حمد باری تعالیٰ

بدنصیب شہر اور دریائے نیلم کا مٹیالا پانی : کامران نفیس

یہ ۸ اکتوبر 2005 کی ایک سرد صبح تھی،اونچے پہاڑوں،بل کھاتے راستوں اور چار جانب طویل قامت مضبوط تنوں والے چیڑ، دیار اور چلغوزہ کے درختوں پر علی الصبح سے کہر کا دھند چھایا ہوا تھا، ہلکی سنہری قرمزی کرنوں کےساتھ وادی میں پھیلے سبزے اور نازک پھولوں کی دل بستگی جاری تھی، دریائے نیلم کا نیلگوں پانی دھیرے دھیرے ہلکورےلیتا ، گنگناتا اپنے سمندر اپنی منزل کی جانب رواں تھا۔۔…۔گھروں میں مائیں بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد امور خانہ داری میں مصروف تھیں، مرد باہر اپنے اپنے کام پر نکل چکے تھے، اور اسکولوں میں بچے صبح کا ترانہ مکمل کرنے کے بعد اپنی کلاسوں میں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ۸ بج کر ۵۰ منٹ پر قیامت بپا ہوتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ اس پورے علاقے کو تہس نہس کردیتا ہے۔۔۔ پہاڑ چرمرا کر آپس میں مل جاتے ہیں۔۔۔۔ دریا اپنے پاٹ تنگ کردیتا ہے ۔۔۔۔ہزاروں مر جاتے ہیں، لاکھوں بے گھر ہوجاتے ہیں، ہر جانب راکھ، ملبہ، اعضاء، زخمی، کراہیں، آنسو، ہچکیاں ہوتی ہیں اور دریائے نیلم کا نیلگوں پانی پہاڑوں کے سفوف اور انسانی خون سے سے پہلے مٹیالا اور پھرسرخ ہوجاتا ھے۔

ریکٹر اسکیل پر 7٫5 شدت سے آنے والا زلزلہ دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔ جبکہ انسانی المیوں کی تاریخ کے اعتبار سے دنیا کا چودہواں۔ جس میں تقریبا ۳۳ لاکھ افراد بے گھر ہوئے، تقریبا ۷۵ ہزار کےقریب ہلاکتیں ہوئیں۔ پہاڑی علاقے میں آنے والے اس زلزلے نے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی جس کی وجہ سے مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 8 ملین سے زیادہ آبادی اس المیے سے متاثر ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق 5 ارب ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوا، جو تقریباً ۴۰۰ ارب پاکستانی روپے بنتے تھے۔کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کو پانچ مختلف جگہوں سے تاریخ میں پہلی بار کھول دیا گیا، تاکہ لوگوں کو بآسانی صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔ اسی تناظر میں دنیا بھر سے امدادی ادارے اور کارکن ابتدائی امداد پہنچانے یہاں پہنچے۔

دنیا بھر کی مدد کے ساتھ پاکستان بھر میں امدادی کاروائیاں شروع ہوئیں تو ملک بھر میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت زلزلہ زدگان کی مدد کی خاطر نکل کھڑے ہوئے، اس مدد میں شہر کراچی کا کردار سب نمایاں رہا۔ راقم الحروف کو یاد ہے کہ کس طرح کراچی کے گلی کوچوں ، مرکزی شاہراہوں، اسکولوں، پارکس، کھیل کے میدانوں میں جگہ جگہ ٹینٹ لگا کر نوجوان ٹولیوں کی شکل میں امداد جمع کرتے رہے تھے اور شہر میں اس امداد کو جمع کرنے کا ایک منظم طریقہ کار اپنایا گیا، کراچی کے شہری گواہ ہیں کہ پورے شہر میں ہزاروں کی تعداد میں کیمپس قائم تھے، جس میں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں کے کارکنان اور کیمپس بھی شامل تھے۔ شہر بھر کے ان ہزاروں کیمپس میں اگر کوئی نام نمایاں تھا جو شہر کی مجموعی مدد کا تقریبا 80 فیصد پر شامل تھا وہ ” خدمت خلق فاونڈیشن” کا تھا۔

کے کے ایف دراصل ایم کیو ایم کا فلاحی ادارہ تھا ، جس نے 2005 کے اس زلزلے کے دوران ناقابل بیان و ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں۔ اس وقت کے کے ایف نے جو سب سے اہم کام کیا تھا وہ اپنے سیکڑوں کارکنوں کیساتھ عوام اور خصوصا نوجوانوں کو متحرک کرکے اپنے ساتھ شامل کرنا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ صبح سے لیکر رات گئے تک نوجوانوں کی سیکڑوں ٹولیاں کے کے ایف کے ان کارکنوں کے ساتھ گھر گھر جاکر چندہ، ادویات، کمبل، لحاف، گرم کپڑے، کھانے پینے کی دوسری اشیاء اکٹھی کرتیں، انہیں کیمپوں میں لے جاکر پیک کیا جاتا پھر اپنی یا کرائے کی گاڑیوں میں انہیں لاد کر سہراب گوٹھ کے ٹرک اڈے پر لے جایا جاتا وہاں سے سینئر کارکنان اس سامان کو ٹرکوں پر چڑھا کر اسے کشمیر اور دوسرے متاثرہ حصوں تک لے جاتے، جہاں ان متاثرہ علاقوں میں پہلے سے موجود کارکنان اس سامان کو ایک ایک مصیبت زدہ تک پہنچاتے۔ یہ سلسلہ مستقل کئی ہفتوں تک جاری رہا تھا۔۔۔ ہمیں یاد ہے کہ اسکاٹ لینڈ گلاسگو میں مقیم ہمارے ایک کشمیری دوست جنکا تعلق میرپور سے ہے اور وہ وہاں کے اچھے بڑے کاروباری ہیں ، ان سے اس دوران فون پر تقریبا ہر ہفتے بات ہوتی تھی اور وہ اس بات کا بار بار ذکر کرتے تھے کہ کراچی والوں نے ہماری جس طرح مدد کی ہے ہم وہ شاید زندگی بھر نہ بھلا سکیں۔ وہ خاص طور پر الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا شکریہ اس حوالے سے نام لے لے کر کیا کرتے تھے۔ یہ مدد کسی پر احسان نہیں تھی۔۔ ہم انہیں یہی کہا کرتے تھے کہ کراچی والوں یا ایم کیو ایم نے کسی پر احسان نہیں کیا۔۔۔۔ آفات سے کون نمٹ سکتا ہے!!!!!۔۔ لیکن بحیثیت مسلمان اور پاکستانی یہ انکا فرض تھا جو شاید انہوں بخوبی و احسن نبھایا۔

کل خبر سنی کہ ایف آئی اے نے کے کے ایف کے تمام دفاتر بند کردئیے ہیں اور اس سلسلے میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ یہ دفاتر کراچی کے عوام سے بھتہ لیکر قائم کئے گئے تھَے۔ ایف آئی اے ایک وفاقی ادارہ ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے۔ اور پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ جناب عمران نیازی ہیںں لہذا صاف ظاہر ھے کہ کہ براہ راست عمران نیازی کے حکم پر یہ ساری کاروائی کی گئی ہے۔ شوکت خانم کے روح رواں، موجودہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ عمران نیازی سے کراچی والوں کو تو کوئی خیر کی امید کبھی نہ تھی اور نہ رہے گی۔ لیکن چونکہ وہ خود ایک خیراتی ادارے کے سربراہ ہیں لہذا یہ توقع لگائی جاسکتی تھی کہ وہ چیریٹی کے اداروں کیساتھ شاید ایسا کچھ نہ کریں۔۔۔۔اور یہ توقعات ایک مرتبہ پھر غلط ثابت ہوئیں۔

اگر حکومت کو کے کے ایف پر منی لانڈرنگ یا بھتہ وصول کرنے کا شبہ ہی تھا تو جناب آپ اسکے لئے قانونی راستہ اپناتے، ثبوت و شواہد کے ساتھ، مکمل تفتیش کے بعد عدالت میں ان الزامات کو ثابت کرتے اور الزامات سچ ثابت ہوجانے پر زمہ داران کو سزا دیتے ۔ اور پھر اس ادارے کو حکومتی سرپرستی میں لا کر اسکو مزید بہتر بناتے۔ اس کے برخلاف نہ کوئی تفتیش ہوئی، نہ ہی کوئی شواہد سامنے آئے اور نہ ہی کسی عدالت میں یہ ثابت ہوسکا کہ کے کے ایف بطور ادارہ ان سارے جرائم میں شامل ہے، بلکہ ھوا یہ کہ انتقاماً آپ کی وزارت نے اس پورے ادارے کو تباہ و برباد کر دیا۔ کل اس ادارے کی تمام املاک کو سربمہر کیا اور آج ان کے ایمبولنسز کے آکشن پر بھی پابندی لگادی۔۔۔ !!!…پاکستان کا ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ماضی کی ہر حکومت ایف آئی اے کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی آئی ہے۔۔ اور آپ جو نیا پاکستان بنانے آئے تھے گزشتہ حکومتوں سےبڑھ کر انکے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

۳۰ سال کی محنت شاقہ کے بعد کمیٹی سے فاونڈیشن تک کا سفر کرنے والے ایک ایسے ادارے کو جس پر کراچی کے عوام کا اعتماد تھا، آپ نے چند ماہ میں تباہ کردیا۔ یہ ادارہ کسی خاص نسل یا قومیت کی مدد کرنے کے لئے نہیں تھا۔ کراچی میں رہنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کے کے ایف ہر فرد کی بلارنگ و مذہب و نسل خدمت کیا کرتا تھا۔ شاید اس ادارے میں اردو بولنے والے کارکنان کی زیادہ تعداد ملازمت پیشہ ہو لیکن اس کے باوجود کے کے ایف نے ہمیشہ کراچی میں بسنے والی ہر قوم کی خدمت کی، اسکی سب سے بڑی مثال اوپر بیان کی گئی ھے جب کشمیر میں آنے والے زلزلے میں اس ادارے کی خدمات کے سیکڑوں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں گواہ موجود ہیں۔

کراچی کی سطح پر خدمت خلق فاؤنڈیشن کی خدمات کا دائرہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جناب عمران نیازی آپ نکلیں تو سہی کراچی کے گلی کوچوں میں، تنگ اور گنجان بستیوں میں، آپکو ایسی ہزاروں بیوائیں، بوڑھی مائیں، ضعیف بزرگ اور شکستہ و غریب خاندان ملیں گے جنکے ماہانہ اخراجات کا ذمہ دار تھا یہ ادارہ، انکے بچوں کی تعلیم، ان خاندانوں کی صحت کے معاملات، جوان بچیوں کی شادی اور انکے جہیز کے انتظامات جیسے نجانے کتنے رفاحی کام تھے جو کے کے ایف سر انجام دیتا تھا۔ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ نے خدمت خلق فاونڈیشن پر قدغن لگا کر نجانےکتنے غریبوں، مظلوموں کی ہائے لی ہے۔ عمران نیازی صاحب، منہ ٹیڑھا کرکے مدنی ریاست کی گردان کرنا بہت آسان ہے، لیکن آپ جس ریاست کے سربراہ ہیں وہ خواہ مدنی ہو یا نہ ہو، اس کے ایک ایک شہری پر ہونے والے ظلم کے ذمہ دار آپ ہیں ، جسکی وصولی آپ سے ہر دو جگہ کی جائے گی۔

اس بدنصیب شہر اور اس کے کم نصیب عوام کو منادی ہو کہ رمضان سمیت پورے سال ہر قسم کے مذہبی شدت پسندوں، نام نہاد جہادیوں، شر پسند مدرسوں، اور شوکت خانم سمیت دوسرے تمام جعلی رفاحی اداروں کو چندہ یا بھتہ جمع کرنے کی اجازت ہے، ہر جمعہ مساجد کے باہر مذہب فروشوں کو دین کے نا م پر پرچیاں بانٹنے کی اجازت ہے لیکن ۳۰ سال تک اپنی رفاحی خدمات کامیابی سے سرانجام دینے والا ایک ادارہ اب شہر میں کام نہیں کر سکے گا۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنے اندر اس کم نصیب عوام کی خواہش کا سچا درد رکھتا تھا۔۔۔۔۔

تمام سرکردہ طاقتور ادارے اور جناب عمران نیازی صاحب، یاد رکھیں ظلم ایک حد تک ہی روا رکھا جاسکتا ہے، اور یہ ظلم کرکے آپ اپنی ریاست کی باقی ماندہ کھوکھلی جڑیں جلانے کے درپے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ شاید آپ نہیں جانتے کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں اب مزید طاقتور زلزلوں کی امکان بڑھ چکا ہے۔۔۔زلزلہ آنے کا وقت کسی کو نہیں معلوم لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ اب کراچی میں آپ نے کوئی ایسا نہ چھوڑا ہے جو وقت پر آپ کی مدد کرے۔۔۔۔۔۔ یہ شہر بدنصیب ہے اور دریائے نیلم کاخون آلود مٹیالا پانی آپکا مقدر ۔

فیس بک تبصرے