حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

علم اور تعلیم – شیراز شوکت

دیکھنے پڑھنے میں دونوں کا ایک ہی معنی لیا جاتا ہے لیکن دونوں کا مطلب الگ الگ ہے۔
تعلیم وہ ہے جو ہم زمانے کے لیے حاصل کرتے ہیں اپنی دنیا کمانے کے لیے۔جو کتاب سے ماخوذ ہو۔
علم وہ ہے جو زمانے کے استادوں سے حاصل کیا جاتا ہے
کسی پیغمبر کے پاس کوٸی تعلیم نہیں ہوتی تھی۔انکے پاس علم آتا تھا جو مکمل اور جامع ہوتا تھا
علم ہوتا ہی وہ ہے جو جامع اور مکمل ہو اس میں کسی طرح کی کوٸی کمی بیشی نہ ہو بلکہ اس میں سے لوگوں کی رہنماٸی کے لیے آگے مزید علوم نکلیں۔

پیر سیّد وارث شاہؒ , بابا بلھے شاہؒ اور دوسرے بہت سے صوفیأ نے کسی طرح کی کوٸی تعلیمی ڈگری حاصل نہیں کی کیونکہ ان کے پاس بس علم موجود تھا
لیکن ان سب کو یہ سعادت حاصل ہے کہ ان کو پڑھے بنا کوٸی شخص ایم ۔ اے کی ڈگری نہیں لے سکتا۔

بقول واصف علیؒ

”علم کا مخرج نگاہ اور مدفن کتاب ھے“
علم کی خاصیت ہی یہ ہے کہ بلاواسطہ نازل ہو۔جب تک یہ نازل ہوتا رہے گا تب تک زندہ رہے گا لیکن جب آپ اسے کتابی شکل میں لے آٸیں گے تو سمجھیں آپ نے اسے دفن کر دیا

یہاں تک کہ مولانا رومؒ قرآن پاک کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

”ھم نے قرآن کا مغز کھایا اور ہڈیاں دنیاداروں کے آگے پھینک دیں جس پہ یہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں“

کتابی علم یاداشت کے لیے ہوتا ھے تاکہ اس سے حوالہ لیا جا سکے جبکہ اصل علم وہی ہے جو نگاہ سے دل میں اترتا ھے۔

شاہ شمس تبریزؒ نے جب مولانا روم کی کتابیں پانی کے تالاب میں پھینکیں تو مولانا نے آزردہ ہو کر کہا کہ میری ساری عمر کی کماٸی ضاٸع کر دی سارا علم بہا دیا
تو شاہ شمس تبریزؒ نے فرمایا
وہ کونسا علم تھا جو ضاٸع ہو جاۓ۔علم تو وہ ہے جو سینے میں مخفوظ رہے نہ کہ کتابوں میں۔۔
اسی لیے لوگ آج ہر میدان میں دوسروں سے پیچھے ہیں کہ ہم نے اپنی کتاب قرآن مجید کو بھی بس ثواب دارین کی کتاب بنا لیا ہے کہ کوٸی فوت ہو گیا تو پڑھ کر روح کو بخش دی۔
ایک نازل شدہ کلام سے ہی اگر نزولی علم حاصل نہ کیا جاۓ تو سمجھیں آپ نے اس آفاقی علم کی قدر نہیں کی
کیونکہ قرآن کو سمجھنے اور پڑھنے کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ھے کہ جب اسے اس انداز سے پڑھا جاۓ جیسے کہ یہ آپ پہ نازل ہو رہا ہے۔پھر کسی کیفیت کو خود پہ طاری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
پھر جیسے کہتے ھیں نہ کہ عشق آپ رہنما ہے فقیروں کا تو پھر قرآن اپنا کام خود کرتا ہے۔
داتا صاحبؒ کا فرمان ہے کہ
ہت عارف ایک عالمِ دین ہوتا ہے
لیکن ہر عالمِ دین ایک عارف نہیں ہوتا
اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عالمِ دین مطالعہ کتب سے بنا جاتا ھے جبکہ عارف بس نگاہ سے بنتا ہے۔۔

مالک ہم سب کو صحیح معنوں میں نگاہ کا علم عطأ فرماۓ

آمین

فیس بک تبصرے

ٹیگز