حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

لپ سٹک :مکرم حبیب سرویا

.
سولہ سنگھار ، زیبائش صنف نازک کا بنیادی حق ہے، اور اسکا خیال قدرت نے بھی رکھا ہے۔ خواتین کی آرائش کے لیے سمندورں سے موتی اور مونگا نکالا تاکہ وہ سج سنور سکیں۔ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے ۔ گو اللہ کی بنائ ہر چیز مکمل ہے لیکن انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو برتتے ہوئے اس کے لیے کچھ نہ کچھ نیا تلاش کرتا رہتا ہے تاکہ مزید سجا بناجاسکے۔

دنیا بھر میں خواتین کے بناؤسنگھار کے لیے مختلف اشیاء استعمال ہوتی ہیں لیکن ایک شے ایسی ہے جو سب میں یکساں مقبول ہے اور وہ ہےلپ اسٹک۔
مصری اخبار الاہرام کے مطابق لپ اسٹک کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔
دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے سے اس نے جنم لیا تھا۔حمیری اور سمیری ادوار میں لبوں کو رنگنے کے لیے قیمتی پتھروں اور موتیوں کو پیس کر ان سے رنگ بنائے جاتے تھے۔ جن سے بعض اوقات ہونٹ زخمی بھی ہو جاتے تھے۔
سمیری مرد اور، عورتیں ان رنگوں کو، استعمال کر کے آنکھوں کے گرد، دائرے بنایا، کرتے تھے۔فراعین مصر کی ملکہ نفراتیتی بھی اپنے لبوں پر لپ اسٹک لگاتی تھی ۔قلوپطرہ اپنے لبوں کے لیے لال لپ اسٹک تیار کراتی تھی۔جو سمندری جڑی بوٹیوں، حشرات الارض، موم اور carabine سے تیار کرائ جاتی تھی۔ ان سرخیوں کو چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں محفوظ رکھا جاتا تھا۔ انکا یہ عقیدہ تھا کہ لال رنگ لگانے سے شیطانی قوتیں ان سے دور رہتی ہیں۔کھبی کھبی وہ کالے رنگ کی لپ اسٹک بھی استعمال کرتی تھی۔یونان میں بھی لپ اسٹک استعمال ہوتی تھی وہاں پر یہ قانون تھا، کہ طوائفیں اپنے لبوں کو، لپ اسٹک سے رنگیں تاکہ انکی پہچان ہو سکے۔
وہاں کی خواتین لپ اسٹک بنانے کے لیے mulberrie,tyrian اورpurple استعمال کرتی تھیں جن سے گہرے جامنی رنگ کی رنگدار تہہ ہونٹوں پر لگانے کے لئے تیار ہوتی تھی۔ ایک ہزار عیسوی کے آغاز میں اندلس کے سائنسدان ابو القاسم الزہراوی نے پہلی ٹھوس لپ اسٹک تیار کی۔
میکسیکو میں کیکٹس کے پودوں پر”کوکونیل”نامی کیڑے پلتے ہیں جنکو خشک کر کے ان سے قرمزی رنگ تیار کیا، جاتا ہے جو لپ اسٹک بنانے میں آج بھی استعمال ہوتا ہے۔لپ اسٹک کو اسکے ابتدائ دور میں شک وشبہ کہ نِظرسے دیکھا گیا۔ کیونکہ عموماََ اسکا استعمال تھیٹر کی اداکارائیں، رقاصائیں اور طوایفیں کرتی تھیں۔
کیتھولک چرچ کی طرف سے اسکے لیے شدید ناپسندیدگی ظاہر کی گئ، اور، اسے شیطان کا کام قرار دیاگیا۔
کلیسا نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ایک قانون نافذ کیا کہ اگر کوئ دلہن اپنی شادی سے قبل میک اپ استعمال کرے گی اسکی شادی فسخ کر دی جاے گی۔اوراس قانون کا اجراء 1770میں کیا گیا۔برطانوی ملکہ الزبتھ اول لپ اسٹک استعمال کرتی تھی جو کہ مختلف مرکبات سے تیار ہوتی تھی بعض اوقات یہ زہریلی بھی ہو جاتی تھی۔ملکہ روزمرہ اس کو، استعمال کرتی زیریلے مادوں کی بناء پر، اسکی موت واقع ہو گئ۔موت کے وقت، اسکے لبوں پر لپ اسٹک کی دبیز تہہ جمی ہوی تھی۔ تب اسے موت کا بوسہ قرار دیا گیا۔
سولہویں صدی میں برطانوی طبقہ اشرافیہ سرخ اور سفید رنگ سے اپنے چہرے کو رنگ کرتے تھے تاکہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئیں۔
برصغیر پاک وہند میں بھی پان کے پتوں۔دنداسہ۔مسی اور کچے اخروٹوں سے مسوڑھوں اور لبوں کو رنگنے کا رواج تھا اور ابھی بھی ہے ۔
آریائ اپنے لبوں کو رنگنے کے لیے گیرو ochre استعمال کرتے تھے۔
لپ اسٹک کی موجودہ شکل 1883ء میں پہلی بار ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں متعارف کرائ گئی۔1884ء میں اسے پیرس میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
1893ء میں مشہور امریکی سٹور sears نے اپنی فیشن کیٹلاگ میں اسے شائع کیا۔
انیسویں صدی میں فرانسیسی اداکارہ سارہ بئیر نارٹ نے ایمسٹرڈیم میں اسکی تجارتی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور اسے”محبت کا قلم “قرار دیا۔
عوامی سطح پر لپ اسٹک کو گذشتہ صدی کی خاموش فلموں سے حاصل ہوئ۔
1912ء میں یہ امریکی خواتین میں مقبول ہوئ اور اسکے دس سال بعد یورپ کے عوام میں اسکا استعمال شروع ہوا۔
لپ اسٹک کو عالمی شہرت انیسویں صدی کے فیشن کے گڑھ لندن سے حاصل ہوی۔ ابتداء میں ملکہ برطانیہ اور طبقہ اشرافیہ اسے استعمال کرتا تھا ۔جب یہ کمرشل ہوئ تو عام عوام بھی اسے استعمال کرنے لگی اور آج پوری دنیا میں یہ برتی جانے لگی ہے ۔
موجودہ دور میں لپ اسٹک کی تیاری میں موم، رنگ، خوشبو اور مختلف قسم کے تیل استعمال کیے جاتے ہیں۔چمکدار سرخی بنانے کے لیے مچھلی کے ڈھانچے سے نکالا گیا تیل استعمال کیا جاتاہے۔ آج سستی اور مہنگی دونوں طرح کی لپ اسٹک بازاروں میں دستیاب ہے۔
لپ اسٹک کی ایک سو اکتسویں سالگرہ پر اس میں تیز شوخ رنگ متعارف کرانے گئے جن میں لال رنگ سر فہرست ہے۔میک اپ میں جو شہرت ودوام لپ اسٹک کوحاصل ہے کسی دوسری چیز کو نہیں۔
1976میں ہالی ووڈ میں “لپ اسٹک “نامی فلم بنائی گئ۔
2017میں بالی ووڈ میں “لپ اسٹک انڈر مائ برقع نامی” فلم بنی۔
آج کے دور میں لپ اسٹک کے بغیر میک اپ نامکمل ہے۔ مشاطہ نفاست سے اسے لبوں پر جماتی ہے۔جس سے چہرہ کھل اٹھتا ہے۔ عورت کتنی بھی اداس اور غمگین کیوں نہ ہو صرف ایک لپ اسٹک سے اسکا چہرہ ترو تازہ لگنے لگتا ہے۔
ایک سرخی سب دکھ دور کردیتی ہے ۔
ہر سال انتیس جولائ کو لپ اسٹک کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔جبکہ عالمی سطح پر سال کے تین سو پینسٹھ دن ہی لپ اسٹک کا دن ہوتا ہے۔ کیونکہ عورتوں کی زندگی سرخیوں میں دمکتی ہے

فیس بک تبصرے