حمد باری تعالیٰ

فلاں موجود تھا:سفید حیات خان

“فلاں موجود تھا؟”
میں چونکہ اکثر ملک سے باہر ہوتا ہوں اسلئے شائد میرا مشاہدہ اس سلسلے میں اس پائے کا نہ ہو جتنا ہمارے معاشرے میں تواتر سے شب و روز گزارنے والوں کا ہو،لیکن سوشل میڈیا کی توسط سے اب دنیا تقریبا سمٹ گئی ہے او دنیا کے کونے کونے سے دوست احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ لمبے اور سستے ،بلکہ مفت رابطے ممکن ھوئے ہیں۔
خاندان کے اندر او باہر کسی بھی رونما ہونے والے واقعے بشمول شادی بیاہ اور بہت سارے دوسرے اہم۔مواقع پر “سیر حاصل “گفتگو کی جاتی ہے۔
۔گفتگو کے دوران یہ سوال ضرور کیا جاتا ہے کہ فنکشن میں فلاں موجود تھا؟یہ سوال اس لئے کیا جاتا ہے چونکہ تقریبا ہر خاندان میں ایک نہ ایک ناچاقی ضرور ہوتی ہے۔بہن بھائیوں،چاچے ،مامے عرض سارے رشتوں میں کہیں نہ کہیں دراڑ پڑی رہتی ہے۔ان خوشیوں کے موقعوں پر دور دور سے مہمان مدعو ہوئے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پڑوس میں رہنے والے ہمارے خونی رشتے ہم سے میلوں کی مسافت پر ہوتے ہیں۔یہ تقریبا ہمارے معاشرے کے ہر خاندان کی کہانی ہے۔ یہی ایک موقع ہوتا ہے جس پر ان سب ناچاقیوں کو بھلا کر آپس میں بغلگیر ہونا پڑتا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داری کس کی ہے کہ ان تصفیہ طلب مسائل کا حل ڈھونڈا جائے اور رشتوں کے درمیان دوریوں کو سمیٹا جائے۔۔آج کل کے مادہ پرست دور میں محبت اور خلوص تقریبا ناپید ہوتی جارہی ہے۔اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ تھوڑا سا جھک کر ان رشتوں کو گلے لگایا جائے۔۔
یہ خاندان کے بزگوں کا فرض ہے کہ بحیثت باپ،ماموں یا چچا کے وہ آگے بڑھیں اور اپنے چھوٹوں کے درمیان محبتیں پروان چڑھائیں۔
سفید حیات خان

فیس بک تبصرے