حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

خوش نصیب :دعا عظیمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کچھ تھی ہی عجیب
کیسے ہضم کی جا سکتی تھی،ایسا کیسے ممکن تھا، بھلا اپنی موت کی تاریخ کیسے معلوم پڑ سکتی کسی کو،، سنا تھا کچھ بزرگ صاحب کشف ہوتے ہیں،، بلکہ یہ بھی کہ کچھ ہستیوں سے باقاعدہ اجازت طلب کی جاتی تھی تو کیا فصیح الدین صدیقی صاحب بھی صاحب کشف تھے،،، دماغ کو ایک مصیبت سے نہی ایک ہی وقت میں ہشت پہلوی مشکل کا سامنا تھا،، دکھ اور حیرانی کا تجربہ جب بھی ہوا بہت ہی برا ہوا،، اور مجھے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ اس صورت حال میں خود کو کیسے سنبھالوں پے در پے واقعات و حادثات نے میرے اعصاب کو کب کسی جوگا چھوڑا تھا،،،وہ نمازی تو تھے، سچ بھی ان پہ ختم تھا،، نیک نیت، نرم خو سب کے کام آنے والے انسان تھے،،،دنیا کو کسی اور ہی نگاہ سے دیکھتے تھے،،،جانے کیوں ان کو دیکھ کرہر کوئ اپنی پوٹلی کھول کے بیٹھ جاتا تھا،،،شادی نہی کی تھی سن کوی چالیس کا ہوگا، ایک سال بعد میں بھی چالیس کی ہونے والی تھی،،ساری بہنوں کو بیاہ دیا تھا دو بھای بیرون ملک سدھار گے تھے جو دو یہاں تھے وہ بھی گھر بسا چکے تھے،،، یہ سچ تھا کہ میرے ہوتے ہوے ان کو کسی شے کی کمی نہی تھی پر جب تک وہ چھوٹے تھے مجھے اپنے پہ ناز تھا میں نے ابا کی بے وقت موت کے بعد سات افراد کو شیرنی بن کے کھلایا تھا،اماں کی وفات کے بعد اور بہنوں کی شادی کے بعد گھر بھر میں تبدیلی سی آ گئ تھی،میرا مقام بدل گیا تھا، پہلے میں ہی میں تھی گھر بھر کی کماو پو ت جو تھی، پر اب پھرتے تھے میر خوار۔ کوئ پوچھتا نہی ،،والا معاملہ تھا، ایک بار جوانی میں کسی نجومی حضرت کو ہاتھ دکھایا تھا،،اس نے بولا تھا پیسے اور عزت کی کمی نہی ہو گی گھر کا سکھ چالیس برس میں نصیب ہو گا تب ہی سے مجھے چالیسویں برس کا انتظار تھا،،،،فصیح صاحب جیسے انسان کی رفاقت میرا خواب تھی،،،مگر ان کی ڈائری اور اس میں ان ہی کے ہاتھوں لکھی تاریخ وفات کے ہندسے میرے وجود کی دھجیاں اڑا رہے تھے،،،ایک حساب سے ہم ہم خیال بھی تھے ہم حال بھی ، ان سے اکثر بات جمی رہتی،وہ بھی لکھاری تھے اور مجھے بھی شبدوں سے شغف تھا۔

کچھ لہجے ہی مہربان ہوتے ہیں، بات کریں تو خوشبو اترتی ہے، پھول جھڑتے ہیں، من چاہتا ہے لمحے ٹھہر جائیں، دور جامن کی ٹہنی پہ کوئل کوکتی رہے، رہٹ چلتا رہے،، چشمے ابلتےرہیں، کارزار حیات چلتا رہے۔۔۔۔
ایک بار کا زکر ہےلکھاریوں کے متعلق بات ہوئ تو کہنے لگے لکھاری بہت دبنگ ہوتے ہیں، میں نے پوچھا کیسے۔۔؟پل دو پل کا توقف کیا، چاۓ کی ایک چسکی بھری اور بولے، ایک عام انسان کسی اجنبی کو دروازے سے اندر آنے کی اجازت نہی دیتا البتہ اپنے جاننے والوں کو بیٹھک میں بٹھاتا ہے کیونکہ اسے آراستہ وپیراستہ کیا ہوتا ہے جب کہ ایک لکھاری آپ کو اپنی زات کے تہہ خانے تک آنے کی اجازت دیتا ہے،،بلکہ ہر اجنبی کے لیے اپنی نفسیات کی کتاب کھول رکھتا ہے، دوسرے وہ دل بہلانے کا فریضہ انجام دیتا ہے، وہ دوسروں کی محبت میں اپنے مشاہدات بانٹتا ہے،
مگر مجھے تو ایسا لگتا ہے “وہ توجہ کا طالب ہوتا ہے،
اپنی تسکین کے لیے عرق ریزی کرتا ہے”
توجہ کی بھوک تو ہر انسان کی من کی پٹاری می چمکیلی ناگن کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی رہتی ہے،
مگر دیکھیں ناں وہ آپ سے مانگتا کیا ہے، دو لمحے اور دو حرفی داد
اپنی زات کا تھیلا کاندھے سے اتارتا ہے اور آپ کی من پسند چیز چنتا ہے، اور چوراہے میں رکھ دیتا ہے،جیسے کوڑے کے ڈھیر سے روزی روٹی چننے والے ،،، میں بے اختیار ہنس پڑی سر یہ آپ نے کیا کہا، اچھے خاصے عزت مند لکھاریوں کو کوڑا چننے والوں سے جا ملایا،،، فرمایا، تلاش کرنے والا ہر شخص عزت مند ہی ہوتا ہے، تلاش ہی خیر ہے۔۔۔اور خیر کی تلاش کرتے رہنا چاہیے۔۔
ان کی بات میں سچائی تھی، دل میں خیال آیا ان کی ہم نشینی کتنی فرحت آمیز ہے
مجھے بچپن سے جگنو اور تتلیاں مٹھی میں قید کرنے کا شوق تھا،،ان سے نسبت میں یہی اک خسارہ تھا کہ میں انہیں مٹھی میں قید نہیں کر سکتی تھی، ان کی تحریر بتاتی تھی کہ ان کا مزاج رنگ روشنی ہوا اور پانی سا تھا، جس کا مزاج ایسا ہو اسے کون قید کر سکتا ہے،، ابھی تک بس ان کے ساتھ چاۓ کا ہی تعلق تھا۔
،
میں انہیں جاننا چاہتی تھی حالانکہ میں تو خود کو بھی اچھی طرح سے نہی جانتی تھی، جب بھی انہیں ملی ایسے لگا جیسے پرانے کواڑ کی ذنگ آلود زنجیر پر جندرا لگا ہو،،، وہ بھی مقفل ، ہنستےتو کسی کشا دہ حویلی کی طرح پر قریب نہی آنے دیتے تھے، اور جب کوئ قریب نہ آنے دے تو قریب ہونے کو اور بھی دل مچل جاتا ہے نا، بے وجہ سا تجسس سرسراتا رہتا جیسے رات کی رانی کے پودے سے جڑی سانپ کے عشق کی داستان،،
یہ جاننے کا بھی عجب شوق ہے من میں سرسراتا رہتا ہے،،انسان انسان ہی ہوتا ہے،،اگر ہو تو،،،،پر جان پہچان بھی تو انسان کا ہی وصف ہے،،،،میں نے ہر طرح کے لوگ دیکھے تھے،،،نرمل کومل کپاس کے کھلتے پھولوں جیسے، سفاک مشینوں کی مانند، دومنزلہ عمارتوں کی طرح،،،حویلیوں اور تہ خانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوے،،،سراے کی صفات والے،،،،، خود میرا وجود بھی کسی سراے سے مختلف کب تھا۔۔۔۔۔کئ لوگ ٹھہرے ،کئ نے کوچ کیا ،یہ دنیا بھی تو سراۓ ہی ہے ناں،،،چار دن قیام پھر نقارہ کوچ،،
وہ دفتری رفیق تھے،، لمبا عرصہ نہیں گزرا تھا،، اس رفاقت کو،، کچھ رشتے عجیب ہوتے ہیں بےنامی سے کسی عنوان کے تحت آتے ہی نہی،،نہ ہو کے بھی بہت کچھ ہوتے ہیں،،مگر تھوڑے دنوں میں مجھے کچھ ایسی عادت ہوئ ہر بات انہیں بتاتی تو جیسے سانس بحال رہتا، کسی روز وہ بوجوہ دفتری امورکے نشست پہ براجمان نہ ہوتے تو من اچاٹ سا ہو جاتا،، دن روکھا روکھا سا گزرتا جیسے دال چاول بن اچار کے کھاۓ ہوں،،اور اس روز وہ اپنا دراز کھلا چھوڑ گیے تھے، شایدجلدی میں تھے،،،،،،،
میرےلیےتو گویا خزانہ ہاتھ لگا،
ان کی ڈائری میرے ہاتھ جالگی تھی، مجھےمعلوم پڑا وہ نفیس سے انسان تھے،جیسا کہ ان کےبارےمیں سوچتی تھی، دودھ کا
حساب
کچھ مقدس آیات
ان
کے تراجم ،خوبصورت اشعار ایک جگہ تاریخ پیدائش
مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے اپنی آنکھوں سے ان
کی تاریخ وفات کا وقت اور دن اور مہینہ اور سن
اور سن پڑھا۔۔۔۔میرا اوپر کا سانس اوپر اور تلے کا تلےاف کیا ایسے بھی ہوتا ہے،،،
کاش وہ آج چھٹی پہ نہ ہوتےیا دراز مقفل ہوتا یا میں ہی بددیانتی نہ کرتی،، اس تجسس نے مجھے ایک عجب اذیت سے دوچار کر ڈالا تھا۔۔کیا واقعی وہ تاریخ ،،، اس حساب سے انہیں ایک سال سات ماہ نودن اور
جینا تھا،،میں نے انہیں نمبر ملایا،،،ان کی آواز سنی خیریت معلوم کی،، وہ ٹھیک تھے،،،ان کو فون پہ کیا کہتی،،بمشکل رات نکالی،،، اس دوران مجھے اپنی زندگی سے جانے والے خوب یاد آے،،،دل کھول کے روئ،،اور چادر تان کے سو گئ،،صبح آنکھ کھلی تو سلسلہ پریشانی وہیں سے جڑا،،،خدا خدا کر کے وہ لمحات نصیب ہوۓ جس میں میں اپنی گنجل بیان کر سکتی تھی،،،میں نے آپ کی ڈائری آپ کی اجازت کے بغیر پڑھی،،، ان کو دیکھتے ہی اعتراف جرم کیا، ان کے ہاتھ کپکپاے،،اور چہرہ سفید پڑ گیا جلد ہی سنبھل کے مسکراے،، کوئ بات نہی،،، پھر کیا ہوا،،، ایک بات بتایے وہ تاریخ وفات والا کیا معمہ ہے،،،،زہرہ آپ پریشان نہ ہوں وہ صرف خواب کا معاملہ ہے،، مگر خواب کیسا،،دراصل مجھے اکثر سچے خواب آتے ہیں
والدہ کی وفات سے پہلے بھی خواب میں ایک سلیٹ دیکھی جس میں والدہ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کچھ اس انداز سے لکھی تھی کہ مجھے اٹھنے پر بھی یاد رہ گئ،، والدہ کو خواب سنایا تو میرا ماتھا چوما کہنے لگیں مبارک ہو، بشارت ہے،، وقت انتقال کا علم بشارت کی بات ہوتی چند نصیحتیں فرمائیں اور رضاے الہی سے عین اسی تاریخ کو پردہ فرما گئئں،،،، میرا لہو رگوں میں منجمند ہو رہا تھا،،، کان سرخ،،، اور اس کے بعد اب کے برس اپنی تاریخ والی خواب ،،، بات ان کے منہ میں تھی جانے کہاں سے اتنی دیدہ دلیری آی
میں نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا یہ تو آپ کی شادی کی تاریخ ہے،،، شادی وہ مسکراے،،،جی شادی کس کے ساتھ ،، میرے ساتھ ایک نجومی نے مجھے بتایا تھا کہ جس روز میں چالیس کی ہو جاوں گی
اس روز میرا بیاہ ف نامی بندے سے ہو گا،، اور اس روز میں پورے چالیس کی ہو جاوں گی ، میں نے اپنا شناختی کارڈ انہیں دکھایا حیرت ہے،،،،واقعی وہ تاریخ میری پیدائش کی تھی،،،،
اب دیکھنا یہ تھا کہ سات جنوری دوہزار انیس کو ہماری شادی ہونے جاے گی یا وہ تنہا دوسرے دیس سدھاریں گے،،،،مزے کی بات ہے اس بار میرا خواب سچ ثابت ہوا،، جاگتی آنکھوں کا خواب کچھ خوشیاں دیر سے آتی ہیں پر بہت
دائمی ہوتی ہیں،،نہی معلوم تھا،،، ہم خوش نصیب تھے۔

فیس بک تبصرے