حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

کیا ہم ایک ہیں :دعا عظیمی

.
ایسا نہی تھا کہ بھرے شہر میں میری فریکوینسی کسی سے نہی ملتی تھی ،بس شہر پر آشوب سے گھٹن ہوتی تھی اور فطرت اور خاموشی مجھے مجھ پہ روشن کرتی تھی کبھی کبھار خود سے ملاقات بھی ضروری ہوتی ہے۔
جنگلی خود رو جھاڑیوں سے بچتا پھولوں کو دیکھتا ماحول میں ہوا کی سرسراہٹ کو سنتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، اچانک آہٹ نے مجھے چونکا دیا، یہاں کوئ ہے، میں نے آواز کی سمت دیکھا مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک بیضوی شکل کا تالاب تھا ،شفاف رنگ بدلتا پانی کبھی ہلکا نیلا کبھی گہرا سبز چیری بلاسم کے کھلتے پھولوں کی چھاوں میں، جامنی مایل گلابی جالی کا لباس کیا وہ کوی حور تھی پری یا جل پری
اس کی کٹارا آنکھیں مجھ پہ مرکوز تھیں، کہنے لگی تم کون ہو ہم کون
سی ذبان میں ہمکلام تھے،میں اس ذبان سے نآشنا تھامگر میں جو بولتااسےسمجھ آتی تھی ۔کہنے لگی ،”تم نے کبھی بن میں مور ناچتے دیکھا ہے”
اس کے پروں میں چمکتی روشنی کتنی دل آویز ہے
میں نے کہا، تمہاری سنہری زلفوں کی طرح
بولی تم نے کویل کی راگنی سنی، میں نے کہا ہاں ،تمہیں کیسی لگتی ہے ، مجھے بہت سریلی لگتی ہے، میں نے کہا تمہاری پائل سے کم۔۔۔۔ وہ شرمائ ۔۔۔۔ کہنے لگی تم نے نرگس کی کہانی سنی ۔۔۔ میں نے کہا ہاں پوچھنے لگی دریا کو اس میں کیا نظر آیا ۔۔۔میں نے کہا دریا کو اس کی آنکھ میں اپنا آپ نظر آیا اور دریا کے پانی میں
اس نے اپنا حسن کیسے دیکھا۔۔۔؟ میں نے کہا عکس اور ساۓ بہت اہم ہوتے ہیں۔ کیا تم اتنی حسین ہو یا میں تم میں خود کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔بولی مجھے تو ہر سو حسن ہی حسن دکھای دیتا ہے۔۔۔کائنات اتنی حسین ہے نا۔۔۔اس کی گردن کا صراحی دار خم اُف میں الجھ گیا کیا وہ مرمریں کوئ خواب تھا۔۔
مجھے لگا وہ موم کا کوئ مجسمہ تھی لیکن وہ موم کا مجسمہ ہوتی تو دھوپ کی سنہری کرنوں کے پڑتے ہی پگھل جاتی مگر وہ تو دھوپ میں اور بھی نکھری نکھری نظر آرہی تھی ایک روشنی کا بہاؤ تھا جو ہم دونوں میں سرایت کرتا ۔۔۔ اس کے جسم کی خوشبو سے میری روح معطر ہو رہی تھی ۔۔۔ اس کے بعد بھی بہت بار مجھے ملی ۔۔ہم ایک مخصوص وقت میں ملتے رہے اور جانکاری کے نۓ نۓ تجربے سے آگاہ ہوتے رہے ایک روز
میں نے دیکھا اس کے پاؤں کی ایک پائل تھی اور دوسری گم تھی ۔۔۔۔جیسے ہی اسے اندازہ ہوا وہ اداس ہو گئ کہنے لگی کیا تم آدم زاد ہو۔۔؟ میں نے کہا ہاں اور تم؟ کہنے لگی میں تمہارا کھویا ہوا عکس ہوں میں تمہیں دیکھنا چاہتی تھی تمہاری خاطر میں نے بہت کشت اٹھائے پر تم مجھے کہیں نظر نہیں آے میرے مصور نے مجھے کہا تھا جس روز تمہاری ملاقات آدم زاد سے ہو جاے گی تمہارے پاؤں کی ایک پائل گم ہو جاے گی مگر ایک پائل تمہیں یاد دلانے گی کہ تمہیں واپس آنا ہے اور تم وقت کی غلام ہو ۔۔۔میں نے پلک جھپکی اور وہ وہاں نہیں تھی تب سے میں اس کے فراق میں روز ایک تصویر بناتا ہوں پر ویسی تصویر نہ بنتی ہے نہ میری تپسیا کا وقت ختم ہوتا ہے ۔۔
میری تصویریں اور میرے رنگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تتلیوں کے قافلے پھولوں کے کنج میں کسے تلاش کرتے ہیں، بےچین ہیں کہکشاوں کے راستےاندیکھی روشنی کے لیے، آویزاں ہیں چراغ قندیلوں کی صورت،، سیارے اپنے اپنے مدار میں اپنے اپنے سورجوں کے گرد گھومتے ہیں، بانگ درا ریت کے صحراوں میں گونجتی ہے، صداےجرس کی بازگشت سے نۓ راستوں کے امکان کھلتے ہیں، ریت کے بگولوں میں کسی کی چاپ سنای دیتی ہے،یہ کس کے نقش پا ہیں، یہ میں ہوں کہ تم ہو، یا ہم ایک ہیں۔

فیس بک تبصرے