور ہم گھبرا کے سوچ رہے تھے کہ مرد نہاتے وقت ۔۔۔۔
خیر یہ تو پانچ منٹ کا ذہنی تشدد ہے ہم سہہ لیتے ہیں اس اطمینان کے ساتھ کہ ہمارے صاحب بھی ادھار نہیں رکھتے ۔ وہی تشدد پڑوس کو ہاتھ کے ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے ۔۔۔
ہمارے ہاں عقبی خواب گاہ ہمارے پاس ہے اور پڑوس کے ہاں ان کی بہو کے پاس ۔۔۔۔ ہمارا گھر سورج کے رخ پہ ہے تو تینوں خواب گاہوں کی کھڑکیاں پچھلی طرف کھلتی ہیں ۔ سو انکی تینوں خواب گاہوں کی کھڑکیوں کا رخ ہمارے عقبی صحن کی طرف ہے ۔ ہماری سرگرمیوں کا مرکز ہماری خواب گاہ ہے تو انکا مرکز پچھلا صحن( بیک یارڈ ) ۔۔۔۔ یہ تفصیل ہماری اذیت کا نقشہ سمجھنے کے کام آ ئے گی ۔۔۔۔ ہم نے کوئی بھی تخلیقی و تحقیقی کام کرنا ہو تو ہمارا بیڈ ہماری سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے ۔
پڑوسی صاحب خانہ تو گا دھو کر آ فس نکل لیتے ہیں ۔
اب پڑوس کی عقبی خواب گاہ کی کھڑکی اور دروازہ کھل جاتا ہے ۔۔( ہمارے آ نگنے میں ) اور انکے ،، بلواسطہ ،، بچوں کی چوں چاں ، ریں ریں ، پیں پیں اور نئے منے یا منّی کی چیاؤں پیاؤں بھی جاگ جاتی ہے ۔۔۔۔ ساتھ ہی بہو بیگم کی عجیب سی گھونگھر دار ، لچھے دار بلکہ لہریے دار تیز آ واز ۔۔۔ ایسی بے مثال آ واز کہ تشبیہ کے لیئے کچھ سوجھتا ہی نہیں ۔۔۔ جیسے اکیلی آ واز نہ ہو بلکہ ایک ہجوم چل رہا ہو ۔۔۔ جیسے جیسے ۔۔۔۔ ہاں جسم کا ہر عضو باآواز بول رہا ہو ۔۔۔
اب اسی آ واز اور لڑاپ شڑاپ میں ایک عدد سالخوردہ یا بیہودہ واشنگ مشین کی آ واز شامل ہو جاتی ہے ۔۔۔ (صبح آ ٹھ بجے روزانہ ۔۔۔ جیسے کسی ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ ) یوں جیسے کسی چکی کو جبراً پیسا جا رہا ہو ۔۔۔ ایک ملازمہ کی آ واز اور سرائیکی آ میز ملا جلا تو تڑاخ کا لہجہ سماعتوں میں سمع خراشی کرنے لگتا ہے ۔۔۔ کونڈی میں کٹائی کا عمل بھی شروع ہوجاتا گویا للُو ریٹھے کوٹ رہا ہو ۔ پیاسے کووّں کی ٹولی کی کائیں کانوں کو برمے کی طرح چھید ڈالتی ہے جو کھلا پانی دیکھ کر جامن کے درخت پر آ بیٹھتی ہے ۔ اور ۔۔۔۔اور تب ہی قریب رہنے والی تین چار سالہ نواسی ،، زارا ،، بھی اماں کے کسی پیغام سمیت نانی مامی کو ملنے آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ماموں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی اٹھا پٹخ کرنے کے نتیجے میں مامی کی پرہجوم گونجیلی ڈانٹ پھٹکار ۔۔۔ اور بار بار زارا کی پکار ۔۔۔۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں نواز رہی ہیں ۔۔۔ ہم کئی بار لکھتے پڑھتے بے خیالی میں کانپ کانپ جاتے ہیں اور گھبرا کر باہر نکل جاتے ہیں کہ شاید ہماری گوشمالی ہو رہی ہے ۔ ۔۔۔ اسی گھبراہٹ میں اندر واپس آ تے ہیں دروازہ کس کس کے بند کرتے ہیں کہ کسی طرح یہ چنگھاڑ دیوار کی پرلی طرف ہی رک جائے ۔۔۔۔ ہم سہم کر محسوس کرتے ہیں یہ ساری کاروائی ہمارے ہی آ نگن میں ہو رہی ہو ۔ جی چاہتا ہے امیتابھ بچن کو تکلیف دیں اپنی پاٹ دار آ واز میں ذرا ان سے آ کے پوچھ دیں ۔۔۔۔
میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے ۔۔۔
اللہ جھوٹ نہ بلوائے کئی بار تو ہینڈ سیٹ گرا بیٹھے ہیں خوف سے جھٹکا کھا کر ۔۔۔۔ ایک بار رنگ برنگی نیل پالشیں پھیلائے جھیل کنارے سے اکٹھے کئے ہوئے سیپ اور گھونگے رنگ رہے تھے کہ بہو بیگم کی دھاڑ سے سب الٹ بیٹھے ۔۔۔ مہاگنی کی قیمتی سنگھار میز بھی خراب ہوئی جو کرنل صاحب کی بیگم جاتے ہوئے تحفہ کر گئی تھیں ۔۔۔ اور ابھی چند روز پہلے ایک جوتے اور پرس کی بیک وقت مرمت کے دوران گلو گن کا کھولتا ہوا گم ایک ناگہانی بڑک کے نتیجے میں ہاتھ کی پشت پہ گرا کر کھال تک ادھڑوا بیٹھے ۔۔۔۔۔ نواسی زارا ۔۔۔۔۔ ہمیں کچھ کچھ ،، گوارا ،، ہیں جب چیختے چلاتے اور روتے کرلاتے ماموں زادوں کو بھنبھوڑتی ہیں تو کچھ لمحے جب وہ اس دہشت گردی سے سہم جاتے ہیں تب ان ثانیوں میں ہم سکون کا سانس لیتے ہیں ۔۔۔
عقبی خواب گاہ کا دروازہ بار بار کھلتا بند ہوتا ہے ۔ کثرتِ استعمال سے گِھستے ہوئے قبضے چوں چوں کی آ واز دینے لگتے ہیں ۔۔۔ اتنا نہیں ہوتا کہ سرنج میں چند قطرے بھر کر دروازے کے قبضوں میں پچکاری مار دیں ۔
پتہ نہیں کیوں اتنے شور شرابا پسند ہیں کہ مرغیاں بھی پال رکھی ہیں نو دس کے قریب وہ باری باری انڈہ دے چکنے کا اعلان کرتی ہیں تو گیارہ بجے مرغے بانگیں دے کر انہیں شاباش دیتے ہیں ۔۔۔۔ اتنے میں رانا صاحب کا ایک بلواسطہ بچہ پیّاں پیّاں چلتا ہوا پانی میں جاگھستا ہے اور پھسل کر کہیں سے چھل چھلا جاتا ہے بہو بیگم کی واویلا اور سرزنش پرہجوم آ واز میں ہمیں سخت ناگوار گزرنے لگتی ہے ۔۔۔ ملازمہ کے قصے اور با آ وازِ بلند مزید سرف یا نیل کے تقاضے ، چیخ و پکار ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ تھوڑی دیر گزرتی ہے تو گود والا بچہ رینگتا ہوا اسی سریلی چکی میں آ گھستا ہے جسے ایک بادل نخواستہ چیخ سے بچے کی دادی جھپٹ لیتی ہے ہائے ابھی کرنٹ لگ جاتا ۔۔۔۔ مگر نئی مشین نہیں لیتے پتہ نہیں اس واشنگ مشین کی قسمت میں ابھی کتنے پھیر ہیں ۔ چند ہفتے پیشتر ایک بڑی بطخوں کا جوڑا بھی گھر میں آ گیا اور اسی واشنگ مشین کی گھمن گھیری اور بہتے پانی میں اپنے پنجوں سمیت بط بط کرتا پھرتا ہے ۔ تکلیف آ جکل یوں بھی شدت اختیار کر گئی ہے کہ پنکھے وغیرہ بند ہو گئے ہیں ۔۔۔ ہم گھر میں اکیلے ہی ہوتے ہیں ۔ ان کے صحن میں ہوا چلے یا پتہ بھی اڑے ، گرے ۔۔۔ آ واز ہمارے ہاں بعینہ پہنچتی ہے ۔ ایک ہمارے درخت ہیں اتنے سمجھ دار ۔۔۔ مجال ہے جو ادھر ایک پتہ بھی گرا دیں ۔۔۔ اور پرندے اتنے تمیز دار کہ انتہائی محبت سے دھیمے سُروں میں میٹھے گیت گاتے ہیں ، چہچہاتے ہیں ۔ جانے کیا بات ہے جونہی ہماری شاخ سے اڑ کر پڑوس کے درخت پہ بیٹھتا ہے ۔۔۔ وہی پرندہ انتہائی کرخت آ واز میں کانوں کو چھیدے ڈالتا ہے ۔ اور ہماری ملازمہ محترمہ سچ مچ اللہ میاں کی گائے ۔۔۔ ایک حرف بولے بغیر پورے گھر کا کام نمٹا کر چلی جاتی ہیں ۔۔۔ اتنے آ رام آ رام سے کام کرتی ہیں بقول منی بیگم ۔۔۔
شاخ ہلنے نا پائے نا کوئی کھٹکا ہو ۔۔۔
ہمارا دل چاہتا ہے اسے بلا قصور عقبی صحن میں جا کر زور زور سے ڈانٹنے لگیں ۔۔۔ جوابی وہ بھی اونچا اونچا لڑنے لگے اور کچھ چیخ و پکار کا تحفہ ہماری جانب سے بھی پڑوس کی دیوار پھلانگ کر بلا اجازت انکے کانوں میں جاگھسے ۔۔۔ پرتھوی میزائل کی طرح اور ایک دھماکے سے سب پھٹ جائے ۔۔۔
اسی دوران کبھی ہم سوچتے ہیں وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کچھ مرغیاں مرغے پچھلے صحن میں ہم بھی پال لیں ۔۔۔ یا کم سے کم ایک گائے بھینس ہی رکھ لیں دودھ گھی گھر کا ۔ بدبو اور کڑکڑانے ، ڈکرانے کی اذیت پڑوسیوں کو ۔۔۔ مگر ہمارے صاحب ہمارا درد ہی نہیں سمجھتے جو ہمارا ساتھ دیں ۔۔ بلا مبالغہ چکی کی یہ مشقت شام چار بجے تک چلتی ہے ۔ ہمیں لگتا ہے پورا دن مشین چلتی ہے تو ہزاروں کے یونٹ کھاتی ہوگی ۔۔ ہم نے ایک روز اپنی آ نکھیں پھیلاتے ہوئے اپنےخدشے کا اظہار صاحب سے کیا ۔۔۔ انہوں نے ڈانٹ دیا کہ آ پ کو کیا ۔۔۔ پڑوس کے حساب کتاب بھی آ پ رکھیں گی ۔۔۔۔ اپنے گوالے کا حساب تو کبھی ہوتا نہیں آ پ سے ۔۔۔ ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔۔۔
کبھی شک سا ہوتا ہے پورے محلے کے کپڑے اسی دھوبی گھاٹ پر دھلتے ہیں ۔۔۔
رات کو باپ بیٹا فارغ ہو کے پتہ نہیں کیا کیا مرمت کیا کرتے ہیں ۔۔۔ کبھی گیزر کھلا ہوتا ہے کبھی اے ۔ سی ۔۔۔۔۔ کبھی موٹر بائیک ۔۔۔ بس ہر وقت ٹھئیں ٹھپ چلتی رہتی ہے ۔۔۔
ہم نے کھڑکیوں کی درزوں میں پیکنگ فوم کی کترنیں ٹھونسیں ۔۔دروازوں کے نیچے foot pads لگا دیے ۔۔۔۔ پردوں کو ڈبل کر دیا ۔۔۔۔ مگر کوئی افاقہ نہیں ہوتا ۔۔۔ بٹیا کے سینڈ اپ ہو رہے ہیں سارا دن بیڈ روم میں گھسی تیاری کیا کرتی ہیں اور ڈسٹرب ہوتی رہتی ہیں ۔۔ عاجز آ کر کانوں میں روئی دے کر پڑھنے لگی ہیں ۔۔۔۔
ہم اکثر سوچتے ہیں ان کے کاموں میں اتنی برکت کیوں ہے ۔۔۔ ہمارے ہاں مشین لگتی ہے تو گھنٹہ ڈیڑھ میں گھر بھر کے کپڑے دھل جاتے ہیں ۔۔۔ ہم ابھی سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں کتنا کام باقی رہتا ہے ہیلپر بلا آ واز دھو دھلا کے فارغ ہو جاتی ہے ۔۔
ڈانٹ کھانے کے باوجود ایک روز ہم نے پوچھا رانا صاحب کی جاب کتنی رہ گئی ہے ؟
صاحب نے ابرو اچکائے ۔۔۔۔ کیوں ؟
بھئی یہ کب جائیں گے ؟
آ پ کو کیا تکلیف ہے ؟
نہیں ہمیں تو کوئی تکلیف نہیں ہے ۔۔۔ ہمیں صاحب کی کم فہمی پہ سخت غصہ آ یا ۔۔۔۔
بس ہم یونہی جاننا چاہتے ہیں ۔۔ الوداعی دعوت کھلانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ ہم بڑبڑائے ۔۔۔
بیچارے پوتوں نواسوں والے ہیں پتہ نہیں کب تک جاب کرتے رہیں گے ۔۔۔ انہیں اب آ رام کرنا چاہیئے نئیں ؟؟؟
اور صاحب بھنا کے غصہ کھا گئے ۔۔۔ لو بھلا کوئی بات ہے ۔۔۔ ہمیں افسوس سا ہوا ۔۔
ہمارے آ فس میں نہیں ہوتے لہٰذہ ہمیں معلوم نہیں ہے ۔۔۔
آ ج مغرب پڑھ کر آ ئے تو کہنے لگے رانا صاحب کسی سے تذکرہ کر رہے تھے دو سال بعد ریٹائر ہو جائیں گے ۔۔۔ آپ کو بڑا تجسس تھا سو اطلاع کے لیئے عرض ہے ۔۔
ہیں ۔۔۔۔ یعنی 730 دن مزید یہ سب سہنا پڑے گا ۔۔۔۔ ؟
آ پ بتائیے کیا کریں دوستو ۔۔۔ ہم ہی نہ کہیں اور کوچ کر جائیں ۔۔ ؟؟؟

فیس بک تبصرے