حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

کیا حدیث بھی وحی کی قسم ہے ؟ ابو بکر قدوسی

سوال ہے کہ کیا حدیث بھی وحی کی قسم ہے ؟
مگر یہ کہ جس کی تلاوت نہیں کی جاتی –

وحی کا عمومی مفھوم یہی لیا جاتا ہے کہ کوئی فرشتہ کسی نبی کے پاس الله کا پیغام لے کے آئے – اور ایک عوامی مفھوم یہی بھی بن جاتا ہے کہ وہ وحی زمین پر آ کے نزول کے بعد کتاب کی شکل میں مدون ہوتی ہے جیسے توریت ، زبور ، انجیل اور آخر میں قران …اب ہمارے وہ دوست جو انکار حدیث کی منزلوں کے راہی ہیں یا وہ دوست جو تذبذب میں ، وہ قران کے علاوہ کسی اور وحی کا انکار کرتے ہیں –
گو اس انکار کے ساتھ دوست شریعت کے بہت سے احکامات کی تشریح کرنے سے عاجز بھی رہتے ہیں لیکن مانے نہیں دیتے –
سوال یہ ہے کہ کیا قران ، یا کتاب کے نزول کے علاوہ بھی انبیاء پر وحی ہوتی تھی ؟
توئی جواب یہ ہے کہ جی ہاں ایسا ہوتا تھا اور خود قران اس کی گواہی دیتا ہے – اب اس گواہی کے بعد راستہ ایک ہی بچتا ہے کہ قران کی اس گواہی کا بھی انکار کر دیا جائے ..
قران میں انبیاء کے جابجا واقعات ملتے ہیں کہ جب ان کو اللہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی ہدایت جاری کی گئی ، یا حکم دیا گیا …. بہت مختصر مثالیں دے کے آگے چلتے ہیں :
وَقُلْنَا ٰیاَدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ
“ہم نے آدم کو کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ”
اب “قلنا” یعنی “ہم نے کہا ” کو کیا آپ وحی نہ کہیں گے ؟
اچھا ذرا وہ بھی یاد کیجیے کہ جب موسی اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں پہنچے اور آگ دیکھی …. سورہ طہ ، قران میں ہے :
فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ يَا مُوْسٰى (11)
پھر جب وہ اس (آگ ) کے پاس آئے تو آواز آئی کہ اے موسٰی۔
اِنِّـىٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (12)
“میں تمہارا رب ہوں سو تم اپنی جوتیاں اتار دو، بے شک تم پاک وادی طوٰی میں ہو۔”
یقینا اک بار تو موسی علیہ السلام اس آواز کو سن کر گھبراۓ ہوں گے ، لیکن آگے سے مزید کہا گیا
وَاَنَا اخْتَـرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى (13)
اور میں نے تجھے پسند کیا ہے جو کچھ وحی کی جارہی ہےاسے سن لو۔
پھر ہدایات جاری ہونا شروع ہوئیں —–
کیا اس گفتگو کو وحی نہیں کہا جائے گا ؟
اور کیا یہ وحی غیر متلو نہیں تھی کہ جو “کتاب ” حصہ نہ بنی –
اسی طرح موسی علیہ السلام جب فرعون کے دربار میں جاتے ہیں تو وہاں جب جادوگر سامنے آتے ہیں اور موسی ڈر جاتے ہیں تب ان کو ایک کے بعد ایک ہدایت اور “انسٹرکشنز ” آنا شروع ہوتی ہیں ، ذرا ان کو تو پڑھئے :
فَاَوْجَسَ فِىْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى (67)
پھر موسٰی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔
قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى (68)
ہم نے کہا ڈرو مت بے شک تو ہی غالب ہوگا۔
وَاَلْقِ مَا فِىْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ۖ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سَاحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِـحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى (69)
اور جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دے کہ نگل جائے جو کچھ کہ انہوں نے بنایا ہے، صرف جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا جہاں بھی ہو۔
تو کیا اس کو وحی نہ کہا جائے گا ؟
اور کیا یہ غیر متلو نہیں تھیں ؟
بات یہیں تک نہیں رہے گی ..قران تو غیر نبی کو بھی وحی کرنے کا دعوی کرتا ہے …یہی ہمارے نبی موسی تھے نا جب بچے تو تو ان کو ان کی والدہ نے دریا میں ڈال دیا تھا …..قران میں ہے
اِذْ اَوْحَيْنَـآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓى (38)
جب ہم نے تیری ماں کو وحی کی تھی –
اب اگر دور دراز کی تاویل بھی کر لی جائے تو وحی کا کیا مطلب لیا جائے گا ؟
ظاہر ہے وحی وحی ہوتی ہے ….اور خود جب وحی بھیجنے والا کہہ رہا ہے کہ ہم نے وحی کی تو انکار کا کیا قرینہ اختیار کیا جائے گا ؟
پھر ایک اور محترم خاتون تھیں سیدہ مریم …قران میں ان پر وحی کا بھی ذکر ہے ذرا پڑھئے تو سورہ مریم :
فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِـهَآ اَلَّا تَحْزَنِىْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (24)
پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے سے ایک چشمہ پیدا کر دیا۔
وَهُزِّىٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَـةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (25)
اور تو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی۔
فَكُلِـىْ وَاشْرَبِىْ وَقَرِّىْ عَيْنًا ۖ فَاِمَّا تَـرَيِنَّ مِنَ الْبَشَـرِ اَحَدًا فَقُوْلِىٓ اِنِّـىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْـمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا (26)
پس کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر، پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے سو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
اب سوال یہ ہے سیدہ مریم کو جو یہ ہدایت دی گئیں اگر براہ راست پہاڑ کے دامن میں موسی علیہ السلام کی طرح خود رب نے براہ راست دیں تو تب بھی وحی اور اگر فرشتے کے ذریعے دی گئیں تو تب بھی وحی ….تو کیا مریم اور والدہ موسی کو کی گئی وحی بھی کہیں متلو تھی یعنی تلاوت والی ؟
اور غیر متلو تھی تو نبی کریم کو کیوں قران کے علاوہ دیگر ہدایات کے لیے وحی نہیں ہو سکتی … اور وہ وحی کیونکر رب کا حکم اور مقدس نہ سمھجھی جائے گی ؟؟
اور یہی نہیں دیگر انبیاء کو بھی اسی وحی آتی رہی کہ جو ان پر نازل شدہ کتاب کا حصہ نہ بنی ..سیدنا یوسف علیہ السلام تو بھی بچپن میں تھے اور کنویں میں گرے بے یار مدد گار کہ وحی آ گئی :
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْـمَعُـوٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِىْ غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَـآ اِلَيْهِ لَـتُنَبِّئَنَّـهُـمْ بِاَمْرِهِـمْ هٰذَا وَهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (یوسف -15)
جب اسے لے کر چلے اور متفق ہوئے کہ اسے گمنام کنوئیں میں ڈالیں، تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ تو ضرور انہیں ایک دن آگاہ کرے گا ان کے اس کام سے اور وہ تجھے نہ پہچانیں گے۔
کیا یہ وہی غیر متلو وحی نہیں ہے ؟
اب رہی بات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو آپ پر جو قران نازل ہوا اس کی شرح اور جزیات آپ کو بھی اسی وحی غیر متلو کی مدد سے سمجھائی گئی جو آپ نے ہمیں بتلائی ….اگر آپ پر قران کے علاوہ وحی کے نزول سے انکار کر دیا جائے تو پورا کا پورا اسلام ہی مشکوک ہو جائے گا – دوست رجم کی سزا سے الجھتے ہیں کہ قران میں اس کا ذکر نہیں ….بھائی قران میں تو پھر بہت سی باتوں کا ذکر نہیں …..
دیکھئے قران میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے …
.اب کہاں سے کاٹا جائے ؟
کتنی مقدار کی چوری پر کاٹا جائے ؟
کوئی ذکر نہیں ….ظاہر ہے آپ کے پاس دو راستے ہیں ، قران کے اس حکم کا انکار کردیجئے یا پھر حدیث کی طرف رجوع کیجئے کہ جس میں اس کی تمام تر تفصیل موجود ہے …. اب اگر آپ وحی غیر متلو کا انکار کرتے ہیں تو لازمی نتیجہ یہی آئے گا یہ قانون سازی اللہ نے نہیں کی بلکہ ایک بشر نے کی ہے -…
مختصر بات یہ ہے کہ انبیاء کی طرف دو طرح کی وحی آتی رہی ..ایک وہ جو ان پر نازل شدہ کتاب کا حصہ بنی ، دوسری وہ جو اسی کتاب کی شرح ور دیگر معاملات میں رہنمائی کے واسطے آتی تھی ….جو کتاب ہوئی اسے وحی متلو کہتے ہیں یعنی ایسی وحی جو تلاوت کی جا سکے ، دوسری جو کتاب نہ ہوئی اسے وحی غیر متلو کہتے ہیں ، یعنی ایسی وحی جو تلاوت نہ کی جا سکے –
یہاں وضاحت کے لیے لکھتا چلوں کہ وحی کی اس دوسری قسم کے بھیجنے کے تین راستے تھے ، پہلا یہ کہ کوئی فرشتہ لے کے آتا – دوسرا یہ کہ الہام کی شکل میں ہوتی ..تیسرا خواب کی صورت میں –

فیس بک تبصرے