حمد باری تعالیٰ

ماں سے معاشرہ:عائشہ یاسین

۔

گھر کے امور سے فراغت کے بعد جب ٹی وی پر نظر پڑی تو اک چار بچے کی ماں کے قتل کی خبر نے دل و دماغ کو سن کر ڈالا۔۔۔۔آج پھر گھریلو ناچاکی نے اک صنف نازک کی جاں لے لی۔۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں سکی۔۔۔۔کہ کیا سوچوں ۔۔کیا میں اس کو روزانہ کی خبر سمجھ کر گردن جھٹک دوں یا عورت پر اس کے طراری کا الزام دھر کر مرد کی طاقت اور زورآوری کو سلام پیش کروں۔۔۔۔لیکن نہیں ۔۔۔اس بار یہ کرنا ممکن نہیں رہا ۔۔۔۔روز ایسی خبریں سن سن اور دیکھ دیکھ کر روح جیسے چھلنی ہوئی جارہی ہے ۔۔۔۔کبھی کبھی سانس رک سی جاتی ہے ۔۔۔گھٹن اور تمازت کا احساس ۔۔۔ شدت پکڑ لیتا ہے ۔۔۔۔۔روز بروز ان واقعات میں کمی کے بجائے صرف اضافہ ہی ہوا جارہا
ہے۔۔۔۔۔

جب ہم ملک و قوم کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو مردوں کو سر فہرست رکھتے ہیں اور عورت کی پوزیشن ہمیشہ سے ثانوی ہی رکھی جاتی ہے چاہے ملک کی باگ ڈور ہو۔۔۔سیاسی و ریاستی امور یا گھر میں جھاڑ پوچھ کا معاملہ ۔۔۔۔عورت کو ناقص العقل اور صنف نازک ہی تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔اس کے کمزور اور ناتواں ہونے کے دلائل دئے جاتے ہیں کبھی بایولوجیکل ٹرمز میں تو کبھی مذہبی دلائل سے ۔۔۔۔تو ہم مان لیتے ہیں کہ عورت ہے صنف نازک ۔۔۔۔کمزور ۔۔اور ناتواں تو پھر اس پر اپنی طاقت اور زورآوری استعمال کرنے کی ایسی کیا ضرورت پیش آتی ہے؟کیا اس کا جرم اس قدر سنگین ہوتا ہے کہ مرد اپنی خود کی عدالت میں خود ہی وکیل اور منصف بن کر عورت کو مورد الزام ٹھہراکر قتل کا پروانہ جاری کر دیتا ہے اور جلاد کے فرائض بھی خود انجام دیتا ہے۔۔۔۔عورت کو نہ اپنی صفائ میں وکیل کی اجازت دی جاتی ہے نہ کسی گواہ کی ۔!
اگر عورت ناقص العقل ہے تو اس وقت مرد کی عقل کہاں غائب ہو جاتی ہے جب وہ کبھی بیوی ۔۔۔بہن یا بیٹی بہو پر بے دردی سے تشدد کرتا یے۔۔۔جسے وہ دنیا کی نازک ترین شے مانتا ہے ۔۔غصے کی حالت میں اس کو کسی پہلوان کی مانند لاتوں گونسوں اور تھپڑوں سے کسی اکھاڑے میں اپنے سارے داو پیچ آزماتا ہے۔۔۔بھلا کیوں۔۔۔کیوں وہ اس جیتی جاگتی عورت کو کسی بے حس اور بے جاں سمجھتا ہے۔۔۔کیوں اس کو اس کے رونے اور درد سے چلانے کی آواز نہیں آتی؟ کیوں وہ خود کو مرد ہونے کے احساس کو معتبر جانتا ہے؟۔۔۔۔کس نے اس کو حق دیا کہ وہ اپنے زور بازو کی ساری طاقت اور داو عورت پر آزماے؟اس سے انسان کیا کسی جانور سے بھی بدتر سلوک روا رکھے؟۔۔۔۔جب کہ نا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہمارا قانون۔۔۔
تو پھر وہ کون سا plugin ہے جو اس کو عورت پر ظلم و زیادتی کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ۔۔؟
اس کا بڑا آسان سا جواب ہے۔۔۔۔ہمارا معاشرہ ۔۔۔۔پر کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ معاشرہ کون بناتا ہے؟معاشرہ اک ماں بناتی ہے۔۔۔ہم بچپن سے سنتے اے ہیں کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔۔۔پر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد کی پہلی درسگاہ ماں ہوتی ہے۔۔۔اس کے لاشعور میں اک عورت ہی اس کے مرد ہونے کا بیج بوتی ہے اور اس لے رگوں میں بربریت اور برتری شامل کر تی ہے۔۔اس کی پرورش ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں آنسو بہانا عورت کے مقدر میں لکھ جاتی ہے اور مرد کو صرف اور صرف غیض و غضب اور انا کی مورت بنا کر رکھا جاتا ہے ۔
معاشرہ ہم عورتیں بناتی ہیں اور ہم ماوں کی وجہ سے آج تک عورت اس مقام اور عہدے کو حاصل نہ کر سکی جو مذہب آ ور قانون نے دیا۔۔۔ہم مائیں بیٹے اور بیٹی میں خود تفریق کرتی ہیں۔۔۔۔بیٹے کی تربیت کا انداز بیٹی کی تربیت سے یکسر مختلف ہوتا ہے ۔۔۔مرد کی پیدائش سے ہی اس کو حاکمیت کی ڈور اس کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔۔اس میں کوئی شک نہیں ک ہم عورتیں دوسری عورت کی تذلیل کا بیج مرد کے لاشعور میں خود بوتی ہیں۔۔۔۔وہ صرف ماں کے حقوق کی تو بات کرتی ہیں پر بہن کے روپ میں موجود عورت کی تعطیم کا درس نہیں دیتی۔۔۔وہ یہ تو باور کرواتی ہیں کہ بہن کی حفاظت کرنا اور ہر ضرورت پوری کرنا پر یہ نہیں سکھاتی کی اس کی طاقت بننا ۔۔۔۔بچپن سے ہی اس کو ہر گناہ کرنے کا پرمٹ دے دیا جاتا ہے اور اخلاقیات کے سارے فرائض عورت کے جھولی میں ڈال دیےجاتےہے۔۔۔۔۔
کبھی ہم نے غور کیا کہ مرد عورت کے معاملے میں اس قدر بے خوف و خطر کیوں ہوجاتا ہے؟۔۔۔یہ اعتماد اک عورت میں کیوں نظر نہیں آتی ۔۔۔صرف اس لیے کہ ماوں نے اپنی بیٹیوں کو یہ اعتماد دیا ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔بلکہ ہمیشہ اس کی ہر خصوصیت پر پردہ ڈالا ہوتا ہے جبکہ بیٹے کی ہر برائی پر۔۔۔۔
اس کا نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے اک ایسا معاشرہ پروان چڑھتا ہے جہاں جہالت ۔۔درندگی اور نفسا نفسی کی فضاء ہوتی ہے ۔۔۔۔
دوسری جانب اسلام اک مکمل اور جامعہ مذہب ہے جہاں ہر کسی کے حقوق واضع طور پر بتا دئے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارا مذہب کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔۔۔مرد کو برتری ضرور حاصل ہے پر دونوں کے حقوق مقرر ہیں ۔۔۔۔۔مرد کو کہیں کسی گناہ کی آزادی نہیں دی گئی بلکہ حاکم ہونے کے ناطے ذمہ داری اور طاقت کے استعمال کی باز پرس کا بتایا گیا ہے ۔قرآن میں مرد و عورت کے اجر و ثواب کو برابر بیان کیا گیا ہے ۔۔۔جب بھی اجر و سزا کی بات ہوئی تو دونوں کو اک ساتھ مخاطب کیا گیا ۔۔۔پردہ کرنے والے پردہ کرنے والیاں۔۔۔نیکی کرنے والے نیکی کرنے والیاں۔۔۔گناہ کرنے والے ۔۔۔گناہ کرنے والیاں۔۔۔۔۔جب اللہ مرد عورت کے اجر و سزا میں تفریق نہیں کر رہا تو ہم کون ہوتے ہیں اس قانون خداوندی کو رد کرنے والے یا بدلنے والے ۔۔۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کے دیے ہوے حقوق کو دل سے تسلیم کریں ۔۔۔۔۔انسانی حقوق کو لازم کریں ۔۔۔۔اپنی اولاد کو صحیح اور حق کی جانب گامزن کریں۔۔۔۔اپنے بیٹوں کو جہنم کا ایندھن بننے بچائیں ۔۔۔۔نا صرف اپنی ماں بلکہ عورت کی شکل میں موجود ہر رشتے کی عزت کرنا اور حفاظت کرنا سکھائیں ۔۔۔۔۔ان کو یہ باور کرائیں کہ گناہ گناہ ہے اور ظلم ظلم اور زیادتی کا حساب ہونا ہے۔۔۔ کیوں کہ اک ماں اک فرد کی نہیں بلکہ اک نسل کی پرورش کرتی ہے۔۔اک عورت ہی اک معاشرہ کی طاقت ہے ۔یہ عورت ہی ہے جس کی تربیت مرد کو اعلی منصب پر فائز کرتی ہے ۔

اب یہ مرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ عورت کو نا عقل سمجھتا ہے تو خود عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو حاکم ثابت کرے۔۔۔۔کمزور اور ناتواں عورت کو بولنے کے اجازت دے۔۔اپنے فہم و فراست کو بروئے کار لائے۔۔۔۔اس کو وہ عزت دے جس کےلیے اس کو بنا یا گیا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے تقدس کو قائم رکھے اور اپنے اندر برداشت پیدا کرے ۔۔۔۔عورت کو اس مقام پر رکھے جہاں مذہب اور قانون نے رکھا ہے ۔۔۔اس کو مساوی حقوق دے اور عورت کے وجود اور اہمیت کو قبول کرے ۔۔۔۔اور قرآن و سنت کی روشنی میں صلہ رحمی اور شفقت کرے۔۔

۔۔پھر یہی معاشرہ ہوگا جہاں کسی صنف نازک کو اس کا شوہراور دیور مل کر نہ مارے گا۔۔۔نہ کوئی بھائی جائداد کی لالچ میں کسی بہن کو قتل کرے گا۔۔۔۔ نہ کوئی باپ اپنی بیٹی کو زہر دے گا۔۔۔ حضرت عمر رض اور خالد بن ولید جیسے بیٹوں سے معاشرہ تشکیل پاےگا۔۔اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو ۔۔۔

فیس بک تبصرے