حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

عمران حکومت کے پہلے سو دن – حسام درانی

۔
پاکستان کی تاریخ میں جولائی دوہزار اٹھارہ کے الیکشن ایک ایسی صورتحال اختیار کر گئے کے اندورن ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کے بھی تمام افراد و حکومتوں کی نظر ان پر تھی کیونکہ سنہ سنتالیس کے بعد پہلی دفعہ ایسا ہونے جا رہا تھا جو کے اس ملک کی تقدیر بدل سکتا تھا۔ اور آخر کار اپنی بائیس سالہ جدوجہد کے بعد پاکستان کرکٹ کے سب سے کامیاب کپتان بانوے ورلڈ کپ کے فاتح اور پی ٹی آئی کے سربرا ہ کامیاب ہوے اور سلطنت مدینہ ثانی کا جو خواب انہوں نے بائیس سال پہلے دیکھا تھا اس کی بنیاد رکھ دی گئی۔
اگر ہم پچیس جولائی سےتا دم تحریر کالم دیکھتے ہیں تو کل (124) دن بنتے ہیں اور اگر نیازی صاحب کے حلف اٹھانے کے دن سے دیکھیں تو یہ کل (100) سو دن بنتے ہیں، آج کے اس کالم میں ان گیارہ نکات کو دیکھ لیں جن کی بنیاد پر نیازی صاحب نے اپنی جماعت کا الیکشن منشور یا مینیفیسٹو تشکیل دیا تھا۔ جسکا عنوان تھا ” دو نہیں ایک پاکستان”
تعلیم:- ٹیکس وصولی:- سرمایہ کاری :- زراعت:- ماحولیات و سیاحت:- صحت:- کرپشن:- روزگار:- وفاق کی مظبوطی:- پولیس اور عدلیہ:- خواتین:-
یہ تو ہوئے وہ گیارہ پوائینٹ جن کی بنیاد پر الیکشن کمپین کی گئی جن کو ملک کے کونے کونے میں پزیرائی حاصل ہوئی اور ان کی ہی بنیاد پر الیکشن جیتا گیا، اب جیسے کے دنیا کے تمام ممالک میں ہوتا ہے کے جو بھی جماعت حکومت بناتی ہے وہ منشور کا نفاذ اپنے دور حکومت میں کرتی ہے لیکن ساتھ ساتھ کسی بھی حکومت کے لیے پہلے سو دن انتہائی مشکل ہوتے ہیں کیونکہ ان ہی دنوں میں حکومت کی ترجیحات اور کام کرنے کی روش کا اندازہ ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے نیازی صاحب نے دور حاظر کے انتہائی پڑھے لکھے اور ذہین و تجربہ کار افراد کے ساتھ مل اپنی حکومت کے پہلے سو دن کا پلان پیش کیا جن میں سرفہرست ” جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا تھا”۔ آئیے دیکھتے ہیں کے موجودہ حکومت نے اپنے پہلے 124 اور عمران خان صاحب نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے 100 دن میں ملک و قوم سے کیے گیے وعدے اور اپنا چھ نقاطی ایجنڈا کس حد تلک پورا کیا۔
انداز حکمرانی میں تبدیلی:-
کیونکہ پاکستان میں اشرافیہ و حکمران طبقہ کا پاکستان الگ اور عوام کا الگ، قوانین کے حساب سے ہے اس لیے سب سے پہلے دو نہیں ایک پاکستان بنایا جاے گا جسمیں تمام افراد بشمول حکمران بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ اداروں کو مظبوط بنانے کے ساتھ ساتھ فعال بھی کیا جاے گا تاکہ وہ اپنی آزادی و دیانتداری کے ساتھ اپنا کام کریں، سول سرونٹس کے کام کا طریقہ کار تبدیل کیا جاے گا۔ بلا تفریق تمام افراد کا مواخذہ کیا جاے گا۔ پولیس اور عدلیہ کے نظام میں بھی تبدیلی لائے جاے گی۔ نیب کو مظبوط کیا جاے گا، ملک کی لوٹی گئی تمام دولت بلاتفریق پہلے سو دنوں میں واپس لائی جائے گی، بالخصوص وہ رقم جو کے پاکستان سے باہر آفشیور کمپنیوں کی شکل میں موجود ہے ۔ واگزار کی گئی رقم ملک سے غربت کے خاتمہ اور ملکی قرضہ اتارنے کے کام میں استعمال کی جاے گی، اقتدار کو عوامی لیول تک لے جایاجاے گا اور پورے پاکستان میں کے پی ماڈل کو نافذ وعمل کروایا جاے گا، پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے مظبوط بنایا جاے گا، ہائی کورٹ کے ساتھ مل کو فوری اور سستا نظام عدل بنایا جاے گا،
اب اگر اس پہلے پوائینٹ کو ہی دیکھا جاے تو پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سو دن میں ہی اس مرکزی نقطہ اور اس کے ضمنی نکات کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ اسی دن ہوا ہو گیا جس دن اس سلطنت مدینہ ثانی میں پروٹوکول کے نام پر سڑکوں کی بندش اس حد تک ہو گئی کے عوام چیخ اٹھے۔ ضمنی نکات کی طرف اگر جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کے قانون کی پاسداری اسی طرح عوام اور ٖغریب کے حصے میں ہی ہے جیسا کے اس سے پہلے کی حکومتوں میں تھا، جبکہ پہلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے افراد بشمول وزیر اعظم کے انتہائی قریبی لوگ بھی اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے نظر آئے۔
پہلے سو دنوں میں اداروں کو مظبوط کرنے دعوی بھی ہوا ہو گیا اس وقت ملک عزیز میں ایسا کوئی شخص و ادارہ موجود ہی نہیں جسکو کے اپنے کام کو پتہ ہو، ہر شخص جو کے براہ راست یا بلاواسطہ حکومت سے کوئی تعلق رکھتا ہے اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناے بیٹھا ہے اور ایک دوسرے کے کاموں میں ٹانگ اڑانا اپنی حق اولین سمجھتا ہے۔ نیازی حکومت کے دور میں سول افسران نے حکومتی رویہ دیکھ کر تقریبا کام کرنا ہی چھوڑ دیا اور بات تو تڑاخ تک پہنچ گئی ، جسکا نشانہ نیازی صاحب کے ہردل عزیز ، وزیر ریلوے بنے جو کے اپنی دشنام درازی و رعونت کے باعث نا صرف اپنی عزت کروا بیٹھے بلکہ محکمہ کے دیگر افسران کے اذہان میں بھی نئی حکومت کے بارےمیں بہت سے سوالات چھوڑ گئے۔ پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے پاک کرنے کا دعوی کی نفی بلکہ سلطنت مدینہ ثانی کی پیشانی پر ایک داغ خاتون اول کے آبائی شہر کے پولیس افسر کے ساتھ ہونے والے واقع اور حالیہ دنوں میں اپنی حکومت کے مظبوط شخص سینیٹر سواتی صاحب کی طرف سے کی جانے والی حرکت تھی، اگر ان 100 دنوں میں ہونے والے واقعات جو کے فقط پولیس کے حوالے سے ہیں لکھنے بیٹھ جائیں تو بہت سے کاغذ کالے ہو جایئں۔
نیب کا دائرہ اختیار بڑھانے اور لوٹے ہوے پیسہ کو پاکستان واپس لانے کے عمل کو اور خاص الخاص بیرون ملک موجود آفشیور کمپنیوں کا تو اس سلسلے میں حکومتی جماعت کے بہت سارے لیڈران بشمول نیازی صاحب کے بیانات وہ تقاریر ریکارڈ پر ہیں، ان میں سے جناب مراد سعید صاحب کا ایک بیان ” حکومت بنتے ہی پہلے دن کپتان 200 ارب ڈالر پاکستان لے کر آئے گا 100 ارب آئی ایم ایف کے منہ پر مار کر تمام پاکستانی قرضہ ختم کر دے گا اور باقی کا 100 ارب عوام کی ٖفلاح و بہبود پر خرچ کرے گا ، مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ گیا۔ اور جب وقت قیام آیا تو حکومت فورا سجدہ میں گر گئی کے یہ تو سیاسی بیان تھا، اسی طرح یکے بعد لوٹے ہوے پیسے کو واپس لانے والے بیانات بھی اسی طرح واپس ہوے جیسے کے ہارے ہوے کھلاڑی منہ لٹکاے پویلین کو واپس ہوتے ہیں۔
اسی دوران کرپٹ افراد کے خلاف دیئے گئے بیانات اور انتہائی سخت رویہ رکھنے کے باوجود حکومت سازی میں پاکستانی سپریم کورٹ سے سزا یافتہ شخص کی شبانہ روز محنت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ پنجاب میں جب حکومت سازی کا عمل شروع ہوا تو اسی صوبے کے سب سے بڑے ڈاکو کو نا صرف گلے لگایا گیا بلکہ اسے پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنوا کے اس کے اور اسکے بیٹے کے خلاف نیب میں چلنے والے تمام مقدمات کو بریک لگوا دی گئی۔ علیم خان صاحب کے خلاف چلنے والے تمام مقدمات نا جانے کیوں اتنی سست روی کا شکار ہیں جیسے کے تمام فائلیں کسی کچھوے کی پشت پر رکھ دی گئی ہیں۔ ان کے مقابلے میں شریف برادان و زرداری پر تو ٹیڈی شفٹوں میں بھی کام چل رہا ہے لیکن اب تک کی معلومات اور حالات کے مطابق یہ کام صرف اور صرف میڈیا کمپین اور کریکٹر اسیسینیشن سے آگے نہیں بڑھ سکا، جبکہ دوسری طرف نیازی صاحب کی ہمشیر جو غیر شادی شدہ اور بےروزگار ہونے کے باوجود قریب قریب 80 ارب روپے کی جائیداد کی مالکہ نکلیں، اب ہونا تو یہ چائیے تھا کے بلاتفریق احتساب کے عمل سے انکو گزارا جاتا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی پنجابی کی ایک مثال ہے ” ماڑا ویکھ کہ تاں مینوں گسہ ای بڑا آوندا اے”
ملکی قرضہ اتارنے کے حوالے اور خود انحصاری کے بابت جو بلند و بالا دعوے کیے گئے وہ کیا ہوے، جہاں ایک وقت میں قرضہ لینا گالی سمجھا جاتا تھا وہیں اس چشم فلک نے وہ نظارا بھی دیکھا جب سلطنت مدینہ ثانی کے والی قومی ٹی وی پر آ کر قرضہ ملنے کی امید پر پوری قوم کو مبارکبادیں دیتے رہے، (ویسے وہ امید ابھی تلک بر نہیں آئی جسکے باعث خلیفہ سلطنت کو مختلف ممالک کا بارہا دورہ گداگری پر مجبور کر دیا گیا ہے)،
انصاف کا جو بول بالا حالیہ دنوں میں ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اس بابت بات بھی کرنا توہین عدالت کے ذمرے میں آتا ہے اس لیے عوام کو سہل و تیز رفتار عدل و انصاف فراہم کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔
فیڈریشن کو مظبوط بنانا:ـ
نیازی صاحب نے فیڈریشن کو مظبوط بنانے کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا دیا جو کے حکومت بنتے ہی پہلے سو دن میں پورا ہونا تھا،
کے پی کے اور فاٹا کا الحاق، بلوچستان میں سیاسی و معاشی مصالحت، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا، کراچی کی ظاہری و سیاسی صورتحال بدلنا، پاکستان کی غریب ڈسٹرکٹس کی معاشی حالت درست کرنا
اب اگر ہم دوسرے نقطہ پر بات کرتے ہیں تو یہاں بھی ہمیں سوائے باتوں، تقاریر و بیانات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، فاٹا کے پی کے الحاق اسی طرح التواء کا شکار ہے، بلوچستان میں سیاسی شورش اسی طرح موجود ہے جسکا فائدہ اٹھا کر نیازی صاحب نے سینٹ الیکشن میں زرداری صاحب کے ہمراہی میں بازی ماری تھی، جنوبی پنجاب میں نیازی صاحب نے ووٹوں کی ایک کثیر تعداد جس نعرے کی بنیاد پر لیے تھے اس کو پہلے سو دن میں صوبہ بنانا تو دور ابھی تک اسپر ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا، اب تو وہ عذر لنگ بھی نہیں رہا کے پنجاب میں ہماری حکومت نہیں ہے۔ بلکہ اب تو حکومت کی اتحادی بھی اس منصوبہ کے خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں کے یہ ممکن نہیں ہے لیکن جنوبی پنجاب کے وہ تمام سیاست دان جنہوں نے صرف اسی ایجنڈے پر اپنی سابقہ جماعتوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کے ساتھ ایک گروپ کی شکل میں الحاق کیا تھا ان تمام کی اس معاملے میں طویل خاموشی پریشانی کا باعث ہے۔
اس وقت پاکستان کے صدر مملکت اور سندھ کے گورنر دونوں کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر اب بھی کراچی کی حالت میں بہتری نا آئے تو پھر تمام الزام راقم کے سر ڈال دینا چائیے۔
جب پہلے چار پوائینٹس کا کچھ نا ہو سکا تو پھر وہ معاشی طور پر بدحال ڈسٹرکٹس کس کھیت کی مولی ہیں کے ان کے بابت کوئی کام کیا جاے۔
معیشت کی بحالی:-
سب سے پہلے ایک کروڑ نوکریوں کی بات کر لی جاے جو کہ بیس سال سالانہ کے حساب سے ہیں، جب یہ بات کی گئی تھی تو یار لوگوں نے ٹھٹھا اڑایا لیکن جماعت کے انتہائی پڑھے لکھے لوگوں نے ایسے ایسے طریقے بتاے کے راقم بھی سوچ میں پڑ گیا کے شاید وہ غلطی پر ہے لیکن آج اس کالم کی تحریر کے وقت تک کا حساب کچھ اسطرح سے ہے۔
اگر بیس لاکھ سالانہ نوکریاں ہوں تو ہر دن کے حساب سے پانچ ہزار چار سو اناسی 5479 اورسو دن میں یہ تعداد 547،945 پانچ لاکھ سنتالیس ہزار نو سو پنتالیس بنتی ہیں، اگر میرے کسی بھائی کو اتنی نوکریوں کا علم ہے تو ضرور بتاے تاکہ احقر کے علم میں بھی اضافہ ہو۔
بجلی وہ گیس کے دن بدن بڑھتے ہوے نرخ اور ٹیکسوں کی بھرمار گھریلو صنعت کے لیے انتہائی مضر ہیں، نئی حکومت کے پلان کے مطابق اس ہی ذمرے میں ترقی ہونی تھی لیکن ہنوز دلی دور است۔
پچاس لاکھ گھروں کا پلان جو کے پہلے سو دن میں شروع ہوا امید تھی کے اس ایک کام کے شروع ہونے سے بہت سارے عوامل یک مشت شروع ہو جائیں کے اور پاکستان میں غریب کو سر چھپانے کے ساتھ ساتھ روزگار کی ایک کثیر تعداد بھی میسر آ جاے گی لیکن وہ کام بھی ابھی تک شروع نا ہو سکا احقر کی نظر میں یہ بھی آشیانہ اسکیم یا اس سے بھی بڑا مسلہ بن جائے گا، جس پر ایک تفصیلی گفتگو آیندہ کالم میں کی جاے گی۔ پاکستان کو کاروبار کے لیے پسندیدہ ملک بنانے پر زور دیا جاے گا لیکن حکومت کے پہلے سو دنوں میں ہی تمام کاروباری حلقے ایک بے یقینی کی فضاء میں گھٹ کر رہ گئے اور غیر ملکی سرمایہ کار تو نکلے ہی نکلے پاکستانی بھی اپنا سرمایہ نکالنے کے چکروں میں پڑ گئے ہیں۔
زراعت اور پانی کےوسائل کو بڑھانا:-
حکومت نے کاشتکاروں کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کرنا تھا تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جاے، لیکن حالات اس کے بر عکس ہوے، جہاں پر کاشتکار امید لگاے بیٹھے تھے کے لاگت میں کمی آئے گی وہیں پر کھاد، بیج، و کرم کش دوائیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اوسان خطا کر دئیے، رہی سہی کسر ڈیزل کی انتہائی بلندی کو چھوتی ہوئی قیمت نے پوری کر دی۔ پانی کے حوالے سے جہاں ہم نے پچھلے پانچ سالوں میں 350 ڈیمز دیکھے وہیں پر انشاءاللہ دیامیر بھاشا ڈیم سے بھی اسی پارٹی کے دور حکومت میں پانی حاصل کریں گے وہ بھی سنہء 2028 میں جیسے اس وقت ہم کے پی کے میں بناے جانے والے ڈیمز سے پانی حاصل کر کے اپنی فصلیں لگا رہے ہیں۔ نیازی صاحب کے حکومت سنبھالنے کے بعد کم از کم یہ دوسری فصل ہے جس کو لگاتے ہوے تمام کاشتکار خون کے آنسو روو رہے ہیں (سرسوں اور گندم)
سماجی خدمت کو بڑھانا:-
تعلیم، و صحت کے بارے میں موجودہ حکومت نے انتہائی زور دے رکھا ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں جب کے پی کے میں ان کی حکومت تھی اس محاذ پر ان کی، کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے پورا صوبہ پانچ سالوں میں ہی تعلیم یافتہ ہو گیا تھا اور صحت کی سہولیات اتنی عمدہ ہو گئی تھیں کے بیرون ملک سے لوگ علاج کی غرض سے پاکستان آتے تھے، لیکن مرکز میں حکومت بنانے کے بعد ابھی تک شاید انکو اس بات کا ادراک نیں ہوا باقی ماندہ پاکستان میں بھی وہ ہی سہولیات ہونی چاہیے جو کے وہ اپنے پچھلے دور حکومت میں ایک صوبے کو دے چکے ہیں ۔
اپنی صوبائی حکومت کے دوران جو ایک ارب درخت لگاے تھے اب اس سے بڑھ کر یہ پورے پاکستان میں دس ارب درخت لگانے کا پروگرام شروع کریں گے امید ہے کے موسم بہار میں اس شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جاے گا۔

اگر ہم حکومت کے پہلے سو دن کی حالت دیکھیں تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کے اس حکومت میں کسی بھی معاملے میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، کیونکہ یہ تمام کام قانون سازی کے بغیر نہیں ہو سکتے اور حکومت کی سنجیدگی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے کوئی ایک بل بھی قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش نہیں کیا گیا اور مستقبل قریب میں بھی اسکا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، کیونکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کسی قسم کی قائمہ کمیٹیاں ابھی تک تشکیل نہیں دی جا سکیں جن کی توسط سے قانون سازی کا عمل شروع ہوتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسلہ حکوت کے لیے پبلک اکاونٹ کمیٹی کا اعلان اور اسکے سربراہ کا چناو ہے جو کے اس حکومت کے لیے حلق میں پھنسی چھچھوندر کی مانند ہو گیا ہے نگلے تو مرے اگلے تو مرے ۔

فیس بک تبصرے