حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

ان” کا کدو :مطربہ شیخ”

.
بارے دنیا میں رہو غم زدہ رہو یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت شاد رہو

میٹرک کے کورس میں میر تقی میر کا یہ شعر پڑھ کر “ان ” کو دنیا میں اودھم مچا دینے کا جوش چڑھا اور اشعار لکھ لکھ ڈائریاں سیاہ کر ڈالی گیئں ۔ لیکن “ان “خود سے ایک شعر بھی نہ بنا سکے بس تک بندی تک ہی تکے لگتے رہے
یونیورسٹی میں جانے کے بعد” ان” سوچا کئے کہ کیسے کیسے نابغے دنیا سے گزر گئے چین تک چلے گئے حالانکہ اس وقت شاہراہ قراقرم بھی نہیں تھی نہ جانے کیسے جاتے ہونگے “ان ” کو تو لالو کھیت سے یونیورسٹی آنے کے لئے پوائنٹ تک نہیں ملتا تھا عوام الناس کو انگوٹھے دکھا دکھا کر عوام کی سائیکل کے کیریر پر براجمان ہو کر “ان” یونیورسٹی پہنچ جاتے پھر سیدھی قطار میں لگ کر رینجرز کو کارڈ چیک کراتے اور کلاس میں گھس جاتے جہاں “ان ” کو کوئ پوچھتا نہ تھا سب کی اپنی اپنی دنیا اور اپنے اپنے خواب تھے “ان ” بے چارے ٹکر ٹکر سب کی صورتیاں دیکھا کرتے اور باتاں سنا کرتے ۔
پلک جھپکنے میں تعلیمی سال گزر گئے “ان ” ڈگری ذدہ ہو کر پھولے نہ سمائے اور سوچا کئے کہ اب تو کوئ کارنامہ انجام دے لیں گے لیکن وائے قسمت کہ کارنامہ تو دور کی بات “ان” کو تو نوکری مل کر نہ دی ،حالانکہ سننے میں تو آیا تھا کہ ملک کے ایک اونچے پہاڑ پر ایک کھرب درخت اگے ہیں اور آس پاس ایک کڑور نوکریاں بھی پھری ہووے ہیں لیکن “ان” کے پاس تو پہاڑ پر چڑھنے کی ہمت نہ تھی ،کئ بار کوشش کی کہ پہاڑ پر جا کر دیکھ لیں لیکن چڑھتے سمے سانس پھولنے لگتا اور ٹانگیں بے جان ہو جاتیں، ناچار واپس لڑھک آتے اور مایوسی سے چی چی کرنے لگتے ۔”ان” کے ابا نے ایک دن پوچھ ہی لیا میاں صاحبزادے کیا ارادے ہیں کب تک مفت کی روٹیاں توڑیں گے “ان” شرمندہ سے ہو گئے اور سی وی اٹھا گھر سے باہر نکل لئے راستے میں ایک ڈھابہ ہوٹل پر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ ایسا کیا کر جائیں یاں کہ ہم بھی شاد ہوں اور عوام الناس کو بھی شاد کر سکیں ،کاش اناڑی ہی ہو جاتے کسی کھلاڑی کی نظر کرم پڑ جاتی اور ہم چاک گریبان و دامن کے ساتھ سرکاری دفاتر میں منڈلاتے اور مسکاتے پھرتے لیکن وائے ری قسمت کہ “ان” کے “ان”رہ گئے انہی سوچوں میں غلطاں تھے کہ پاس ایک صاحب آ بیٹھے ، صورت سے باوقار اور رعب دار دکھائ پڑتے تھے کہنے لگے میاں کچھ اداس دکھتے ہو گو کہ آجکل کے دور میں کوئ کسی کو پوچھتا نہیں لیکن تمھاری شکل پر کچھ اتنی “انہونیت”برس رہی ہے کہ ہمارا نرم دل بے ساختہ چاہنے لگا کہ اس” انہونیت “کو تمھاری شکل سے جھاڑ دیں ۔”ان ” نے نم دیدہ ہو کر دکھڑا کہہ سنایا ، باوقار صاحب نے اپنی تنومند گردن ہلائ اور گویا ہوئے ، میں اس شہر ناپرساں کا ایک ادنی آدم زاد ہوں حقیقت میری یہ ہے کہ شہر میں تمھاری جیسی انہونیت برستی صورتوں کو روزگار فراہم کرتا ہوں “ان “نے جذباتی ہو کر باوقار صاحب کے ہاتھ چوم لئے ،میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں آپ حکم کیجئے بس ، باوقار نے “ان ” کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لے چلے ۔ ایک شاندار عمارت کے سامنے ، جہاں بہت سے آدم زاد اپنے اپنے کاغذات لئے کھڑے تھے ،جا کر گھل مل گئے ۔”ان” سب کی صورت تکا کئے ،چند خوش گپیوں کے بعد باوقار بھائ نے” ان “کا ہاتھ پکڑا اور عمارت میں گھس گئے ، عمارت میں کھوا سے کھوا چل رہا تھا “ان” حیرت ذدہ دیکھتے جاتے ایک بڑے ہال میں باوقار جا کر رک گئے بہت سے انہونی صورتیاں والے قطار لگائے کھڑے تھے، باوقار نے “ان” کو بھی قطار میں گھسا دیا ،قطار آہستہ آہستہ آگے کھسکتی رہی جب “ان” کی باری آئ تو دیکھا کئے کہ ایک مرد مومن چہرہ جس کا روٹی کی طریو بالکل گول ،رنگت میدے جیسی ،آنکھیں انرجی سیور کی طرح روشن ہیں مختلف سبزیوں ۔اناج اور پھلوں کا انبار سامنے رکھا بیٹھا ہے “ان” کی صورت دیکھ کر زور سے کھنکھارا اور ایک ہرا بھرا کدو اٹھا کر “ان” کی طرف اچھال دیا جس کو “ان” نے بہ مشکل سنبھالا ۔ روٹی صورت مرد مومن گویا ہوئے میاں بس تم کو یہی ملے گا ہمارے در سے کہ تم سے بس کدو ہی سنبھل سکتا ہے ، پچھلے امیدوار نے “ان ” کو دھکیلا کہ بس اب ہماری باری ہے ۔
“ان” حیران پریشان سے باہر آئے باوقار صاحب نے “ان”کو دیکھ کر اپنا بڑا سا سر ہلایا ہونہہ تو یہ ملا ہے “ان” نے کہا اس کدو کا میں کیا کروں گا بھلا ۔ باوقار صاحب گویا ہوئے دیکھو میاں ملک کے سب سے بڑے شہر میں تم رہتے ہو یہ کدو بھی اس شہر کی ایک نعمت ہے ، مرد مومن کی دی گئ اس سبزی میں کئ اشارے ہیں ،اس کو مختلف طریقوں سے پکائے لیو، اور دیگچیاں ٹھیلے پر رکھ کر کسی بھی سڑک کنارے کھڑے ہو جاو ،پچاس روپے فی پلیٹ نرخ لگاو اور باعزت روزگار کماو ،لیکن میرے پاس ماسٹرز ڈگری ہے
“ان “چلائے، باوقار کھکھلا کر ہنسے اور بولے پھر تو اور بھی اچھا ہے ماسٹر باورچی کے ہاتھ کی بنی کدو کی سبزی اور دالچہ زیا دہ بکے گا ،عوام تمھارے کاروبار میں برکت عطا کرے ،میرا کام بس یہیں تک تھا، اب مجھے طیارے بیچنے کو گاہک سے مول تول کرنا ہیں ،اور ملک میں نئ تاریخ رقم کرنی ہے ۔ یہ کہہ کر باوقار یہ جاوہ جا ، “ان” کدو ہاتھ میں پکڑے کھڑے رہ گئے اور شہر کی سڑکیں ناپتے گھر آ گئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی انکے نظر ٹی وی پر چلنے والی خبر پر پڑی ۔ نیوز کاسٹر بتا رہی تھی کہ ملک کے وزراء نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں بذات خود اضافہ کروا لیا ہے ۔ “ان ” نے بہت غور سے خبر دیکھی سنی اور کدو کو سنبھال کر نعمت خانے میں رکھ دیا ۔

فیس بک تبصرے