حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

مذہب اور سائینس : عزیز صدیق

دیکھیے! مذہب سے متعلق کسی سائنسدان کی سٹیٹمنٹ کو ہرگز “سائنسی سٹیٹمنٹ” نہیں سمجھنا چاہیے
چاہے وہ مذہب کے حق میں ہو چاہے خلاف
اب لوگ اسٹیون ہاکنگ کو کوٹ کرتے ہیں کہ اس نے خدا کے خلاف یوں کہا اور یوں کہا
مجھے بتائیں! ہاکنگ نے کونسی نئی بات کی ہے؟ اور اسکی سائنسی تو دور منطقی حیثیت کیا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں
ہاکنگ سے علمی حلقوں کا اعتبار اسی روز اٹھ گیا جب انہوں نے بچگانہ بات اپنی کتاب grand design کے صفحہ 5 پر لکھی کہ ” فلسفہ مر چکا ہے”
بھلا بتاؤ ! فلسفہ بھی مر سکتا ہے کیا؟
بھئی! سائنس پر جتنے احسان فیریڈے اور میکسویل جیسے سائنسدانوں کے ہیں اتنے ہی کارل پوپر اور تھامس کوہن جیسے فلسفیوں کے بھی ہیں
[ ہاکنگ پر تفصیلی گفتگو پگر سہی اور اگر آپ خود مطالعہ کرنا چاہیں تو آکسفورڈ یونیورسٹی کے مایہ ناز ریاضی دان اور عیسائی اسکالر John Lennox کی کتاب “Hawking and qusstion of God” پڑھ لیں] ۔
بیسویں صدی کے ٹاپ 10 میں سے ایک ریاضی دان تھے G. H. Hardy اور ہارڈی نے اپنی ڈائری پر نئے سال میں کچھ گولز لکھے تھے کہ اس سال یہ یہ کام کرنے ہیں ۔ اس میں ایک گول تھا کہ ” اس سال خدا کے نہ ہونے کی سب سے اعلٰی دلیل تلاش کرنی ہے”
اب یہ ایک atheistic گول تھا یا mathematical ؟
سیدھی سی بات ہے، ایتھیسٹک
۔
دوسری جانب دیکھیے! سر آئزک نیوٹن ہماری پوری فزکس کی جان ہیں ۔ ان کے بنا ہم ادھورے ہیں ۔ نیوٹن کے تین لاز جس کو نہ آتے ہوں اسکو کون بھلا ماہرِ طبیعیات تو دور ایک ادنی سا طالبِ علم بھی مانے گا ۔ مھر سر آئزک نیوٹن چونکہ کٹر عیسائی تھے اس لیے جو انکی “مذہبی بنیادوں ” پر ہیشنگوئیاں ہیں انکو آج تک کوئی سیریس نہیں لیتا ۔ مثلا سر آئزک نیوٹن کے مطابق دنیا 2060 ء میں تباہ ہو جائے گی ۔ پر اسکا حوالہ وہ سائنسی نہیں بلکہ بائیبل کا دیتے ہیں تو اسکو کوئی بھی سیریس نہیں لیتا اور نہ ہی سائنس کی کتابوں میں پڑھا پڑھایا جاتا
اس غلط فہمی کو ذہن سے نکال دیں کہ سائنسدان کوئی روبوٹ یوتا ہے جو ہر بات سائنسی کرتا ہے ۔ بھئی ! وہ بھی مجھ آپکی طرح ہزاروں لغو اسٹیٹمنٹس بھی دیتا رہتا ہے اور سائنس کا حسن یہ ہے کہ سائنس پر اسکا اثر ذرہ برابر نہیں پڑتا

فیس بک تبصرے