حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

خانہ بدوش:دعا عظیمی

.
خانہ بدوش ۔۔۔۔۔۔۔عجب اٹھلاتے ہوے چلتی تھی ۔۔۔۔ رنگ سنولایا ہوا، مگر ناک نقشہ تیکھا۔۔۔۔اس پہ باریک گھنگرووں والی نتھلی مٹکاتے ہوے چلتی تو شوخ رنگوں کا گھا گھراایک ادا سے گھو متا جس کے رنگ میل سے آٹے پڑے تھے جیسے جلی لکڑی کی راکھ ۔۔۔مگر اسے اس سے کیا ساری دنیا سے بے نیاز
گنڈیریاں چوستی جاتی چھلکے سڑک پہ پھینکے جاتی اور اپنی بکریاں چراتی پھرتی جیسے شہر نہ ہو جنگل بیلا ہو شاید اس کے لیے ساری دنیا ہی جنگل بیلا تھی۔۔۔۔ ُ
حسن کو آنکھ کی پتلی سے لے کے دل کے گوشوں تک
قید کرنے کی عجیب سی بیماری تھی کبھی کیمرے کی آنکھ سے کبھی حرف میں اسے قید کر کے محسوس کرنا میری زندگی تھی۔۔
۔۔گاوں کی حد تک تو سب ٹھیک تھا پر مجھے شہری زندگی کچھ زیادہ راس نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔ تنگ گلیاں ، شور ،آلودہ ہوا ۔۔۔بلکہ تعفن میں اکثر سوچا کرتا کہ اگر بنیادی سہولیات آبادی کے حساب سے مہیا ہوں تو ہم اس طرح شہروں میں نہ آبسیں ،اس پہ رہائش کا مسئلہ خاص طور پہ الگ ،اگر دس تاریخ سے زیادہ ہو جاتا اور پیسوں کا بندوبست نہ ہو پاتا تو بوڑھےخبطی مالک مکان کو میری بے عزتی کرنے سے کوئ نہیں روک سکتا تھا۔۔۔ کبھی کبھار ٹیوشن سے ملنے والی رقم میری مدد کرتی جس سے میں اس ایک کمرے کا کرایہ دیتا جو تیسری منزل پر قائم تھا اس کمرے کی ایک خوبی تھی اس کی کھڑکی ، جس سے میں سارا شہر دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔ ہجوم بے بہا ایک دوسرے پہ چڑھے مکان جو ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش میں مبتلا نظر آتے ،زرا سی گردن اوپر اٹھاتا تو آسمان اور موسم کے رنگوں کا نظارہ بھی ممکن ہو جاتا۔
۔۔ کبھی کبھار میری کوئ کہانی کسی رسالے میں لگ جاتی تو معمولی معاوضہ مل جاتا جس سے میری عید ہو جاتی اس روز بھی میری جیب گرم تھی اور میں خوشی میں مست تھا وہ پاس سے گزری تو میں نے اس سے فرمائش کی کیا تمہاری اور تمہاری بکریوں کی تصویر بنا لوں پہلے مجھے غور سے دیکھا پھر بولی بدلے میں کیا دو گےمیں نے کہا تمہیں کیا چاہیے تھوڑی دیر مجھے دیکھتی رہی پھر جھٹ بولی،” ترپال لےدو” ۔۔۔۔۔۔”تم نےکیا کرنا ترپال کا “کہنے لگی ، “برسات ہے ناں بارشوں کے موسم میں خیمہ بھیگ جاتا ہے اگر ترپال ڈالیں گے تو بارش نہیں پڑے گی۔۔۔۔۔ “میں نے کہا ،ابھی تو پیسے نہیں کچھ دنوں میں پیسے ہوۓ تو خرید دوں گا پھر میں نے اس کی بہت سی تصویریں بنائیں اور وہ ہنستی مسکراتی دور نکل گئ۔۔۔
مالک مکان بہت غصے میں تھا دس تاریخ کے بعد وہ ایسے ہی گرجا کرتا تھا اس کے لہجے میں توپوں کی گھن گرج تھی جس روز پیسے اس کی مٹھی میں چلے جاتے اس روز وہ مومی گڈا بن جاتا پر اسی مومی گڈے کو بھوت بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا تھا میں بہت کوشش کر رہا تھا کہ کوئ ڈھنگ کی نوکری مجھے مل جاۓ پرنوکری جس پابندی کو مانگتی وہ میری لا ابالی طبیعت کے لیے موزوں نہی تھی ایک ہی طریقہ تھاکہانی لکھ کے ایڈیٹر کو دوں بلکہ دو تین رسالوں کو تاکہ اپنے کراۓ کے ساتھ ساتھ نتھلی والی کو ترپال بھی تو لے کر دینا تھی۔۔۔۔ادھر بادل ٹپ ٹپ برس رہے تھے ادھر لفظوں کی بوندا باندی ہونے لگتی پر ہاتھ کچھ نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔۔ کھڑکی کے پارچڑیا نے اپنے گیلے پر پھڑپھڑاے
‎ چھینٹیں اڑے اور تار سے اٹکے قطروں کی قطار میں شامل ہو گے۔ بہت دنوں سے ایک کہانی کا خاکہ بنتا تھا لیکن جیسے ہی تصور کی صورت اختیار کرنا چاہتا سب گڈ مڈ ہو جاتا جیسے کچی نیند کا خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔سامنے ہی ایک مکان کی تعمیر ہو رہی تھی جب کچھ بھی بنتا ہے پہلے بکھرتا ہے ، اینٹوں کا پھیلاو ، سیمنٹ ریت بجری پھٹے بےترتیب سڑک کو گھیرے ہوے تھے۔۔۔۔۔شاید کسی روز میرا اپنامکان بھی بن جاۓ، سوی ہوئ خواہش اس روز ضرور بیدار ہوتی جس روز نک چڑھا بوڑھا میرا سامان کھڑکی سے باہر پھینکنے کی دھمکی دیتامیری کھڑکی سے نتھلی والی کا جھونپڑا نظر آتا تھا بارشیں اس بار معمول سے زیادہ ہو رہی تھیں جیسے جیسے بارش ہوتی ترپال کا خیال زمہ داری بن کر میرے کاندھوں پر سوار ہو چکا تھا ترپال اس نے مجھ سے ایسے مانگا جیسے پیسہ میرے لیے کوئ مسئلہ ہی نہ ہو اسے کیسے بتاتا کہ میرے مالک مکان کو اگر اس بار کرایہ نہ ملا تو وہ میرا سامان اٹھا کے سڑک پہ پھینک دے گا۔۔
‎ ادھر کہانی کوئئ صورت اختیار کرنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔ بہت سے لفظ کاغذ تک اترتے مگر رات تک سب کوڑے والی ٹوکری کے پیٹ میں اتر جاتے۔۔۔۔
اگر کہانی وقت پہ تیار ہو جاتی تو شاید میری بہت سی مشکلیں آسانی میں بدل جاتیں۔۔۔
یکایک بادل چھٹ گۓ۔۔۔مغربی کنارا روشنیوں مین نہا گیا، نارنجی ، بنقشی ، اور نیم گلابی رنگوں مین گھرا زوال کا سورج الوداع کہنے لگا ہر بار کی طرح میرا دل چاہا میں بھی سورج کے ساتھ ہی گم ہو جاوں مگر ہر بار کی طرح اس نے مجھے اکیلا چھوڑ دیاسڑک پر سامان بکھرا پڑا تھا شاید تین ماہ تک یہ مکان مکمل ہو جاے ہر وہ چیز جو بنتی ہے پہلے کسی کے ارادے میں تعمیر ہوچکی ہوتی ہے جملے بنتے تھے پر جملوں سے کہانی نہیں بنتی تھی کہانی میں کردار ڈالنا پڑتا ہے پہلے کردار چننا پڑتا یے پھر کردار میں جان ڈالنی پڑتی ہے اور کردار میں جان صفات سے ڈالی جاتی ہے پھر کرداروں کو کسی ماحول میں ہلایا جلایا جاتا ہے جیسے کٹھ پتلیاں نادیدہ تاروں سے بندھی ہوتی ہیں پھر ان کرداروں میں باہم ربط ڈالنا ضروری ہے میں نے پھر کاغذ کا گیند بنایا اور اسے زور سے دیوار کی جانب پھینکا وہ کھلی کھڑکی سے باہر کی جانب نکل گیا میری نظر نےاضطراری طور پہ کھڑکی سے نیچے جاتے کاغذ کے گیند کو دیکھا وہ سیدھا نتھلی والی کے سر پہ لگا اس نے مجھے دیکھا اور جھینپ گئ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیسے بتاؤں کہ یہ غلطی سے ہوا ہے ارادتا شرارت نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رات ایک خوبصورت کہانی کاغذ پہ اتری مکمل میرے آدرش جیسی ۔۔۔۔۔۔۔،!کہانی خانہ بدوش لڑکی کے گرد گھومتی تھی ۔میں نے بار بار کہانی کو پڑھا جانےکہانی اپنا پیغام دینے میں کامیاب ہوی یا نہیں۔۔۔۔ شہروں کا بے ہنگم وجودمجھےایک آنکھ نہیں بھاتا تھااوپر سے تصنع بناوٹ اور ملاوٹ بھری سفاک طرز زندگی، ایسے تھی جیسے کسی اندھیری گلی میں زرد روشنی والا مریل سا بلب اورلوگ سہمے ہوۓ ساۓ ایک خانہ بدوش مجھے اس لیے بھائ کہ وہ آزادی ور زندگی سے بھرپور تھی جیسے انسان کو فطرت نے آزاد پیدا کیا لیکن وہ یہاں پنجے گاڑ کے بیٹھ گیا ہے۔میرا ماننا تھاکہ لوگوں کو سادہ اور فطری رہائش اختیار کرنی چاہیے اور ہم دردی اور سکون سے رہنا چاہیے احسان کے ساتھ۔ ۔۔۔بنجارے کی طرح۔۔۔سراے کے مسافر کی طرح۔۔۔۔۔سوچ ایک بیج کی مانند ہوتی ہےجو ایک زہن سے دوسرے زہن تک منتقل ہوتی ہے کبھی یہ بیج بار آور ہوتا ہے کبھی ضائع ۔۔۔
۔۔۔۔ تھوڑے دنوں بعد رسالے کے ایڈیٹر نے مجھے فون کیا اور بولا آپ کی کہانی کو انعام ملا ہے مجھے حیرت ہوئئ بھلا میں نے کب انعامی مقابلے میں حصہ لیا تھا اس نے بولا وقت کم تھا آپ کی طرف سے میں نے آپکی کہانی کو مقابلے میں پیش کیا تھا انعام کتنا انعام ایک انجانی سی خوشی میرے رگ وپے میں دوڑی واپسی پر میں بہت خوش تھا مطلب اتنے پیسے تھے کہ کرایہ نکل کر بھی رقم بچ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔نتھلی والی کی گیلی جھونپڑی کا ترپال آجاۓ گا میں خوشی سے چیخا ۔۔۔۔۔مالک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا خلاف معمول وہ اچھے موڈ میں تھا کہنے لگا آپ خود نہیں آے آپ نے کرایہ اس خانہ بدوش لڑکی کے ہاتھ کیوں بھیجا میں ہکلا گیا جانے وہ کیا بول رہا تھا کہنے لگا کیا آپ نے اس عورت کو ملازم رکھا ہے ایسی عورتوں کو ملازم نہ رکھیں کچھ بھی چرا کے بھاگ جاۓ گی یہ بڑی بڑی نتھلیوں والی بہت خطرناک عورتیں ہوتی ہیں بات کچھ کچھ میری سمجھ میں آئئ ۔۔۔۔۔
نتھلی والی بکریاں چراتی بے فکری سے پاس سے گزری ،میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا” کیا بتا سکتی ہو تم نے میرے مالک مکان کو پیسے کیوں دیے؟ کہنے لگی، “صاحب آج صبح اس کھڑکی سے اس نے تیرا سامان باہر پھینکنا شروع کیا میرے پاس رقم موجود تھی اسے دے دی کہ تو نے بھجوائ ہے “تمہارے پاس رقم کہاں سے آئئ ۔؟صاحب میں نے اپنی ترپال خریدنے کے لیے اپنی نتھلی بیچی تھی ناں۔۔۔۔اس کا ناک خالی تھا اوہ۔۔۔۔مگر آج ہی مجھے بھی پیسے مل گۓ ۔۔۔۔۔مین نے اسے بولا تم یہ پیسے رکھو اور اپنے لیے ترپال بھی خریدو اور نتھلی بھی ۔۔۔۔شرارت سے بولی صاحب انہیں تم رکھو تم بھی ایک خیمہ خرید لو ناں کیوں روز روز اس کھڑوس سے بے عزتی کرواتے ہو۔۔۔۔۔۔وہ گھاگرا گھماتی اپنی بکریوں کو ہانکتی دور نکل گئ سامنے مکان بن رہا تھا کیا میرے جیسا کہانی کار شہر میں مکان بنا سکتا ہے۔۔ شہر مکانوں کے بوجھ سے کراہ رہا تھا ۔اسی شش و پنج میں مجھے اپنا گاؤں یاد آیا اور کچا کوٹھا جانے میں سب کچھ چھوڑ کرشہر کیا لینے آیا تھا۔۔۔۔کیا میں بھی خانہ بدوش تھا۔

فیس بک تبصرے