حمد باری تعالیٰ

کشمیر کی سنو:بشریٰ نواز

.
گزشتہ 71سال سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام تقسیم ھند کے نا مکمل ایجنڈے کی۔ سازش کا شکار ہو۔کر نسلوں کی بربادی کی مصیبت میں۔ پھنسے ہوئے ہیں۔ 14 اگست1947کو۔ ریاست جموں وکشمیر کے ہر گھر پر پاکستان کا پرچم لہرایا تھا کشمیر یوں کو یقین تھا کہ آج سے ہم پاکستانی۔ ہیں۔ لیکن اس یقین کو۔ حقیقیت کا رو پ دینے کے لے انہیں آ گ اور خون کا دریا عبور کرنا پڑ ا اس کے با وجود ان۔ کے صد یو ں کے خواب کی تکمیل نا ہو سکی اور انڈیا کی آزاد ریا ستوں میں سب سے بڑی ریاست دو حصوں آزاد کشمیر اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں تقسیم ہو گئی آج بھی۔تاریخ کا سفر جاری ہے اور ہمارے در یا وں سے کشمیری شہدا کی کتی۔ کٹی پھٹی لاشیں اور آزاد کشمیر کی۔ سرحد پر مہا جر یں۔ کے لٹے پٹے قافلون کے استقبا ل کے مناظر زندگی کے معمولات کا حصہ بن چکے ہیں
یہاں تک۔ کہ دونوں طرف کے سرحدی علاقے مسلسل بھا رتی۔ جارحیت اور خون ریزی کا شکار ہیں لیکن اس کے با وجود دونوں۔ طرف کے بہادر عوام۔ ان علاقوں۔ کو آ با د رکھے ہوئے ہیں اچھے دنوں۔ کی۔ امید پے اپنے آپ کو مضبوط رکھے ہوئے ۔ ہیں۔ کشمیری۔ بہادر ہیں ان۔ کی۔ ہمت کو۔ کوئی شدت ختم۔ نہیں۔ کرتی۔ جب کہ پاک فوج دونوں۔ طرف کے کشمیر یوں کی محافظ اور نگہبان بھی۔ ہے
آزاد کشمیر کی سرحد وں سے انڈیا کے لے اب بھی۔ یہ ہی پیغام ہے کہ اس کے ٹینکوں اور گولیوں کے اگے دہشت گردی سے نبٹنے والے ہمارے بہادر فوجی۔ ہی نہیں بلکہ ہمارے بچے بوڑھے ما یں بہنون۔ اور بیٹیوں کے جذبے اور اہنی۔ ارادے بھی۔ شامل۔ ہیں
حالا ت کی نزاکت کو۔ دیکھتے ہوئے پاکستان اور آزاد کشمیر کے اکا بر یں کو۔ بھی۔ سیاسی پختگی اور اجتمائ سوچ کا ثبوت دینا چاہے عوام کے لے بہتر سوچ لیں۔ وہاں۔ کے لوگ خطر ناک۔ اور تبا ہ کن حالات میں۔ جی رہے ہیں۔ اس پر درد مندی سے سوچا جاۓ دن رات دوسرے ملکوں کی۔مثالیں دینے کی۔بجا ے اس بڑ ے مسلہ کو حل کیا جا ئے

فیس بک تبصرے