حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

مہنگائی کا جن : حیدر جاوید سید

۔
سیاست کی گرما گرمی‘ این آر او ڈیل یا ڈھیل کی ہا ہا کاری سے بندھے سماں میں جس چیز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ مسائل کا سورج سوا نیزے پر ہے۔
ہلکی پھلکی بارشوں نے موسم کو مزید سرد تو کردیا لیکن بازار میں سبزیوں ‘ دالوں اور دوسری اشیاء صرف کے نرخ سن کر خریداروں کی گردنیں پسینے میں بھیگ جاتی ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کے ووٹروں کی اکثریت لوئر مڈل اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں ہر کس و نا کس مہنگائی کے سونامی پر ہوتے سوال کے جواب میں فرماتا ہے ’ چور ملک کو کھا گئے‘‘
کل ایک انصافی دوست نے سنجیدگی کے ساتھ کہا حکومت پر تنقید کرنے سے مہنگائی کم نہیں ہوگی۔
عرض کیا پھر کیا کریں؟
جواب ملا دو وقت کی بجائے ایک وقت کھانا کھایا کریں مہنگائی کابوجھ کم ہوگا۔
فقیر راحموں نے کہا انصافی بھیا! جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے ایک وقت روٹی بھی مشکل سے کھا رہے ہوں وہ پھر روزے رکھ لیں؟
جواب ملا پیپلز پارٹی کی محبت نہیں نکلتی تمہارے اندر سے۔ اب کر لیں جو کرنا ہے۔
مکرر عرض ہے پچھلے چھ ماہ کے دوران مہنگائی نے آواز سے تیز رفتار طیارے کی طرح سفر کیا۔ یوٹیلٹی بلوں نے مت مار دی ہے۔
ایک عزیز پریشانی کے عالم میں تشریف لائے‘ چائے پانی سے کچھ سانسیں بحال ہوئیں تو بولے‘ کس کے دروازے پر فریاد کریں‘
دریافت کرنے پر بتایا کہ چند ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی اہلیہ کی پنشن تین ماہ سے بند ہے کیونکہ ایک سابق ضلع ناظم نے اپنے دور میں پنشنروں کے لئے مختص فنڈز نکلوا کر خوب عیاشی فرمائی۔ ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا وہ تو پیر ہیں‘ لاکھوں مریدوں کی حاجات پوری کرتے ہیں پنشنرزز مل کر ان سے درخواست کریں وہ دعا کریں گے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ عزیز نے غصہ دباتے ہوئے کہا توہین پیراں نہ ہو تو کہوں پیروں کے پیٹ نہیں بھرتے۔
اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے بولے بجلی کا بل دس ہزار اور سوئی گیس کا بارہ ہزار روپے آیا ہے۔ بتائیں کیا میرے تین مرلے کے گھر میں کارخانہ لگا ہوا ے؟
انہیں کیا جواب دیتا یہی عرض کرسکا گھر گھر کی کہانی یہی ہے ،مہنگائی کا جن بے قابو سانڈھ کی طرح روندنے میں جُتا ہے۔
لوئر مڈل اور مڈل کلاس کی نمائندہ حکومت کے اور مسائل بہت ہیں مسائل بھی ہیں اور لطیفے بھی ایک وفاقی وزیر کہتے ہیں شریف فیملی 5ارب ڈالر اور زرداری 10ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ دوسرے وفاقی وزیر کادعویٰ ہے شریف خاندان 12ارب روپے اور زرداری 10ارب روپے دینے کو تیار ہیں مگر ہم سودے بازی نہیں کریں گے۔
فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی ان وزیروں سے کہیں رقم کے معاملے میں تو کم از کم یک زبان ہوجائیں۔
ہمارے محبوب رہنما عمران خان نے دو روز قبل پھر سے سوئس بینکوں میں پڑے 200ارب ڈالر کی کہانی سنائی۔ لگتا ہے انہوں نے اپنے وزیر خزانہ اسد عمر کا وہ ٹی وی پروگرام نہیں سنا جس میں انہوں نے کہا تھا ’’200ارب ڈالر والی کہانیاں صرف کہانیاں تھیں‘‘۔
200 ارب ڈالر پر ہمیں وفاقی وزیر مراد سعید یاد آگئے لیکن جانے دیجئے انصافی دوست ناراض ہوتے ہیں ویسے آج کل حکومت پر تنقید کرنے والے اخبار نویسوں کو عجیب و غریب گالیاں سننا پڑتی ہیں۔
بات وہیں سے شروع کرتے ہیں مہنگائی کی بدترین شرح نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے بجا ہے کہ حکومت یوٹیلٹی بلوں پر سبسڈی نہیں دے سکتی مگر بجلی و گیس کے نرخوں کو اعتدال پر تو رکھ سکتی تھی برا ہو آئی ایم ایف سے اندر کھاتے طے پانے والے معاملات کے گیس کے نرخوں میں 147فیصد تک اضافہ کردیاگیا
بجلی کی قیمت میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر نیا اضافہ ہوا ہے کاروبار مندے کا شکار ہیں۔ آمدنی کے ذرائع اخراجات کے مقابلہ میں کم ہیں
یہ وہ حالات ہیں جن سے عام آدمی دوچار ہے وہ عام آدمی جس کی اوسط روزانہ آمدنی اڑھائی سے تین امریکی ڈالر کے مساوی ہے ۔
تنخواہ دار طبقے کی حالت ان سے بھی پتلی ہے ۔
پنجاب میں سب سے بُرے حالات پینشنروں کے ہیں خصوصاً بلدیاتی اداروں کے پنشنروں کے۔ حکومت کے پاس صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے نئے سربراہوں کے لیے گاڑیاں خریدنے کے پیسے ہیں مگر پنشنروں کے لیے نہیں۔
اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مٹن گیارہ سو روپے کلو اور بیف چھ سو روپے کلوہے اروی نامی سبزی 180 روپے کلو، ایک لہوری دوست نے اگلے روز کہا شکر ہے داتا گنج بخشؒ کی خانقاہ کی بدولت ہزاروں خاندانوں کا بھرم رہ جاتا ہے۔
بات تو اس کی درست ہے لیکن ڈیڑھ کروڑ کی آبادی داتا صاحب کے باہرلنگر کی لائن میں تو نہیں لگ سکتی۔
مزارات پر زائرین کے لیے لنگر کی دیگیں تیار کروانے والے ایک صاحب کہہ رہے تھے پہلے ہم روزانہ 80سے 100دیگیں تیار کر کے تقسیم کرنے والوں کو فروخت کرتے تھے اب اوسطاً 30 سے 50دیگیں تیار کرواتے ہیں۔ کمی کی وجہ دریافت کی تو بولے ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے پہلے جو دیگ چار ساڑھے چارہزار روپے میں تیار ہوتی تھی اب چھ ہزار روپے میں تیار ہوتی ہے ہم500روپے منافع رکھیں تو ساڑھے چھ ہزار خریداروں کی قوت خرید ہی نہیں رہی۔
یہ عمومی صورتحال ہے سوال یہ ہے کہ کیا اہل اقتدار کے پاس سماج کے نچلے طبقوں کی حالت بہتر بنانے کا کوئی پروگرام اور سوچ ہے یا انہیں خدا کے آسرے پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے؟۔
مناسب یہی ہے کہ حکومت دوکام فوری طور پر کرے اولاً مہنگائی کو کم کرائے اور ثانیاًلوگوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرے۔

فیس بک تبصرے