حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں:زارا مظہر

۔

کچھ عرصہ قبل ایک تحریر لکھی تھی پاکستانی ڈرامہ کے بد تمیز ، بد تہذیب اسکرپٹ پر ۔ مختلف طبقہ ہائے فکر کے اسکالرز ، لیجنڈز ، اور ہر عمر کے عام دوستوں نے کمنٹس دئیے اور تحریر کو بہت سراہا گیا ۔ ایک بھی مخالف کمنٹ نہیں آ یا ۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر کوئی زمانے کی اس کج روی سے بری طرح ڈسٹرب اور متاثر ہے ۔ کچھ حل سوچنے اور اسے لکھنے کی تگ و دو میں تھی کہ اس دوران ایک اس سے بڑے معاشرتی بگاڑ کی تکلیف دہ حقیقت آ شکار ہوئی شاید آ پ اس سے متفق ہوں ۔
ٹی وی ڈراموں میں ایک اور بے ہودہ چیز جو انتہائی تواتر سے دکھائی جا رہی ہے وہ ہے بڑی عمر کے مرد و زن کا عشق ۔ خوبصورت گھر میں رہنے والی جوان بچوں کی ماں کس نا آ سودگی کا شکار دکھائی جا رہی ہے ۔ اور جوان ہوتی بچیوں بچوں کے ویل سیٹلڈ باپ بھی کھلم کھلا عشق فرما رہے ہیں ۔ ایک ڈیڑھ دہائی قبل جب ڈرامہ بنانے کا اختیار صرف پی ٹی وی کے پاس تھا تو ڈرامہ صرف پرائم ٹائم میں ہی دکھایا جاتا تھا ۔ اور پانچوں سینٹر ہفتے میں ایک دن ایک ڈرامہ دکھانے کے پابند تھے ۔ گھر کے سربراہ نے نو بجے خبر نامہ ضرور دیکھنا ہوتا تھا اور زیادہ سے زیادہ دس بجے آ ف کر دیا جاتا ۔ اگر اتفاقاً کبھی لگا رہ گیا تو گیارہ
بجے قومی ترانہ بجا اور اسکرین چِھس چِھس کی آ واز کے علاوہ کچھ ساؤنڈ نا کرتی ۔ زندگی ایک روٹین اور لگے بندھے اصول کے تحت چلتی تھی ۔ آ ٹھ بجے کاروبارِ زندگی ترک کر دیا جاتا سٹرکیں ، گلیاں سنسان ہو جاتیں ۔ رات کا کھانا آ ٹھ نو کے درمیان کھا لیا جاتا ۔ پوری فیملی اکٹھے بیٹھ کر ڈرامہ دیکھتی جس میں بہرحال معاشرتی اقدار کا خیال رکھا جاتا اور ذیادہ تر اسکرپٹ کسی بڑے معاشرتی ناسور پر لکھے جاتے تھے ۔ ہیرو ہیروئین کے درمیان تک ڈائلاگز شرمائے لجائے اور تہذیب میں ہوتے ۔ ڈرا مائی تشکیل کے دوران ایک ایک ڈائلاگ کسوٹی پر پرکھا جاتا اور دوسرے سینٹرز کے پروڈیوسرز ، رائیٹرز اور متعلقہ عملے کو بھی انوالو کیا جاتا ۔ کبھی کبھار ڈرامائی ڈیمانڈ کے مطابق اگر ایک ڈائلاگ ہی بے باک ہوتا تو صبح کے اخبارات کی سرخی اختیار کر لیتا اور بہت لے دے مچتی ۔ جنرل ضیاءالحق اور اسّی کی دہائی کے خوبصورت ڈرامے جس میں اسکرین پر نمودار ہونے والی ہر خاتون کو سر پہ ڈوپٹا اوڑھنے کی لازمی شرط تھی بہت سے ہٹ ڈرامے بنے اور متعدد دفعہ ری ٹیلی کاسٹ ہوئے ۔ ؛ آ نچ ؛ ڈرامہ اور اسکی شرمائی شرمائی ہیروئین شگفتہ اعجاز کو کون بھول سکتا ہے ۔ اسکا پہلا ڈرامہ تھا اور وہ بھی سر ڈھانپ کے یہی صورتحال تھی؛ عروسہ ؛ سیریل میں ہروئین کا پہلا ڈرامہ اور سر ڈھانپ کر مگر ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ڈرامے نے ۔ اداکاروں کو عام عوام کے درمیان ایک خصوصیت حاصل تھی ۔ کسی مخصوص کردار کو لیکر کہانی لکھی اور فلمائی جاتی تھی ۔ زیادہ سے ذیادہ دس بجے پورا گھرانہ لائیٹیں آ ف کر کے سو جاتا ۔ بہت لکھنے پڑھنے والے بچے جو آ ج بڑے بڑے اسکالرز ہیں انہیں بھی گھر کے بزرگ رات گئے جاگنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ عام گھرانے صبح نماز کے وقت ترو تازہ جاگتے اور زیادہ پڑھاکو بچے اس وقت اپنا آ موختہ بھی دھرا لیتے ۔
مگر اب تو ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے ۔ ہر عمر کا انسان اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہے ۔ سونے جاگنے اور کام کاج کے اوقات ہی مقرر نہیں ہیں ۔ پڑھنے والے بچے بھی دن کو سوتے اور رات کو پڑھتے ہیں ۔ ساری رات بتیاں جلتی ہیں اور لمبے لمبے بل اور لوڈشیڈنگ کے رونے انڈسٹریز کے بند ہونے کے رولے ۔ سب ساتھ چل رہے ہیں مگر کوئی بھی خود کو ہیرو ہیروئین سے کسی طور کم سمجھنے پر راضی ہی نہیں ہوتا ۔ ہر دوسرا تیسرا اسکرپٹ مرد و زن کے عشق کی داستان اور اور وقت سے پہلے میچور ہونے والے ٹین ایج بچے جو گھر میں ماں یا باپ کے کارنامے دیکھ کر بدتمیز ہوئے جا رہے ہیں ۔
آ جکل ہزاروں کے حساب سے چینلز کام کر رہے ہیں اور معیار کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے ۔ ہر کوئی خود مختار اور آ زاد ہے کچھ بھی بلا تکلف پیش کر دیا جاتا ہے ۔ کچھ نا کچھ ناظر بھی میّسر آ جاتے ہیں ۔ بالکل اس طرح جس طرح ہم اپنی ایف بی وال کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے دوستوں تک اپنی بات پہنچا ہی دیتے ہیں ۔ چاہے بات میں دم ہو یا نہیں ۔
ہمارے ڈرامہ رائیٹرز کو احساس تک نہیں کہ وہ ایسے اسکرپٹ کے ذریعے سے کون سا زہر معاشرے کی رگوں میں اتارنے میں مصروف ہیں ۔
ٹی وی ایک ایسا میڈیم ہے جو ہر گھر کی لازمی ضرورت ہے ثانوی ہی سہی مگر موجودگی ضروری ہے ۔ گھر میں کوئی موجود ہو یا نہیں اُسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ بھلے آ پ مستقل ناظر نا ہوں مگر چلتے پھرتے لاؤنج کی مین وال پر 42 انچ کی بڑی اسکرین پر کوئی نا کوئی سین یا ڈائلاگ ایک منٹ کو آ پ کے قدم روک لیتا ہے ۔ اور وہ چیز دماغ پر چپک جاتی ہے ۔ گھر میں اگر سربراہ کے ساتھ والدین بھی رہتے ہوں تو ذہنی کوفت کے ساتھ ساتھ محاذ آ رائی کی کیفیت بھی رہتی ہے کہ ہمارے بزرگوں کا دبدبہ ہمارے اوپر ابھی بھی ویسا ہے جیسا دس پندرہ سال پہلے تھا ۔
کیا آ پ متفق ہیں ؟؟؟؟

فیس بک تبصرے

زارا مظہر

تبصرہ شدہ

تبصرے کے لیے دبائیں

  • اب تو ہمارے ڈرامے دیکھتے ہوئے بھی ریموٹ ہاتھ میں رکھنا پرتا ہے۔ نہ جانے کب کیا آجائے۔