حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

گوری بہو- بشریٰ نواز

شازیہ بیگم۔ کافی دیر سے نیلم۔ باجی کا انتظار کر رہی تھیں دو بار کال بھی کی دونوں بار نیلم۔ کا ایک ہی۔ جواب تھا بس باجی راستے میں ہوں کون سا اتنا راستہ ہے جوکٹنے میں۔ ہی۔ نہیں۔ آ رہا وہ بہت بے چینی۔ سے نیلم۔ کا انتظار کر رہی تھیں۔
نیلم۔ اچھے رشتے کروانے میں کافی اچھی شہرت رکھتی تھی یہ اٹھوا ں رشتہ تھا جو وہ آج شازیہ بیگم کو دکھانے لے کے جانے والی تھی اور اسے پوری امید تھی کہ یہ لڑکی۔ شازیہ بیگم کو ضرور پسند آ جاۓ گی اور رشتہ ہونے کی صورت میں دونو ں طرف سے اچھی۔ رقم مل جاۓ گی کتنی ہی ضرورتیں اس کے سا منے تھیں
دوڑ بیل کی آواز سن کے جیسے شازیہ بیگم کی جان میں جان ای اتنی دیر کر دی تم نے نیلم۔ مجھے آج با زار بھی جانا ہے اور ابھی سے بتا دو لڑکی کیسی ہے
نیلم نے گہرا سانس لیا اور بولی باجی۔ میں۔ کتنی۔ لڑکیاں آپ کو۔ دیکھا چکی۔ ہوں پچھلی بار جو لڑکی۔ دکھائی۔ وو مجھے تو بہت اچھی۔ لگی پڑھی۔ لکھی۔ جاز ب نظر اچھا پیسے والا خاندان۔ اور کیا چاہے آپ۔ کو۔
شازیہ بیگم۔ کے ماتھے پے دس بل پڑ گے دیکھو ۔نیلم۔ تمارا تو بیٹا ہے نہیں تم۔ کیا جانو۔ بیٹے کی۔ ما ں کے دل۔ میں۔ کیسے کیسے ارمان۔ ہوتے ہیں۔ اب بھلا بتاؤ میرے واجد میں کیا کمی۔ ہے جو۔ میں۔ وہ لڑکی پسند کر لیتی۔ تم نے۔ دیکھا نہیں۔ اس کا رنگ سانولا تھا اور جو۔ اس سے پہلے دکھائی اس کا قد بہت کم تھا اب اگر ایسی۔ ہی۔ لڑکی۔ مجھے بہو بنانی۔ ہوتی تو میری بھانجیاں بھی ہیں۔ مگر کیا کروں ان میں بھی ایک سانولی ہے اور دوسری کا قد کم ہے
چلیں باجی بچی دیکھ لیں۔ اب اگے جو اللہ‎ کا حکم۔
شکر کے واجد کا رشتہ ہو ا
آج شازیہ کی بیٹی نورین کو۔ لوگ دیکھنے انے والے تھے نیلم ہی۔ لڑکے والوں کے ساتھ آ رہی۔ تھی۔ اس بار بھی نیلم کتنے رشتے لے کر آتی رہی۔ جو رشتہ شازیہ بیگم کو پسند آتا وہاں سے انکار ہوجاتا
کل جو۔ لوگ نورین۔ کو دیکھ کے گے تو شازیہ بیگم کو۔ بہت امید تھی کہ نورین۔ ان کو پسند ای ہے انہوں نے خا طر یں بھی تو بہت کیں باتوں باتوں میں ڈھیر جہیز کا لالچ بھی دیا اور پارلر سے ہلکا میک اپ بھی کروایا نیلم کے فون کا انتظار کرتے کرتے اکتاہٹ سی ہونے لگی۔ تو خود فون کر لیا
نیلم۔ تم نے بتایا نہیں کل جو فیملی ای ان کو نورین پسند ای نہ ؟
شازیہ باجی میں نے ان کو بہت سمجھایا نورین کی بہت تعریفیں کیں لیکن ان کو نورین۔ پسند نہیں ای
شازیہ بیگم۔ بے دم۔ سی ہو گیں ارے کیا کمی ہے میری بیٹی میں۔ وہ ہمت کر کے چلائیں
میری۔ نظر میں تو۔ کوئی۔ کمی۔ نہیں۔ لیکن۔ ان کوگوری بہو چاہے
نیلم۔ نے سادگی سے کہا اور فون بند کر دیا

فیس بک تبصرے