حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

کشمکش:مبارک انجم

..
دل کیا کچھ لکھوں
دماغ نے کہا رہنے دو..
ضدی سوال آیاکیوں؟
مجھے لکھنا ھے بس دل مچلا
دماغ نے سمجھایا .. رہنے دو یہ ہمارے بس کا کام نہیں
دل پر ضد سوار تھی بچہ سا تو ہے. کیوں نہیں ہے اتنے لوگ لکھ رھے ھیں تو ہم کیوں نہیں لکھ سکتے
دماغ نے دلیل دی . جو لکھ رھے ھیں وہ پڑھے لکھے قابل لوگ ھیں.
دل نے جرح کی… تم بھی ہر وقت پڑھتے رھتے ھو پر وقت تو نظریں کتاب پر جمائے رہتے ہو تم سے قابل اور کون ہو گا ؟

دماغ نے دوستانہ پینترا بدلا اور معصوم دل کو بہلانا چاہا …یار چھوٹو تم تو میرا اپنا دل ہو نا..تمہیں تو دنیا میں سب سے لائق فائق میں ہی نظر آوں گا نا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں .
دل غیر مطمئن سا تھا کہنے لگا پڑھتے تو تم رہتے ہو جانے کیا پڑھتے ہو یا بس ڈھونگ کرتے ہو؟
دماغ بے بسی سے گویا ہوا .یار! میں قابل لوگوں کے مکتوب پڑھتا ہوں .میں ان سے سیکھ رھا ھوں. پھر بھلا ان کے مقابل کیسے لکھ سکتا ھوں؟

دل مصر رہا اب تک کچھ تو لکھنا سیکھ ہی چکے ہو گے .
ٹھک سے جواب آیا.
پڑھے لکھے لوگوں میں ”کچھ” لکھ لینا کافی نہیں ہوتا.. تحریر کا معیاری ہونا اہم ھے.

دل نے جو اب کچھ الجھ سا گیا تھا اگلا سوال داغا . تحریر میں میعار کیسے آتا ھے؟
دماغ بزرگ نے شفقت سے دل کے سر پر تھپکی دی اور زیر لب مسکراتے ہوئے نادان دل کو سمجھایا. پیارے اسکے لئے بہت سارا پڑھنا پڑتا ھے . یہ بڑی بڑی ڈگریاں لینی پڑتی ھیں، دماغ نے اپنے دونوں ہاتھ طرفین میں کھول کر ڈگری کا سائز واضح کیا ، بہت محنت طلب کام ہے یہ..

دل نے ٹھنک کر فرمائش کی . تو ڈگری لے لونا.

یار وہ اب ممکن نہیں رہا . بہت دیر ہو چکی
دل نے ہمت نہ ہاری .اچھا کوئی تو ہوگا جو بنا ڈگری کے بھی لکھتا ہوگا؟
دماغ ہاں ہو سکتا ہے ..ہوتے ہیں کچھ غیر معمولی لوگ
دل نے مثال طلب کی
دماغ نے ترنت جواب دیا ”ارسطو” لیکن وہ بہت پہلے گزر چکا .
دل نے سوال کیا کہ اب ایسے لوگ کیوں نہیں ھیں؟
دماغ افسردگی سے بولا.. اس لئے کہ اب علم و عقل کا میعار ”ڈگری” ٹھہرادیا گیا ہے . جتنی بڑی ڈگری اتنا بڑا عالم.

تو پہلے ایسا کیوں نہیں تھا؟دل کے سوالات تھے کہ بڑھتے ہی چلے جاتے تھے لیکن آج تو دماغ بزرگ بھی فرصت سے جواب دینے پر آمادہ تھے
.پہلے ایسا اسلئے تھا کہ انسانی عقل و شعور ، مشاھدات اور کامن سینس کے تابع تھا. اسے سند کے لیے کسی ادارہ کی ضرورت نہ تھی

دل نے جرح کی. اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ سند لے کر کوئی بھی باشعور بن جاتا ھے؟
دماغ… نہیں سند اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی انسان نے ادارے کے مقرر کردہ امتحانات پاس کیے ھیں . کیسے کیے؟ اس کے لیے درست یا غلط کون سی راہ چنی وہ الگ بات ھے . ہاں یہ ضرور ھے کہ پڑھے لکھے بغیر سند کم ہی لوگ لے پاتے ہیں .
دل نے نتیجے پر چھلانگ لگا دی ..گویا سند حاصل کرنے والا اچھا لکھاری ہوتا ہے!

دماغ نے ٹوکا ..نہیں ہر گز نہیں. لکھنا خداداد صلاحیت ،علم و آگہی حساس دل، مضبوط قوت فیصلہ ،بہترین مشاھدہ ،عمدہ یادداشت کے ساتھ اپنے خیالات کو الفاظ سے تجسیم کرنے کا نام ہے . یہ چنیدہ لوگ ہوتے ہیں.

دل پژمردہ لہجے میں بڑبڑایا . اسکا مطلب یہ ھوا میری خواھش کبھی نھیں پوری ھو سکتی؟

دماغ کو یکدم جوش آیا ،دل کی پژمردگی اس س سے سہی نہ گئی . خم ٹھونک کر کھڑا ہوا.نہیں اور تقریر کرنے کے انداز میں پکارا

ایسا نہیں ھے .اگر تم پوری استقامت اور شدت سے مجھے طاقت دینے کا وعدہ کرو تو میں پڑھتا اور علم حاصل کرتا رہوں گا . دیکھنا ایک دن آئے گا جب ہم لکھنے کے قابل ضرور ھو جائینگے .

دل تو سر خوشی کے عالم میں دماغ کو تاکید کی … میں لاعلم ہوں کہ تم کس سے متاثر ھو لیکن تمہاری وجہ سے میں جن ہستیوں سے متاثر ہوا ہوں پلیز انکا ساتھ کبھی مت چھوڑنا.انکو پڑھتے اور محسوس کرتے رھنا. کیوںکہ وہ باکمال لوگ ھیں.
دماغ نے حسب عادت دل کی فرمائش پر عقل کے گھوڑے دوڑائے اور پھر مسکرا کر بولا جو تمہیں چھو جائے اس سے تعلق توڑنا ممکن ہی کب ہے. میں بھی اسی کا ہوں..جس کے تم ھو.مبارک

فیس بک تبصرے