حمد باری تعالیٰ

عمران کے نام ایک کھلا خط : ظفر اقبال مغل

ڈئیر عمران خان !
آپکی سوچ اور تبدیلی کو ووٹ کیا تھا ۔ آپکے وعدے اور آپ پہ اعتماد کا اظہار کیا تھا ۔
ملک پہ چھاۓ مایوسی کے بادل روپے کی قدر میں گراوٹ اور اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی کسی واضح پالیسی کا اناؤنس نہ ھونا یقینا” آپکا اور آپکی ٹیم کا فیلئیر ھے ۔
آپ سے درخواست ھے ۔ کہ ھم مایوس و نامراد اندھیرے میں آپکو کو روشنی کی کرن سمجھ کے آپکے پیچھے دیوانہ وار بھاگے ۔ مگر آپ بھی ریگستان کا سراب ھی نکلے ۔
آئیندہ دنوں میں اپوذیشن کے اتحاد کے باعث ملک میں وھی کھیل دوبارہ شروع ھونے والا جو پچھلی حکومتوں کو گرانے کے لئے آپ کھیلتے آۓ ھیں ۔
آپ نے بھی مفاھمت کے نام پہ چوروں اور رسہ گیروں کی ٹیم کو اقتدار کی بانسری پکڑا دی تھی ۔ تو اس میں سے مدھر سر کیسے نکلنے تھے ۔
ملک میں بےچینی اور مہنگائی کا اک طوفان کھڑا ھے ۔
ھم جیسے جاھل عوام کو ٹھیک کرنا آپکے بس کی بات نظر نہی آتی اور نہ ھی آپکی ٹیم کا کوئی وژن سامنے آیا ھے ۔
آپکی ایمانداری اور حب الوطنی پہ کوئی شبہ نہی ھے ۔ مگر بےایمان عوام پہ ایماندار حکمران کا فارمولا بھی فیل ھو چکا ۔
ملک چلانا آپکے اور آپکی ٹیم کے بس سے باھر نظرآرھاھے ۔
آپ سے استدعا ھے کہ ملک کے بہترین دماغوں (خواہ انکا تعلق کسی بھی پارٹی سے ھو/سرکار کے کسی بھی محکمے سے ھو )پہ مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے کے ان سے ملک کے لئے کوئی پالیسی بنوا کے عوام کو تھوڑا ریلیف دلوایں ۔
آپ سے بہت امیدیں وابستہ تھیں ۔
نامساعد حالات میں بھی تھوڑی سی تبدیلی تو نظر آنی چاھئیے تھی۔
ثاقب نثار اپنا گندا کھیل کھیل کے اپنے آقانواز شریف کو ریلیف دے گیا ۔ اور زرداری سندھ کارڈ پہ بلیک میل کر گیا ۔
سرکاری مشینری خوف وھراس کا شکار ھو کے کام بند کئیے بیٹھی ھے ۔ بزنس مین انجانے خوف کا شکار اور بینکنگ سیکٹر تباھی کے دھانے پہ کھڑا ھے ۔
پلاسٹک منی کو بڑھاوا دینے کے لئے کیش نکالنے پہ لگایا ھوا ودھولڈنگ ٹیکس اب ایک ظالم ٹیکس کی شکل میں بزنس مین کا سرمایہ حکومت کی جھولی میں ڈالنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ھے ۔
جس کی بنا پہ لوگ اپنا سرمایہ باھر کے ملک ٹرانسفر کروا چکے ھیں یا رئیل اسٹیٹ میں لگا کے زمین کی قیمتوں کو ھوشربا مقام تک پہنچا چکے ھیں ۔
غریب آدمی کے لئے اپنے گھر کا قیام اور ایک چھوٹی سی دوکان خواب بن کے رھ گیا ھے ۔
خدا کے لئے ھم عوام کا کچھ تو سوچیں ۔ آپ کے بعد بھی اندھیرا ھی نظر آتاھے ۔
اس لئے استدعا ھے کہ اقتدار اور پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں کے کھیل تماشوں سے فرصت نکال کے ھنگامی بنیادوں پہ کسی ٹھوس پالیسی کو مرتب کروایں ۔ اور ملک کو ترقی کی راہ پہ ڈالیں ۔
یقین جانئیے ۔ آپ یہ کر سکتے ھیں ۔ مگر آپکے گرد گھیرا کئے ھوۓ افراد آپکو آپکے وژن سے دور لے جا چکے ھیں ۔
ھماری امیدوں کے بجھتے ھوۓ کسی ایک چراغ پہ ھاتھ کا سائیبان مہیا کرکے اسکی روشنی میں ھمیں ھمارے اندر اپنا زندہ ھونے کا احساس زندہ رھنے دیں ۔
بہت شکریہ

خیراندیش
ظفراقبال مغل
ایڈووکیٹ ھائیکورٹ
گوجرانوالہ

فیس بک تبصرے