حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

سونے کے انڈے – ابن فاضل

قطعہ نظر اس بحث کے کہ مرغیاں پالنا اور انڈے حاصل کرنا ڈوبتی ملکی معیشت پر کچھ مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے یا نہیں اور یہ کہ اس سے لوگوں کا معیارِ زندگی کس قدر بہتر ہوسکتا ہے ، کیمسٹری اور انجینئرنگ سے متعلق ایک محب وطن پروفیشنل ہونے کے ناطے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ انڈہ اور اس سے حاصل کردہ کچھ بیش قیمت مرکبات کی بابت آپ لوگوں کو کچھ معلومات فراہم کروں ،کہ جن کا استعمال نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں عام ہے۔اور یہ بجائے خود ایک کروڑوں ڈالر کی صنعت ہے جس میں ہم پاکستانیوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ،جس کی بڑی وجہ شاید ضروری علم کا فقدان ہے۔

مرغی کے انڈے سے حاصل کیے جانے والے مرکبات اور ان کی قدر اور استعمال درج ذیل ہیں

۱: خشک انڈہ یا انڈے کا پاؤڈر( Whole egg powder ):-

انڈے کا پاؤڈر ،انڈے کے نعم البدل کے طور پر دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آملیٹ ،کیک اور ہر وہ شے جو تازہ انڈے سے بنتی ہے ،بعینہِ بنائی جا سکتی ہے ،بالکل خشک دودھ کی طرح۔ انڈہ کو ایک سادہ اور کم قیمت مشین سپرے ڈرائیر( spray dryer ) کی مدد سے پاوڈر کی شکل دی جا سکتی ہے۔ ایک انڈے کا اوسط وزن ۶۰ ساٹھ گرام جبکہ اس میں پانی کا تناسب تقریباًُ تین چوتھائی ہوتا ہے ۷۰ ستر انڈوں سے ایک کلو پاؤڈر باآسانی تیار کیا جا سکتا ہے ۔ اگر بڑھا چڑھا کر بھی اندازہ لگایا جائے تو ایک کلو پاؤڈر بنانے کا خرچ سو روپے فی کلو سے زیادہ نہ ہوگا۔گویا ۶۰۰ چھ سو روپے میں جو پاؤڈر تیار ہوگا اس کی قیمت فروخت کم از کم ایک ہزار روپے ہے۔ پاکستان میں افواج پاکستان ہر سال بڑی تعداد میں یہ خریدتی ہیں ۔اس کے علاوہ عالمی منڈی میں اس کی بہت مانگ ہے۔

۲: ایگ پروٹین( Egg protein):-

ایگ پروٹین تقریباً ہر فوڈسپلیمنٹ کا لازمی جزو ہے۔ باڈی بلڈرز بالخصوص اور کھلاڑی بالعموم اسے اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔ ایک انڈے میں اوسطاً سات گرام پروٹین ہوتی ہے -یعنی قریب ۱۵۰انڈوں سے ایک کلو ایگ پروٹین حاصل ہوتی ہے ۔ انڈوں سے پروٹین علیحدہ کرنے کا عمل بہت زیادہ مشکل یا پیچیدہ نہیں ،تھوڑی سی تربیت کے بعد ایک میٹرک پاس باآسانی یہ کام کرسکتا ہے۔ ۱۵۰انڈوں کی کل مالیت قریب ایک ہزار اور ان سے پروٹین علیحدہ کرنے کا خرچ زیادہ سے زیادہ پانچ سو تصور کیا جائے ،جو کہ فی الحقیقت بہت زیادہ ہے، تو بھی اس کی پیداواری لاگت پندرہ سو روپے پاکستانی بنتی ہے۔ ایگ پروٹین کی عالمی منڈی میں قیمت تقریباً پچاس ڈالر یعنی موجودہ شرح سے سات ہزار روپے بنتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں پرچون میں یہ تقریباً دس ہزار روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔

۳: ایگ پروٹین ہایڈرولائیزیٹ:( Egg protein hydrolysate):-

ایگ پروٹین ہائیڈرولائزیٹ ، ایگ پروٹین سے تیار گیا ایک مرکب ہے جو بالوں اور جلد کی صحت اور نشونما کیلئے بہت مفید ہے۔ آجکل تقریباً سبھی جدید مہنگے شیمپوز میں ایگ پروٹین ہائیڈرولائزیٹ بطور خاص شامل کیا جاتا ہے۔ اس کا بنانا بھی کوئی بہت زیادہ پیچیدہ عمل نہیں ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ یہ ایگ پروٹین کو ایک پریشر کر میں کچھ کیمیائی مرکبات کے ساتھ پکانے جیسا عمل ہے ۔ محتاط اندازہ کے مطابق اس کی پیداواری لاگت ۲۵۰۰/- پچیس سو پاکستانی روپے فی کلو ہوگی یا شاید اس سے بھی کچھ کم ۔ پاکستانی مارکیٹ میں اس کی ہول سیل قیمت دس ہزار روپے کلو ہے۔ اور فی الحقیقت لاکھوں ڈالر کی سالانہ ایگ پروٹین ہائیڈرولائزیٹ درآمد کی جاتی ہے۔

روغن بیضہ مرغ :(Egg yolk oil ):-

یہ انڈے کی زردی سے حاصل کیا گیا تیل ہے ،جس کی ادویات بطور خاص یونانی ادویات میں بہت مانگ ہے ۔ کیمیائی طور پر یہ زیتون کے تیل اور روغن بادام سے ملتی جلتی چیز ہے۔ یہ بھی جلد اور بالوں کیلئے بہت مفید ہے ۔ اس کے علاوہ کھائی جانے والی ادویات اور فوڈ سپلیمنٹ میں بھی ملایا جا سکتا ہے۔ ہمارے دیسی حکماء دیسی انڈے کی زردیوں سے بذریعہ حرارت یہ تیل زمانہ قدیم سے نکالتے آئے ہیں ۔ لیکن بذریعہ حرارت اس کے استخراج سے بہت سے مفید مرکبات ضائع ہوجاتے ہیں ۔ آجکل بغیر حرارت ، مختلف کیمیائی مرکبات کی مدد سے (solvent extraction ) اس کو باآسانی نکالا جا سکتا ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے استخراج کے بعد زردی کا بعد باقی بچا ہوا مواد ،بنا کسی تضعیف، پروٹین نکالنے کیلئے دستیاب ہے۔ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت بھی دس ہزار روپے کلو ہے۔

ایگ لیسیتھین. : ( Egg lecithin ) :-

ایگ لیسیتھین بھی انڈے کی زردی سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک طرح کا قدرتی ایملسی فائر ہے جو مختلف ایسی ادویات کو جو پانی میں حل نہیں ہوتیں ، حل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ جدید ادویات میں بطور خاص ٹیکوں کی شکل میں لگائی جانے والی ادویات کی اثر پذیری میں اضافہ کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ مہنگے اور بے ضرر کاسمیٹکس کا بھی لازمی جزو ہے ۔ گو کہ اس کا حاصل کرنا تھوڑا پیچیدہ عمل ہے لیکن اس کی انتہائی پرکشش قیمت فروخت اس پیچیدگی اور مشکل پر ہاوی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت ۲۵۰۰۰ پچیس ہزار روپے کلو تک ہے۔

احباب گرامی دنیا بھر کے صنعتی ادارے بیشقدر (value added) مصنوعات کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ کم سے کم پیداواری لاگت سے محض علم اور ٹیکنالوجی کے بل پر زیادہ سے زیادہ منافع اور زرمبادلہ کمایا جا سکے ، یہ بھی بالکل ایسا ہی میدان ہے۔ جس میں انتہائی کم لاگت اور نسبتاً کم درجہ کی ٹیکنالوجی سے نہ صرف بہت سا زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے بلکہ کمایا بھی جا سکتا ہے ۔ ابھی ایسے درجنوں ایسے دیگر میدان غیر تسخیر شدہ پڑے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں ہم ان پر بھی وقتاً فوقتاً روشنی ڈالتے رہیں گے۔ آئیں سب ملکر وطن عزیز کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں

فیس بک تبصرے