حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

ہماری عیدین-راؤ عمر فاروق

ہر مذہب ہر قوم کے کچھ خاص تہوار ہوتے ہیں جن میں وہ بحیثت قوم خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ان تہواروں کو جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور وہ تہوار اس مذہب یا قوم کی شناخت ہوا کرتے ہیں۔ اور وہ مذہب یا قوم اس تہوار کو منانے کی کوئی وجہ یا جواز رکھتی ہے۔ جس کا تعلق گزشتہ کسی واقعہ یا کسی شخصیت سے ہوا کرتا ہے۔

جیسے ہندوؤ ہولی دیوالی کے نام سے اکتوبر یا نومبر کے درمیان میں تہوار مناتے ہیں۔ اور خوب چراغاں کرتے ہیں ہندوؤں کے نزدیک یہ دن نادانی پر عقل کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی فتح و کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح یہودی عید فسح یا عید فطیر کے نام سے تہوار مناتے ہیں جو بہار میں 15 اپریل سے شروع ہوتا ہے اور 7 دن تک جاری رہتا ہے۔یہودیوں کے مطابق یہ تہوار بنی اسرائیل کی فرعون سے نجات کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔

اور عیسائیوں کے ہاں کرسمس کے نام سے تہوار منایا جاتا ہے جو 24 دسمبر کی رات سے شروع ہو کر 25 دسمبر کی شام تک جاری رہتا ہے۔ عیسائیوں کے مطابق(گوکہ یہ بات تاریخ سے ثابت نہیں) 24 دسمبر کی شب کو حضرت عیسی علیہ سلام کی ولادت ہوئی اس کی خوشی میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

جبکہ اسلام نے مسلمانوں کو جو تہوار دیئے وہ ان سب سے مختلف ہیں اور اسلام نے جو تہوار منانے کی وجہات بیان کیں وہ بھی سب سے مختلف ہیں۔ اسلام نے اپنے تہواروں کو گزشتہ کسی خاص واقعے یا شخصیت کے ساتھ منسلک نہیں کیا بلکہ اسلام نے ان کو عبادت کے ساتھ جوڑا ہے۔ اور سن تہواروں کو بھی عبادت قرار دیا ہے۔ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں جنہیں عید الفطر اور عید الالضحی کا نام دیا گیا ہے۔

عید الفطر سے پہلے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے جس میں مسمان روزے رکھتے ہیں اور رات کو اللہ کی بارگاہ میں قیام الیل اداکرتے ہیں۔جس کے اختتام پر یکم شوال کو اللہ رب العزت کی طرف سے مسمانوں کیلئے عید کا دن قرار دیا گیا ہے۔ جو در حقیقت اس رمضان کے مہینہ کی تکمیل کی خوشی ہے۔ کہ بندگان اسلام نے پورا مہینہ بارگاہ الہی کے حکم کی بجا آوری کی اس کی تکمیل پر خوشی منائی جائے۔ اور اس تہوار کو منانے کا طریقہ بھی اسلام نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے۔ جس میں سب اہم چیز یہ ہے کہ اسلام نے غریب مسلمانوں کا خیال رکھتے ہوئے اہل ثروت حضرت کو صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ تمام مسمان مل جل عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ اور اس کے ساتھ عید کے دن کی ابتدا میں مسلمانوں کے لیے عید کی نماز کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ جو اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ خوشی میں بھی اللہ رب العزت کو یاد رکھا جائے۔ اور مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور کھانے پینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اور دوسری عید کو عید الاضحی کا نام دیا گیا ہے اسلام کا یہ تہوار بھی ایک عبادت کی تکمیل کی خوشی میں منایا جاتا ہے جسے حج بیت اللہ کا نام دیا گیا ہے یہ عید مسلمان 10 ذوالحجہ کو حج جیسی عظیم عبادت کی تکمیل کی خوشی میں مناتے ہیں۔ غرض یہ کہ اسلام نے اپنے تہواروں کو بھی دیگر اقوام عالم سے مختلف رکھا ہے اور انہیں عبادت کا درجہ دیا ہے۔

انہی تہواروں کے بارے میں پیارے آقا محبوب دو جہان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“ان لکل قوم عید و ھذا عیدنا” بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہی یہ ہماری عید ہے۔

فیس بک تبصرے
ٹیگز