حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

جلدباز:نجم السحر خالد

.
آج پھر ایک کہانی سناتی ہوں۔۔۔
کہانی ہے ایک لڑکی کی۔۔۔
کون تھی وہ اور کیا تھی وہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
لیکن پھر بھی اپنی سہولت کے لئے اس کو ایک نام دیتے ہیں۔۔۔۔
” مایا ”
مایا اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی جو شادی کے کئی سال کے بعد پیدا ہوئی۔۔۔۔ یوں تو اس کی ولادت پر اس کے ماں باپ کو بےحد خوش ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ فکر اور پریشانی سے انکے چہرے مرجھائے جارہے تھے۔ دراصل ڈاکٹرز نے انکو یہ کہہ دیا تھا کہ یہ بچی شاید جاں بر نا ہوسکے کیونکہ قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے اس کے پھیپھڑے صحیح سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ اس ہی لیے اس کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔ ہمیں اس کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا پڑے گا۔ یہ وقت اس کے ماں باپ کے لئے مشکل ترین وقت تھا۔ اس وقت جو ان سے بن پڑا انھوں نے کیا، دعا سے لے کر دوا تک۔ مایا کی ماں اپنی زچگی کی ضعیفی کو نظر انداز کیے گھنٹوں ایک ہی رخ پہ بیٹھی رہتی اور اپنے رب کے آگے گڑگڑاتی رہتی۔ ایک بار تو اس کی اپنی ماں نے روتے ہوئے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے اور اس سے کہا ” میری بچی زرا آرام کرلے، تھوڑا صبر کر جا میری جان، اپنی اس چند دن کی بچی کی محبت میں۔ تم میری نازوں پلی جوان جہان بچی کو اذیت میں ڈال کر کیوں میری ممتا چھنی کرتی ہو۔ شکر کرو کے تم دونوں میاں بیوی میں الحمد اللہ رب نے کوئی کمی نہیں رکھی۔ اللہ اس معصوم جان کو زندگی دے لیکن اگر ربِ کریم کی مرضی آزمائش کی ہی ہوئی تو اس پہ ثابت قدم رہنے کا حوصلہ تو رکھو۔” یہ سن کر مایا کی ماں لرز گئی اور اپنی ماں کے دونوں ہاتھ تھام کر بولی ” اف امی جان مجھے معاف کر دیں میں نے اپنی ممتا میں خود غرض ہو کر انجانے میں آپ کو تکلیف دی۔۔۔۔” پھر ایک لمحے بعد ہی اپنا چہرہ صاف کیا اور مسکرا کر بولی: ” آپ ٹھیک کہتیں تھیں امی، کہ جب ماں بنو گی تو پتہ چلے گا۔ اولاد بڑی احسان فراموش اور خود غرض ہوتی ہے۔ اب مجھے ہی دیکھیں میں اپنی پریشانی میں آپ کی تکلیف بھول گئی اور میری بیٹی تو مجھ سے بھی آگئے ہے۔ احسان فراموش بھی ہے خود غرض بھی اور تو اور جلد باز بھی پہلے جو کوکھ اس کی جائے پناہ تھی وہاں ہلچل مچا کے رکھی کے دنیا میں آنے کی جلدی تھی اب آگئی ہے تو اس جلد باز کو جانے کی جلدی ہے۔ میں نے آپ کو بڑا تنگ کیا تھا نا اس کی سزا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر دونوں ماں بیٹی کھکھلا کے ہنس دیں اور ایک دوسرے کو زور سے بھینچ لیا۔ آخر اب آنسو بھی تو چھپانے تھے۔۔۔
کہتے ہیں دعا تقدیر بدل دیتی ہے۔ تو ماں باپ کی دعاؤں کے صدقے میں خدا نے بھی مایا کی تقدیر کو بدل دیا اور اس کو زندگی نواز دی۔ بڑی دھوم دھام سے اسکا عقیقہ کیا گیا اور اس کا نام “مایا” رکھا گیا۔۔۔
اب وہ جیسے اپنے ماں باپ کے ہاتھ کا چھالا تھی۔ مایا کے والدین اس کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ اتنا خیال کہ اس کی ہلکی سے تکلیف بھی ان کو بے چین کر دیا کرتی تھی۔ وہ مایا کو ہر تکلیف ہر غم اور ہر مشکل سے بچانا چاہتے تھے۔ مایا کے اوپر ہر اس چیز کی پابندی تھی جو اس کی ہم جماعت لڑکیوں کے لیے اس عمر میں بہت عام سی باتیں تھیں۔ کسی سہیلی کے گھر آنے جانے سے، فون رسیو کرنے سے حتیٰ کہ مایا کو دروازے پر جانا بھی منع تھا۔ اسکول پیکنگ پے جانا لپسٹک لگانا یا نئے فیشن کے کپڑے پہننا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ اس کی فیملی بہت دقیانوسی تھی بس وہ لوگ محتاط زیادہ تھے۔ کیونکہ ان کے لئے ان کی بیٹی انکا سب سے قیمتی سرمایہ تھی۔ جس کو وہ زمانے کی ہلکی سی سرد و گرم سے بھی بچا کے رکھنا چاہتے تھے۔ مایا ایک بہت اچھی اور سلجھی ہوئی بچی تھی۔ مگر جب اس نے اپنے اور اپنی کلاس فیلو لڑکیوں کے رہن سہن کے درمیان اتنا فرق دیکھا تو اس کے مزاج میں چڑچڑاپن اور بغاوت پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ جتنا اس کا خیال رکھا جاتا اتنا ہی وہ اپنی ذات سے لاپرواہ ہوتی جاتی۔ پھر ایک وقت آیا کہ اس کے اسکول میں اس کے کئی نام مشہور ہوگئے۔۔۔ ضدی، اکھڑو ، مغرور، spoiled brat ، tom boy, بد تمیز، پاگل، بے وقوف ۔۔۔۔ مگر مایا اس قدر لاپرواہ ہو چکی تھی کہ اس کو اب کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ اس کو کیا کہتے ہیں، اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ نا ہی اس نے کبھی اپنی صفائی دینے کی کوشش کی۔۔۔۔ اگرچہ وہ یہ بھی بہت اچھی طرح سے جانتی تھی کے جو گنتی کی دو تین اسکی خاص سہیلیاں ہیں وہ بھی اس کے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہیں۔ ایک وقت آیا مایا نے ہجوم سے بھاگنا شروع کردیا۔ وہ اکیلے اپنے آپ کے ساتھ زیادہ خوش رہتی تھی۔۔۔
مایا کے لیے اسکول کا ہر دن ایک نارمل دن نہیں ہوتا تھا کچھ دن اس کے لیے انتہائی اذیت ناک ہوتے تھے۔ آج بھی ایسا ہی دن تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ اس کی کلاس کے لڑکے نے ٹیچر سے آنکھ بچا کے اس کو چاک کھینچ کر ماری۔ مایا کو ایک دم غصہ آ گیا اور بجائے اس کے کہ وہ اس چیز کی شکایت اپنی ٹیچر سے کرتی اس نے وہ چاک واپس اس لڑکے کے منہ پر کھینچ کے ماری۔ ٹیچر جو اس وقت تختہ سیاہ پہ کیمسٹری کے سوال سمجھا رہیں تھیں۔ لڑکے کی حرکت تو دیکھ نہیں پائیں مگر مایا کی حرکت ان کو فورا نظر آ گئی۔ انہوں نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور نہ کوئی سوال پوچھا بلکہ ایک زناٹے دار تھپڑ مایا کہ منہ پر مارا۔۔۔۔ اف۔۔۔۔۔!! نوویں جماعت کی لڑکی اور چہرے پہ چانٹا۔۔۔
احساسِ شرمندگی ، شدید غم، غصہ اور اذیت کی وہ کیفیت ہے جو بیان نہ کی جاسکے ۔۔۔۔ مایا نے کس مشکل سے وہ دن کاٹا اور کیسے واپس اپنے گھر پہنچی وہ خود نہیں جانتی۔۔۔۔۔
وہ اُسی کیفیت میں گھر واپس آئی اور دیکھا کے اس کے کزن جو عمر میں اس سے کچھ سال بڑے تھے اور ایک گلی چھوڑ کر اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ اس کے گھر کے فون پہ کسی سے بات کر رہے ہیں۔ تو وہ اور بھی الجھ گئی۔ وہ اپنی چچی کو فون کر کے آج کے دن کی تمام روداد سنانا چاہتی تھی۔ پورے خاندان میں صرف ایک وہی خاتون تھیں جن سے مایا بہت اٹیچ تھی اور ان سے اپنی ہر بات شیئر کرتی تھی ۔۔۔
اپنے کزن کو ایسے اپنے گھر کا فون استعمال کرتے دیکھ کر مایا بہت چڑ جاتی تھی۔ اس ہی بات پہ اس کی کئی دفعہ اپنی امی سے
بحث ہوچکی تھی
کہ کیا مصیبت ہے یہ روز ہمارے گھر کا فون استعمال کرنے کیوں آجاتے ہیں اپنے گھر کا فون استعمال کیوں نہیں کرتے…
اس زمانے میں موبائل فون اتنے عام نہیں تھے۔
مایا کی امی نے ہاتھ جوڑ کے اس کو اس وقت خاموش رہنے کے لئے کہا۔
مایا اس وقت تو خاموش ہو گئی لیکن جب پورے دو گھنٹے انتظار کے بعد اس کے کزن نے ٹیلی فون کی جان چھوڑی تو وہ دانت پیستی ہوئی اٹھی اور چچی کو فون کرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ مگر جیسے ہی ریسیور اٹھایا تو خون کھول گیا اور جان جل کے خاک ہو گئی ٹیلی فون کراس کنیکٹڈ تھا اور وہ دوسری طرف دو لوگوں کو بات کرتے باآسانی سن سکتی تھی۔ ( جن لوگوں نے پی ٹی سی ایل کے وہ فون استعمال کئے ہیں اور 96/97 میں پی ٹی سی ایل کی سروسز سے واقف ہیں وہ میری بات سمجھ جائیں گے۔ کھمبے پر ٹیلی فون کے تاریں جب آپس میں بری طرح الجھ جاتیں ہیں تو کبھی کبھار آپ اپنے فون سے دوسرے کے گھر فون پہ کیا باتیں ہو رہی ہیں سب کچھ سن سکتے ہیں۔ ایسے ہی مایا کا فون بھی کراس کنیکٹڈ ہوتا تھا اپنی کلاس فیلوز فرحت اور مدحت جو کہ جڑواں بہنیں ہیں کے گھر کے فون سے۔ فرحت اور مدحت مایا کی دوست نہیں تھی۔ بس ہیلو ہائے کا رشتہ تھا)۔ مایا نے رسیور دوبارہ پٹاخ کے واپس رکھ دیا اور اپنے کمرے میں جا کے اوندھے منہ لیٹ گئی۔ غم اور غصے کی کیفیت بہت شدید تھی اس کے باوجود جلد ہی نیند کی آغوش میں چلی گئی صبح اپنی امی کہ بہت کہنے پر بھی اسکول نہیں گئی۔ ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی کسی کا سامنا کرنے کی۔ مگر آخر کب تک اسکول کی چھٹی کرتی کہ ان غیر حاضریوں سے کچھ بدلنے والا نہیں تھا۔ صرف اس کے اوپر ان چھٹیوں کے نتیجے میں جمع ہوجانے والا کام ایک بوجھ کی طرح آ پڑتا۔ ایک دن کی چھٹی کے بعد جب مایا اسکول گئی تو اس نے محسوس کیا آج تو اس کی سو کالڈ سہیلیاں بھی اس سے کٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کوئی اس کے ساتھ سیٹ شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ مایا شروع میں تو تھوڑا پریشان ہوئی پھر اس نے کان پہ سے مکھی کی طرح اس بات کو اڑا دیا۔۔۔ دن گزرتے گئے اور مایا سے سب ہی لوگ دور ہوتے گئے۔ دو سال پرلگا کے اڑ گئے آج مایا اپنی ٹیچر کی طرف سے تمام میڑک کے اسٹوڈینس کو دی گئی پارٹی میں مدعو تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس نے یہاں بھی ایک نسبتاً خاموش کونا ڈھونڈا مگر وہ کچھ فاصلے پر بیٹھی اپنی کلاس فیلوز کی بات سن سکتی تھی۔
فرحت: ” ارے زارا تم کو پتہ ہے… مایا کا نا چکر چل رہا ہے… ”
زارا: ” ارے سچ بتاو ”
فرحت: “اور نہیں تو کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں…”
کسی اور لڑکی نے پوچھا: ” (اب سب کو ہی مایا کے چکر کے بارے میں جاننے کی جلدی تھی) تم کو کیسے پتہ چلا…. ”
فرحت: ” وہ ایسے کے ہمارے ٹیلی فون کی لائنز کا اکثر آپس میں کراس کنیکشن لگ جاتا ہے۔ تو میں نے خود مایا کو ایک لڑکے سے بات کرتے ہوئے سنا ہے ۔۔۔۔ ایسی باتیں ایسی باتیں کے بس….”
فرح: ” ارے تو تم کو یہ کیسے یقین ہے کے وہ مایا ہی تھی…. ؟؟”
فرحت: “ارے بابا مجھے یہ پتہ ہے کے ہمارے گھر کے فون آپس میں کراس ہو جاتے ہیں اور مایا اپنے گھر میں اکلوتی لڑکی ہے۔ اب اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا اس بات کا۔۔۔۔۔ اب ایسی حرکت اس کے امی اور ابا تو کرنے سے رہے ۔۔۔ اور کسی باہر کے شخص کو کیا پڑی ہے کہ وہ آ کر اس کے گھر سے فون کرے ۔۔۔۔ ہنہہ۔۔۔۔۔ !! ”
فرحت اور بھی نجانے کیا کیا بول رہی تھی مگر مایا کے لیے ہفت آسمان گردش میں آگئے تھے۔ وہ گھر کیسے پہنچی اسے کچھ پتہ نہیں ۔۔۔ بس اتنا یاد تھا کے گھر پہنچی تو پسینے میں شرابور تھی، جسم بری طرح کانپ رہا تھا وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ اس کے ماں باپ حیران تھے کے ان کے خیال میں کیا کمی رہ گئی کے جو لڑکی کبھی کسی بات پہ نہیں روئی آج بن بات روتی ہی جارہی ہے…. مایا نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کرلیا۔ اسکے ماں باپ نے بہت کوشش کی بہت منتیں کیں مگر مایا نے دروازہ نہیں کھولا۔ آخر کار دروازہ توڑا گیا تو مایا اپنی دونوں کلایوں کو کاٹ کے ہر تہمت اور الزام سے آزاد ہو چکی تھی۔ جلد باز کہیں کی

فیس بک تبصرے